نجی ایندھن فروخت کرنے والی کمپنی نیارا انرجی نے ہفتہ ۳ ا؍کتوبر سے ملک بھر میں اپنے مراکز پر پیٹرول کی قیمت میں ۵ ؍روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں ۳ ؍روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 9:54 PM IST | Mumbai
نجی ایندھن فروخت کرنے والی کمپنی نیارا انرجی نے ہفتہ ۳ ا؍کتوبر سے ملک بھر میں اپنے مراکز پر پیٹرول کی قیمت میں ۵ ؍روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں ۳ ؍روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔
نجی ایندھن فروخت کرنے والی کمپنی نیارا انرجی نے ہفتہ ۳ ا؍کتوبر سے ملک بھر میں اپنے مراکز پر پیٹرول کی قیمت میں ۵ ؍روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں ۳ ؍روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ صنعتی ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل اور تیار شدہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کمپنی کی خریداری لاگت بڑھ گئی تھی، جس کے بعد خردہ قیمتوں میں یہ اضافہ کیا گیا ہے۔’
یہ بھی پڑھئے:انتم پنگھال نے خواتین کے ۵۳؍کلوگرام کشتی مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیت لیا
نیارا انرجی ملک بھر میں۷؍ہزار سے زائد پیٹرول پمپ چلاتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے قیمتوں میں تازہ اضافہ بڑھتی ہوئی عالمی توانائی لاگت اور پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ فروخت قیمت کے درمیان فرق کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی نے رواں سال دوسری مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی کی ہے۔
اس سے قبل ۲۶؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو بھی نیارا انرجی نے پیٹرول کی قیمت میں ۵ ؍روپے اور ڈیزل کی قیمت میں ۳ روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ اس وقت مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث توانائی کی رسد متاثر ہونے اور عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے ایندھن کی لاگت بڑھ گئی تھی۔ تاہم عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کے بعد کمپنی نے یکم جولائی کو مارچ کا اضافہ واپس لیتے ہوئے پیٹرول ۵ ؍روپے اور ڈیزل ۳؍ روپے فی لیٹر سستا کردیا تھا۔
اب عالمی توانائی منڈی میں دوبارہ قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کے بعد نایارا نے ایک مرتبہ پھر قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے کمپنی کے مراکز سے پیٹرول اور ڈیزل خریدنے والے صارفین کے روزمرہ اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوگا۔ نیارا کی جانب سے یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سرکاری تیل کمپنیوں نے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود خوردہ سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو بڑی حد تک مستحکم رکھا ہے۔ سرکاری تیل کمپنیاں ملک کے ایک لاکھ ۴؍ ہزار سے زائد پیٹرول پمپس میں ۹۰ ؍فیصد سے زیادہ مراکز چلاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’دِرِیشیم ۳‘‘ کی شاندار اوپننگ، پہلے دن دنیا بھر میں ۹۵؍ کروڑ روپے کمائے
اس صورتحال کے باعث نجی اور سرکاری ایندھن مراکز پر قیمتوں کے درمیان فرق پیدا ہوسکتا ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق عالمی خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو تو خردہ قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا ایندھن فروخت کرنے والی کمپنیوں کے لیے مالی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے علاوہ حالیہ دنوں میں نجی ایندھن فروخت کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے بعض مراکز پر پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت محدود کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ یکم اکتوبر کو حکومت نے واضح کیا تھا کہ نجی ایندھن فروش کمپنیوں کو پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی یا حد مقرر نہیں کرنی چاہیے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ ملک میں ایندھن کی مناسب دستیابی برقرار رکھنا ضروری ہے۔