کانگریس کو بچانا بےحد ضروری ہے

Updated: May 11, 2022, 11:09 AM IST | Pravez Hafeez | Mumbai

کانگریس پارٹی نے اپنی سیاسی زمین ضرور کھوئی ہے لیکن ملک میں سیکولر زم، جمہوریت، اتحاد، رواداری اور امن و آشتی کے اقدار کی جگہ آج بھی موجود ہے۔ وہ لوگ جو ان اقدار کی پامالی سے دل شکستہ ہیں انہیں کانگریس کے دوبارہ توانا اور مستحکم ہونے کا انتظار ہے ۔

Sonia and Rahul Gandhi.Picture:INN
سونیا گاندھی اور راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

 کئی دنوں تک چلے مذاکرات آخر کار ناکام ہوگئے اور انتخابی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشورکانگریس میں آتے آتے رہ گئے اور کانگریس وہیں رہ گئی جہاں تھی یعنی کہیں نہیں۔ اسکے بعد ہر طرف قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا جو آج تک نہیں تھما ہے۔ اگر لوگ پرشانت کشور کے ردعمل والے ٹوئٹ میں جو لکھا ہواتھا اور بین السطور میں جو چھپا ہوا تھا، دونوں کو ٹھیک سے پڑھ لیتے تو انہیں پوری صورتحال کی صحیح آگہی ہوجاتی۔  مذاکرات کی ناکامی کے بعد پرشانت کشور نے جو پی کے کے نام سے مشہور ہیں، درج ذیل الفاظ میں اپنے دل کا درد بیان کیا: ’’میں نے بااختیار ایکشن گروپ میں شامل ہونے اورانتخابات کی ذمہ داری اٹھانے کی کانگریس پارٹی کی فیاضانہ پیشکش مسترد کردی ہے۔ میری حقیر رائے یہ ہے کہ پارٹی کو اصلاحات کے ذریعہ دیرینہ تنظیمی مسائل کو حل کرنے کے لئے مجھ سے زیادہ ایک قیادت اور اجتماعی جذبے کی ضرورت ہے۔ ‘‘ اندر کی خبر رکھنے والے سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اس حالیہ ڈرامے کا ہیپی اینڈنگ ہوتے ہوتے اس لئے رہ گیا کیونکہ کانگریس کی قیادت انہیں ایک کمیٹی جسے با اختیار ایکشن گروپ کا نام دیا گیاکا رکن بنا کر ایک مخصوص اور واضح ذمہ داری سونپنے پر تو راضی تھی لیکن انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کا مکمل اختیار دینے سے اسے گریز تھاجبکہ پی کے کا اسی پر اصرار تھا کیونکہ ماضی میں بھی وہ دیگر پارٹیوں میں اسی شرط پر کام کرتے رہے ہیں۔ پی کے اگلے لوک سبھا الیکشن کی انتخابی مہم میں کانگریس کے مجوزہ پروگرام اور پیغام سے لے کر امیدواروں کا انتخاب، ٹکٹوں کی تقسیم اور علاقائی پارٹیوں کے ساتھ انتخابی تال میل جیسے تمام فیصلے کرنے کا حق بھی چاہتے تھے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ پی کے کانگریس کے نائب صدر یا سونیا گاندھی کے سیاسی سیکریٹری کے عہدے کے خواستگار تھے جس پر ایک لمبے عرصے تک ا حمدپٹیل فائز تھے۔پارٹی نے ان کی یہ درخواست بھی قبول نہیں کی اور نہ ہی انہیں فری ہینڈ دیاجس سے بددل ہوکر پی کے نے کانگریس میں شامل ہونے کا ارادہ بدل دیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ نقصان کس کا ہوا؟ پچھلے دس برسوں میں کانگریس نے جتنے انتخابات میں حصہ لیا ہے ان میں وہ ۹۰؍ فی صد انتخابات ہاری ہے۔ دوسری جانب پی کے نے جتنی پارٹیوں کی انتخابی حکمت عملی مرتب کی انہیں ان میں سے ۹۰؍ فی صد میں کامیابی ملی۔۲۰۱۴ء میں نریندر مودی کی تاج پوشی میں پی کے کی انتخابی مہم کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ ۲۰۱۵ء میں نتیش کمار کو بہار کا اور ۲۰۱۷ء   میں کیپٹین امریندر سنگھ کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنوانے میں بھی پی کے کی حکمت عملی کار فرما تھی۔ ۲۰۱۹ء  میں آندھرا پردیش میں جگن ریڈی، ۲۰۲۰ء  میں دہلی میں عام آدمی پارٹی اور ۲۰۲۱ء  میں بنگال میں ترنمول کانگریس اور تمل ناڈ ومیں ڈی ایم کے کی فتوحات کا کریڈٹ بھی پی کے کو جاتا ہے۔ ۲۰۱۷ء  میں پی کے کھاتے میں ایک بڑی ناکامی بھی درج ہوئی جب اتر پردیش اسمبلی الیکشن میں وہ کانگریس کی نیا پار نہیں لگا سکے۔ سونیا گاندھی کو اگر تامل بھی تھا تو انہیں بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ہی تحریک لینے کی ضرورت تھی۔ ترنمول کانگریس کو ون وومن پارٹی کہا جاتا ہے۔ ممتاکی بے مثال سیاسی بصیرت، عوامی مقبولیت، انتظامی صلاحیت اور انتخابی داؤ پیچ کا اعتراف ان کے دشمن بھی کرتے ہیں۔ان سب کے باوجود ۲۰۱۹ء میں بی جے پی نے جب بنگال میں لوک سبھا کی ۱۸؍ سیٹیں ہتھیالیں تو ممتا نے خطرے کی بو سونگھ لی اور پرشانت کشور کونئی صورتحال سے نپٹنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس کے بعد پی کے نے جو جو مشورے دیئے ممتا نے ان پر عمل کیا۔جب ممتا جیسی طویل قامت لیڈر نے اپنی انا کو درکنار کرکے پی کے سے مددطلب کی تو جاں بلب کانگریس کی قیادت کوپی کے کی شرائط پر ان سے ہاتھ ملانے میں کیا قباحت تھی؟  کانگریس کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ ۲۰۱۴ء  کے لوک سبھا الیکشن میں وہ پچاس سیٹوں کے لئے ترس گئی اور ۲۰۱۹ء  میں اسے بہ مشکل ۵۲؍ سیٹیں ملیں جو اتنی کم تھیں کہ پارٹی کو لو ک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن کے رتبہ سے بھی محروم رہنا پڑا۔ دوسری جانب بی جے پی نے صرف ایک صوبے(اتر پردیش)میں ۶۰؍سیٹیں جیت لیں۔ وزیر اعظم مودی نے تین ماہ قبل پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں کانگریس پر حسب معمول سخت تنقیدیں کرتے ہوئے چند ایسے حقائق بیان کئے جن پر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مودی جی کے مطابق مغربی بنگال میں پچاس برسوں سے کانگریس کوئی الیکشن نہیں جیتی ہے اور اتر پردیش، بہار اور گجرات جیسے صوبوں میں پارٹی ۱۹۸۵ء سے اقتدار سے باہر ہے۔ مودی جی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس اگلے سو برسوں تک اقتدار میں نہیں آنے والی ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ نیو انڈیا ہے جہاں مودی اور شاہ نے کھیل کے مروجہ قوائد اور اصول و ضوابط کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔آج نفرت اور انتقام کی سیاست ہورہی ہے اور اس میں حکمراں جماعت کو جمہوری اداروں بشمول میڈیا کا مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ بی جے پی کے ہندوتوا کے نظریے میں آئی شدت پسندی ملک کے دیرینہ سیکولر، جمہوری اقدار پر سخت یلغار کررہی ہے۔ رواداری، بھائی چارہ،مذہبی اور لسانی ہم آہنگی اور مساوات جیسے اقدار پر حملے تیز تر ہوگئے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے خون پسینے سے جس آئیڈیا آف انڈیا کو پروان چڑھایا تھا اسے مسمار کیا جارہا ہے۔
  ایسے کٹھن حالات میں کانگریس کا اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا ہونا اشد ضروری ہے کیونکہ آج بھی کروڑوں ہندوستانی ایسے ہیں جو ہندوتوا کے جارحانہ اور متعصبانہ نظریے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ یہ انصاف پسند، کشادہ ذہن اور جمہوریت پسند شہری کانگریس کے زوال سے رنجیدہ ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اپنی سیاسی زمین ضرور کھوئی ہے لیکن ملک میں سیکولر زم، جمہوریت، اتحاد، رواداری اور امن و آشتی کے اقدار کی جگہ آج بھی موجود ہے۔ وہ لوگ جو ان اقدار کی پامالی سے دل شکستہ ہیں انہیں کانگریس کے دوبارہ توانا اور مستحکم ہونے کا انتظار ہے کیونکہ ہزار خامیوں کے باوجود گاندھی اور نہرو کی پارٹی اس نظریۂ ہندوستان کی  نمائندگی کرتی ہے جہاں ذات پات، زبان و مذہب اور رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جاتا ہو اور جہاں اکثریت کی بالا دستی نہیں قانون کی حکمرانی ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK