ایک حقیقی جمہوریت میں، آزاد، بے خوف اور غیر جانبدار لوک پال کے بغیر منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔ ہمارے آئینی نظام نے یہ کردار الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کوسونپا ہے۔
انتخابات کو شفاف بنانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تصویر: آئی این این
ایک حقیقی جمہوریت میں، آزاد، بے خوف اور غیر جانبدار لوک پال کے بغیر منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔ ہمارے آئینی نظام نے یہ کردار الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کوسونپا ہے۔ اگر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا گیا ہے تو پورے نظام پر سے اعتماد ختم ہو جائے گا اور انتخابات اپنا جمہوری جواز کھو دیں گے۔الیکشن کمیشن اپنا بنیادی اختیار آئین کے آرٹیکل۳۲۴؍ سے حاصل کرتا ہے۔ یہ شق کمیشن کو پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے ساتھ ساتھ صدارتی اور نائب صدارتی انتخابات کی ’نگرانی، ہدایت اور کنٹرول‘ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
۱۹۵۰ء سے لے کر۱۹۸۰ء کی دہائی کے آخر تک،اپنی اصل شکل میں الیکشن کمیشن ایک رکنی ادارہ تھاجس کی سربراہی چیف الیکشن کمشنر کرتے تھے تاہم، آرٹیکل۳۲۴؍ میں اضافی الیکشن کمشنروں کے قیام کا تصور کیا گیا تھا، جن کا تقرر صدر وقتاً فوقتاً کر سکتے ہیں۔۱۹۸۹ء میں پارلیمنٹ نے کمیشن کو تین رکنی ادارہ بنانے کا قانون بنایا۔۱۲؍دسمبر۱۹۹۰ء کو ٹی این سیشن کے چیف الیکشن کمشنر بنتے ہی الیکشن کمیشن ایک طاقتور الیکشن مانیٹرنگ ادارہ بن گیا۔ سیشن نے۱۵۰؍ سے زیادہ انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جس میں ووٹروں میں رشوت اور شراب کی تقسیم، سرکاری مشینری کا غلط استعمال اور مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ووٹ مانگنا شامل رہا ہے۔
انہوں نے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کو سختی سے نافذ کر کے اسے دوبارہ تقویت دی۔ اسے ہم انتخابی ضابطہ اخلاق کہتے ہیں۔ اس کے تحت ووٹرس کیلئے شناختی کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا، انتخابی اخراجات کی حدیں عائد کی گئیں اور ووٹنگ کی ریاست سے باہر سے انتخابی عہدیداروں کی تقرری شروع کی۔ پہلی بار، آزاد مبصرین کو تعینات کیا گیا، جس سے انتخابات کے دوران طاقت کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔۱۹۹۲ء کے انتخابات، جو سیشن کی نگرانی میں ہوئے تھے، اس قدر ہنگامہ خیز تھے کہ کچھ حلقوں کے انتخابات بے ضابطگیوں کی وجہ سے منسوخ بھی کر دیئے گئے۔ ۱۹۹۳ء میں۱۴۸۸؍ پارلیمانی امیدواروں کو انتخابی اخراجات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیا گیا۔ سیشن طاقتور سیاستدانوں کا مقابلہ کرنے سے ڈرتے نہیں تھے۔ سیاست دانوں کیلئے ان کا پیغام تھا کہ انتخابات میں مفت کی ریوڑیاں بانٹنے یا پیسے اور طاقت کی نمائش کا تماشا نہیں نہیں ہونا چاہئے۔لیکن ادارہ جاتی سالمیت کو برقرار رکھنے کیلئے کوئی ایک فرد کافی نہیں ہو سکتا۔ الیکشن کمشنروں کی تقرری کا عمل بذات خود ایک ناقص عمل ہے۔۲۰۲۳ء میں، سپریم کورٹ نے سفارش کی کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ہی چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو بھی سلیکشن کمیٹی میں شامل کیا جائے تاکہ کمشنروں کے انتخاب میں غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائےلیکن۲۰۲۳ء ہی میں، حکومت نے سپریم کورٹ کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے، ایک قانون پاس کرلیا جس میں سی جے آئی کی جگہ ایک اور کابینہ کے رکن کو شامل کیا گیا۔
اس سے حکمران جماعت کو الیکشن کمشنروں کے انتخاب کے عمل میں خاصا فائدہ پہنچا۔دوسری بات یہ کہ اسی قانون نے چیف الیکشن کمشنر کو یہ اختیار دیا کہ وہ بقیہ دو کمشنروں کو ہٹا سکے۔ اس سے کمشنروں پر چیف الیکشن کمشنر اور حتیٰ کہ حکومت کے موقف سے اتفاق کرنے کیلئے دباؤ بڑھ گیا۔ سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے حکمران جماعت سے اختلاف کرنے کی جرأت کی تھی۔سیشن کے بعد، ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کو کبھی بھی اتنی سختی سے نافذ نہیں کیا گیا۔ حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات سے مہینوں قبل بھی جاری سرکاری اسکیموں کے تحت نقد امداد کی منتقلی پر پابندی عائد کردی تھی لیکن گزشتہ دنوں ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے سے ایک گھنٹہ قبل بہار میں خواتین کے کھاتوں میں پیسے منتقل کئے گئے اور الیکشن کمیشن نے کچھ نہیں کیا۔ ایسا ضابطہ اخلاق جو صرف اپوزیشن پر نافذ ہوتا ہو، حکمراں جماعت پر نہیں، اس کی غیر جانبداری پر عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔سوال الیکشن جیتنے یا ہارنے کا نہیں بلکہ انتخابات کی ساکھ کو برقرار رکھنے اور تمام امیدواروں کیلئے یکساں مواقع کو یقینی بنانے کا ہے۔ ہمیں کس قسم کے الیکشن کمیشن کی ضرورت ہے، جو محض انتخابات کرائے، یا ایسا جو جمہوریت کا تحفظ بھی کرے۔