پہلے لوگ فون کرکے رمضان کی مبارکباد دیتے تھےتو ان کی آواز سن کر رشتوں کی گرماہٹ محسوس ہوتی تھی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ میسج فارورڈ کرکے انہوں نے چھٹکارہ حاصل کر لیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 1:02 PM IST | Ahmed Ziya Ansari | Mumbai
پہلے لوگ فون کرکے رمضان کی مبارکباد دیتے تھےتو ان کی آواز سن کر رشتوں کی گرماہٹ محسوس ہوتی تھی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ میسج فارورڈ کرکے انہوں نے چھٹکارہ حاصل کر لیا ہے۔
گزشتہ بدھ کی بات ہے۔ دفتر کی چھٹی کے سبب ہم گھر پر تھے۔اس روز چاند دکھائی دینے والا تھا۔چاند دیکھنے کے احساس سے ہی دل کو مسرت ہوئی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں ایک اور رمضان کی سعادت نصیب فرمائی۔ مغرب کی نماز کے بعد جیسے ہی موبائل فون آن کیا تو ماہ رمضان کی مبارکباد دینے والے رشتہ داروں اور دوست احباب کے درجنوں میسج دکھائی دیئے۔ چند غیر مسلم دوستوں اور جان پہچان والوں کے میسیج بھی تھے۔ انہیں دیکھ کر خوشی کے ساتھ ساتھ افسوس ہوا۔افسوس اس بات کا کہ ایک بھی پیغام کسی نے ٹائپ کرکے یا پھر وائس میسج نہیں بھیجا تھا بلکہ سب کے سب فارورڈیڈ تھے یعنی انہیں کسی نے بھیجا ہوگا تو انہوںنے اسے ہمارے موبائل میں ’پھینک‘ کر مبارکباد دینے کی رسم ادا کر دی۔ پہلے جب لوگ فون کرکے مبارکباد دیتے تھےتو ان کی آواز سن کر رشتوں کی گرماہٹ محسوس ہوتی تھی مگر اب میسج فارورڈ کیا اور چھٹکارہ حاصل کر لیا۔
یہ بھی پڑھئے: جب یوسفؑ نےکہا کہ میری یہ قمیص والد کے چہرے پر ڈال دو، بینائی واپس آجائیگی!
ہم اپنے دور کو یاد کرنے لگے جب لوگ چاند دیکھ کو ایک دوسرے کے گھروں کا رُخ کرتے تھے۔ گلے مل کر، مصافحہ کرکے رمضان کی مبارکباد دیتے اور بڑوںسے ڈھیر ساری دعائیں لیا کرتے تھے۔ اب تو وقت کی تنگی اور رشتوںمیں دوریاں اتنی ہو گئی ہیں کہ تہوار پر ایک میسج فارورڈ کردیا اور سمجھ لیا کہ فرض ادا ہوگیا۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید چین نے بھی ہندوستان میں اتنی ’گھس پیٹھ‘ نہیں کی جتنی اس سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں میں کی ہے۔
خیریہ باتیں چاندرات کی تھیں۔آج ماہ مقدس کا ایک عشرہ مکمل ہو گیا ہے۔اس کا کتنوں کو احساس ہے ہم نہیں جانتے ۔ اتنا جانتے ہیں کہ فون ہر وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے خواہ ہم سحری کررہے ہوں یا افطار یا تلاوت ہی میں کیوں نہ مصروف ہوں موبائل پاس میں رکھا ہوتا ہے۔ رمضان کا بابرکت مہینہ صبر اورعبادت میں مصروف رہنے والا مہینہ ہے لیکن آج کے نوجوانوں کیلئے فیس بک اور وہاٹس ایپ ہی سب کچھ ہے۔ صبح سحری کے وقت میسج آنے شروع ہوجاتے ہیں کہ آج کی فلاں نمبر کی سحری مبارک ہو۔ سحری کا وقت ختم ہوا نہیں کہ دُعائیہ میسج آ جاتا ہےکہ آج کا روزہ اللہ قبول فرمائے۔ افسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم نے کوئی ایسا میسج اب تک نہیں دیکھا جس میں سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد یہ کہا جاتا ہو کہ فجر کی نماز پڑھنے چلو۔شاید نیند کے سبب ان کی انگلیوں میں میسج ٹائپ کرنے کی سکت نہ رہتی ہو۔ ظہر اور عصر کی نمازوں کے درمیان اسی سوشل میڈیا کے وہاٹس ایپ گروپ پر لوگ اپنے اپنے محلوں کی دکانوں کی بابت لکھتے ہیں کہ فلاں دکان کا چکن ٹکہ لاجواب ہے اور فلاں کا حلیم زبردست۔ اس پر مزے کی بات یہ ہے کہ مختلف قسم کے پکوانوں کی تصاویر بھی بھیجی جاتی ہیں۔ شاید ان تصاویر کو دیکھ کر انہیں ’حوصلہ‘ ملتا ہو کہ چند گھنٹے بعد تصویر میں دکھائی دینے والی چیزیں ان کے شکم میں پہنچ جائینگی۔
یہ بھی پڑھئے: اُس نے خود ہی وقت کا تعین کیا، اذان دی اور روزہ کھول لیا
افطار میں گھروں کے دستر خوان پر مختلف قسم کی چیزیں نظر آتی ہیں۔یہی سوشل میڈیا والے ایک دوسرے کو اپنے اپنے گھروں کے دسترخوان کی تصاویر بھی بھیجتے ہیں ۔ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہ لوگ تصاویر بھیج کر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ سحری سے افطار تک سوشل میڈیا پر رمضان کے تعلق سے اس قدر چہل پہل رہتی ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ اب رمضان میں روزہ بھی ’آن لائن‘ رکھا جا رہاہے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال اور وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا بہت ضروری ہے لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہمیں اپنوں سے دور کرتی جا رہی ہے۔اب تو میسیج میں لوگ پورا سلام تک نہیں لکھتے انگریزی میں’ASA‘ لکھ دیا بس۔ لطف کی بات یہ کہ سامنے والا بھی W/S لکھ دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے الفاظ بھی’ڈائٹنگ‘ کر نے لگے ہیں۔ ہمیں یاد آیا کہ جب بھی کسی کو سلام علیکم کہتے تو فوراً ٹوک دیا جاتا تھا کہ السلام علیکم کہا کرو۔
یہ بھی پڑھئے: قومِ نوحؑ، قومِ صالح، ؑ حضراتِ ابراہیمؑ، شعیبؑ، موسیٰ اؑور یوسفؑ کے واقعات سنئے
پیغام رسانی کا ایک دور ایسا بھی تھا جب ۱۰؍ تا ۱۵؍ دن بعد خطوں کے ذریعے اپنوں کی خیریت ملا کرتی تھی۔ اُس دور میں ڈاکیہ صرف پیغام رساں نہیں بلکہ گھر کا ایک پہچانا ہوا چہرہ ہوا کرتا تھا۔ جب خط ملتا تو کھولنے سے پہلے اسے چھو کر محسوس کیا جاتا تھا۔ اس کے کاغذ کی دبازت (موٹائی)، رنگ کی گہرائی اور اس پر لگی سیاہی کی خوشبو، ہر چیز میں اپنائیت ہوتی تھی۔ تکنالوجی نے ہمارے رابطے کے طریقوں کو یکسر بدل دیا ہے۔بٹن دباتے ہی پیغام دنیا کے کسی بھی کونے میں پہنچ جاتا ہے مگر وہاٹس ایپ یا فیس بُک پر مبارکباد دینے میں وہ مزہ نہیں آتا جو’فیس ٹو فیس‘ دینے میں آتا تھا۔ مگر شاید یہ ہماری سوچ کا قصور ہے۔ ہم کیوں نہیں مان لیتے کہ زمانہ بدل چکا ہے؟