Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’انفرادی سطح پر اجتماعی نظمِ زکوٰۃ کی کوشش کیسے ممکن ہے، اس کے فوائد کیا ہیں؟‘‘

Updated: March 01, 2026, 1:24 PM IST | Mumbai

زکوٰۃ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے۔اس کی ادائیگی ہر صاحب نصاب مسلمان پر فرض ہے۔عام طور پر مسلمان ماہ رمضان میں زکوٰۃ نکالتےہیں لیکن ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ایسی ہے جو زکوٰۃ کی تقسیم کے تئیں بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتی۔ زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کی اہمیت پر باتیں تو خوب کی جاتی ہیں لیکن بیشتر جگہوں پر اس کا کوئی معقول نظم نہیں ہوپاتا۔ سب اپنے اپنے طورپر زکوٰۃ ادا کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں، ایسے میں ہم نے اپنے قارئین سے یہی جاننے کی کوشش کی کہ انفرادی طورپر زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کی کوشش کس طرح کی جاسکتی ہے؟

Indonesia has the best collective zakat system. Photo: INN
انڈونیشیا میں اجتماعی زکوٰۃ کا بہترین نظم موجود ہے۔ تصویر: آئی این این

 اپنی زکوٰۃ کا کم از کم۲۰؍ فیصد حصہ کسی منظم اجتماعی نظام کے حوالے کیا جائے

زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کی کوشش انفرادی سطح پر اس طرح ممکن ہے کہ ہر صاحبِ نصاب مسلمان اپنی زکوٰۃ کو محض شخصی ادائیگی تک محدود رکھنے کے بجائے مستند اور منظم اجتماعی پلیٹ فارم تک پہنچانے کی فکر کرے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ محلہ، مسجد یا سماجی سطح پر قابلِ اعتماد افراد اور اداروں کی نشاندہی کی جائے اور اپنی زکوٰۃ ان کے ذریعے مستحقین تک پہنچائی جائے۔ انفرادی اقدام کا پہلا مرحلہ شعور بیدار کرنا ہے؛ یعنی اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور حلقۂ احباب میں یہ ذہن بنانا کہ زکوٰۃ کا مقصد صرف فریضہ ادا کرنا نہیں بلکہ معاشرے سے غربت و محرومی کا خاتمہ بھی ہے۔

جب افراد اپنی زکوٰۃ کو اجتماعی نظم سے جوڑتے ہیں تو وسائل منتشر ہونے کے بجائے مجتمع ہوتے ہیں، جس سے مستحقین کی مستقل کفالت، تعلیم، صحت، روزگار اور بحالی جیسے دیرپا منصوبے ممکن ہوتے ہیں۔ انفرادی طور پر اجتماعی نظم کی حمایت سے شفافیت اور تحقیق کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ اجتماعی ادارے مستحقین کی جانچ، ترجیحات کی تعین اور مؤثر تقسیم کا نظام قائم کرتے ہیں۔ اس طرح زکوٰۃ وقتی امداد سے نکل کر معاشی استحکام اور سماجی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اگر ہر صاحبِ نصاب شخص یہ عزم کرے کہ وہ اپنی زکوٰۃ کا کم از کم۲۰؍ فیصد حصہ کسی منظم اجتماعی نظام کے ذریعے ادا کرے گا اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے گا تو رفتہ رفتہ ایک مضبوط اجتماعی ڈھانچہ قائم ہوسکتا ہے۔ یہی طرزِ عمل قوم و ملت کو انحصار سے خودکفالت کی طرف لے جانے اور اسلامی معاشی عدل کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

عبید خان( منیجنگ ٹرسٹی، فرسٹ ہیلپ چیریٹیبل، ممبئی)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’مہاراشٹر میں میئر انتخاب کی سودے بازی، سماجی اثرات کیا ہوں گے؟‘‘

مساجد کے تحت بیت المال کا نظام قائم کرکے منظم کیا جانا چاہئے

شارع نے دوسرے ارکان اسلام کی طرح زکوٰۃ کے نظام،مقصد اورمصرف کوواضح طور پر بیان کر دیا ہےلہٰذا جب تک زکوٰۃ کے فریضے کواس کے شرائط کے ساتھ اور تقاضوں کے مطابق عبادت سمجھ کر ادا نہ کیا جائے، اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ زکوٰۃ کا نظام’ بیت المال‘ ،مقصد ’امیروں سے لے کرغریبوں میں تقسیم کرنا‘ اور مصارف آٹھ ہیں۔ان تینوں زمروں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔میری اپنی رائے کے مطابق جیسے ملک کے مسلمان اپنے تمام مذہبی امور کا انتظام و انصرام خود کرتےہیں،ویسے زکوٰۃ کو بھی علاقے کی مساجد کے تحت بیت المال کا نظام قائم کرکے منظم کیا جا سکتا ہے۔کسی مرکزی بیت المال کے بجائے ہر مسجد کا اپنا ایک بیت المال ہو،زکوٰۃ ادا کرنے والے وہاں جمع کر دیا کریںاور اس کے پاس ایک کمیٹی ایسی ہو جو اپنے صوابدید پر تصدیق کرنے کے بعد مستحقین  میں حسب ضرورت زکوٰۃ تقسیم کر دیا کرے۔ اس طرح کرنے سے زکوٰۃ دینے  اورلینے والوں کی تفصیلات جمع ہو جائیں گی اور ہر آنے والے برسوں میں یہ اندازہ بھی لگایا جا سکے گاکہ زکوٰۃ لینے والا دینے والے کی حالت میں ہوا کہ نہیں اور کس نے کتنا زکوٰۃ لیا ہے۔ زکوٰۃ کا مال جب ایک جگہ جمع ہوگا تو مستحقین زکوٰۃ کی پریشانیاں بھی ختم ہو جائیں گی وہ در در پر سوال کرنے کی زحمت سے بچ جائیں گے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیت المال کے ذمہ داران پر کچھ وقت کے بعد مالی بے ضابطگی کے الزامات لگ سکتے ہیں تو اسکا حل یہ ہو سکتا ہے،کہ زکوٰۃ وصول کرنے،تقسیم کرنے اور پھر اس کی نگرانی کرنے کی ذمہ داریاں الگ الگ ہوں،اور ہر دو تین سال بعد ایک دوسرے کو منتقل کی جاتی رہیں۔

سعیدالرحمان (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ ارود ممبئی یونیورسٹی)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:بین المذاہب ہم آہنگی، برادران وطن سے مکالمہ اور مزید بہتری کے امکانات

خاندان کے افراد یا کچھ دوست مل کر بھی یہ کام کرسکتے ہیں

اسلام ایک مکمل نظام حیات کا نام ہے اور زکوۃ اسلام کا ایک اہم اور بنیادی رکن ہے۔’واقیمو الصلوٰۃ واتو الزکوٰۃ ‘....  قرآن مجید میں جہاں بھی نماز  قائم کرنے کا حکم ہوا ہے، اسی کے ساتھ زکوۃ ادا کرنے کا حکم بھی آیا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ جس طرح جماعت کے ساتھ نماز کا ثواب انفرادی نماز سے زیادہ ہے اسی طرح اجتماعی نظام زکوٰۃ بھی انفرادی ادائیگی کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔اجتماعی زکوۃ کا مضبوط اور بہتر نظام غربت کو دور کرنے اور مستحقین کو خود کفیل بنانے میں موثر ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں سورہ توبہ میں ارشاد ہوا ہے جس کا مفہوم ہے کہ’’زکوٰۃ تو غریبوں ، حاجت مندوں ، صدقہ وصول کرنے پر متعین کارکنوں ، وہ لوگ جن کی دل جوئی مقصود ہو ، غلاموں ، مقروضوں ، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں اورمسافروں کا حق ہے،  یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ خوب جاننے والے اور حکمت والے ہیں۔‘‘

  زکوۃ کی رقم جمع کرنا اور اس کو مصرف زکوۃ تک پہنچانا ایک مشکل امر ہے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ کچھ دوست اکٹھا ہو کر، یا مساجد میں ہم خیال مصلی،خاندان کے کچھ اہم افراد مل کر بھی یہ کام کر سکتے ہیں  مثلاً ایک شخصدس ہزار روپے زکوۃ نکالتا ہے تو وہ اس رقم میں سے۵؍ ہزار کی رقم کو انفرادی طور پرتقسیم کردے اور۵؍ ہزار کی رقم کو اجتماعی نظم  کے حوالے کردے۔اگر۱۰؍ افراد مل کر یہ کام کریں تو وہ رقم۵۰؍ ہزار ہوجائیگی۔ پھرمل کر تلاش کریں کہ کسی زکوۃ کے مستحق کو اس رقم سے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار،یا کوئی ایسا تعلیمی کورس کروادیں جس سے وہ خود کفیل ہوجائے...یہ کام تھوڑا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

فیصل نفیس (ٹراویلرس، مالیگاؤں)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:آج ہمارے ملک میں جمہوریت کی کیا اہمیت ہے،ہم اس کے تحفظ کیلئے کیا کریں؟

اس کا آغاز ایک خاندان، ایک گروپ، ایک محلہ، ایک گاؤں  اورایک شہر کی سطح پر بھی کیا جاسکتا ہے

پچھلے کچھ عشروں سے دینی علم سے ناواقفیت ، علما کی کمزوری اور ناروا جذباتیت پسندی نے  اسلامی فضا اس  حد تک بدل دی ہے کہ ایک طبقہ دین کے ارکان اس کے طے کردہ قاعدوں کی روشنی میں اداکرنے کے بجائے اپنی مرضی سے اداکرنا چاہتا ہے، اسلئے لوگ اپنے اپنے مسلک کے  بیت المال  سے بھی منسلک ہوکر انہیں زکوٰۃ و عطیات دینے کے بجائے اونے پونے طریقے سے یہاں وہاں دے کر من ہی من میں خوش ہو لیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اپنی اپنی قومی و ملی جماعتوں و جمعیتوں اور بیت المال کی امانت داری و مصداقیت پر بھی شکوک شبہات اور سوالات کے بادل کھڑا کردیتے ہیں۔جو لوگ زکوٰۃ کو انفرادی کیس کے طور پر محض جذباتیت سے حل کرنا چاہتے ہیں، اگر ان سے پوچھا جائے کہ نماز کو کسی کی امامت اور مسجد میں کیوں اداکرتے ہو؟ تو کہیں گے نماز ہمارا اجتماعی مسئلہ ہے اور اسے اجتماعی طور پر کسی مرکز پر ادا ہونا چاہئے لیکن پلٹ کر اگر آپ ان سے پوچھ لیں کہ کیا ادائیگیٔ زکوٰۃ ہمارا اجتماعی مسئلہ نہیں ؟ کیا اسے اجتماعی سسٹم سے کسی اسلامی بیت المال یا سینٹر سے پورے ڈسپلن اور سسٹم سے ادا نہیں کیا جانا چاہئے؟ تو وہ یہاں وہاں کی تاویلیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔

اس تناظر میں مولانا ابوالکلام آزاد  نے اپنے رسالہ حقیقۃ الزکاۃ میں لکھا ہے کہ ــ’’بنو امیہ کے زمانہ میں جب نظامِ خلافت ملوکیت میں بدل گیا اور حکام ظلم و تشدد پر اتر آئے تو بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ایسے لوگ ہماری زکوٰۃکے مستحق کیوں سمجھے جائیں ؟ لیکن تمام صحابہ نے یہی فیصلہ کیا کہ زکوٰۃانہی کو دینی چاہئے۔ یہ کسی نے نہیں کہا کہ خود اپنے ہاتھ  سے جہاں دل کہے  خرچ  کر ڈالو۔حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے ایک شخص نے پوچھا : اب زکوٰۃکسے دیں ؟ کہا : وقت کے حاکموں کو۔اس نے کہا : اذا یتخذون بھا ثیابا و طیبا ۔ وہ تو زکوٰۃکے پیسوں سے اپنے لئے کپڑے اور خوشبو کا انتظام کرلیں گے۔آپ نے فرمایا کہ اگرچہ وہ ایسا کرتے ہوں مگر دو انہی کو ( ابن ابی شیبہ ) 

کیونکہ زکوٰۃ کا معاملہ بغیر نظام کے قائم نہیں رہ سکتااور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو صاف موجود ہے کہجب تک وہ نماز پڑھتے ہیں زکوٰۃ انہی کو دیتے رہو ۔لیکن افسوس ہے کہ مسلمان بتدریج اس نظام کی اہمیت  سے غافل ہوتے گئے اور رفتہ رفتہ یہ حالت ہوتی گئی کہ لوگوں نے سمجھ لیا  کہ زکوٰۃکا معاملہ اس کے سواکچھ نہیں کہ خود حساب کرکے ایک رقم نکال لیں اور پھر جس طرح چاہیں خود ہی خرچ کر ڈالیں حالانکہ جس زکوٰۃکی ادائیگی کا قرآن نے حکم دیا ہے اس کا قطعاً یہ طریقہ نہیں۔‘‘

انفرادی طور پر جہاں جہاں غیر منظم انداز میں زکوٰۃ دینے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے غریبی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ہر سال زکوٰۃ کے طلبگاروں کا ہجوم امڈتا چلا آتا ہے۔بے پناہ معاشرتی مسائل زکوٰۃ کے طریقہ کار کو منظم اور نتیجہ خیر نہ کرنے  کے سبب جنم لے رہے ہیں۔ مسلمانوں کی جو جماعتیں اپنی  زکوٰۃکسی امینِ زکوۃ یا بیت المال کے حوالے کرنے کی جگہ خود ہی  ادھر ادھر خرچ کر ڈالتی ہیں وہ جانتے بوجھتے شریعت کی منشاء  سے انحراف کر رہی ہیں۔

ایسے میں ضروری ہے کہ ہر سطح پر خواہ وہ ایک خاندان، ایک گروپ، ایک محلہ، ایک گاؤں  اورایک شہر سے شروع ہو لیکن کوشش یہی ہونی چاہئے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ اجتماعی ہو تا کہ اس کا مقصد پورا ہو، جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہم پر زکوٰۃ کی ادائیگی کو  فرض کیا ہے۔   

مولانا عبدالرزاق محمدی(استاد جامعۃ التوحید  اورامام و خطیب مسجد مریم بھیونڈی)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: نیشنل یوتھ ڈے، نوجوانوں کی تربیت، بڑے کیا کریں کہ وہ مؤثر ثابت ہو؟

زکوٰۃ کا مقصد غریبوں کو معاشی دلدل سے باہر نکالنا ہے

  رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بہت سی باتوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اسلام میں زکوٰۃ کی بڑی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ اس کی نفی کفر ہے۔ زکوٰۃ ان لوگوں پر فرض ہے جو صاحب استطاعت ہیں۔

زکوٰۃ نکال کر اسے صحیح جگہ دیاجائے تاک وہ مناسب جگہوں پر اور مستحق لوگوں تک پہنچ سکے۔  انفرادی طورپر دیئے جانے والا زکوٰۃ خصوصی استعمال میں نہیں آپاتا جبکہ اجتماعی طورپر ادا کی گئی زکوٰۃ کی رقم نہ صرف کسی مستحق کے ہاتھوں میں جاتی ہے بلکہ اس سے قوم وملت کی بھی ترقی ہوتی ہے۔اپنے گھر ، خاندان ودوست احباب سے آپسی مشورہ کرکے زکوٰۃ کی رقم اکٹھی کرنی چاہئے یا پھر کسی کمیٹی میں جہاں اجتماعی طورپر ز کوٰۃ کی رقم ادا کی جاتی ہے۔ ایسی جگہ دی جائے اس سے اس کمیٹی کے سربراہ ان غریب اور مسکین لوگوں کی مدد کرتے ہیں اورجن علاقوں میں مسجد کی تعمیر میں ، مدرسہ کے اخراجات میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اسے مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  اس بات کا بھی خاص خیال رکھیں کہ زکوٰۃ کی رقم آپ مناسب جگہ پر دے رہے ہیں یا نہیں اورکوشش کریں کہ اجتماعی طورپر ہی رقم ادا کی جائے۔

زکوٰۃ  دیتے وقت  دل میں اس بات کا خیال رکھیں کہ زکوٰۃ اللہ کا حکم  ہے اور جب بات حکم کی آتی ہے تو یہ بھی دیکھنا چاہئےکہ وہ حکم کس طرح کا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔  اسلام کے تمام بنیادی ارکان کے کچھ نہ کچھ واضح مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔ جیسے نماز کا مقصد برائیوں کا خاتمہ ہے، روزے کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کا مقصد غریبوں کو معاشی دلدل سے باہر نکالنا ہے۔  ایسے میں ہمیں دیکھنا چاہئے کہ جس طرح سے ہم زکوٰۃ ادا کرتے ہیں،کیا اس سے اس کا مقصد حل ہورہا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہئے اوراپنا طریقہ کار تبدیل کرنا چاہئے۔ 

انصاری منتشاء اخلاق (طالبہ’وائی سی ایم او یو‘اسٹڈی سینٹر، بھیونڈی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK