ہر مسلمان کیلئے علم دین کا حاصل کرنا ضروری بلکہ اُس کے فرائض میں شامل ہے

Updated: March 13, 2020, 10:26 AM IST | Maulan Khalid Saifulah Rahmani

عمل صالح کو جاننے اور اس کو اختیار کرنے کے لئے قدم قدم پر علم دین کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچانے کا حکم دے کر بالواسطہ علم کی طرف متوجہ کیا ہے

Education of Religion is Included in Duties Picture INN
علم دین کا حاصل کرنا فرائض میں شاملہے۔ تصویر : آئی این این

انسان پر جیسے دوسروں کے حقوق ہیں، اسی طرح اس پر خود اپنی ذات کا، اپنے بال بچوں اور اپنے عزیزوں کا بھی حق ہے، بلکہ یہ حق نسبتاً زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے اور آخرت میں اس کے بارے میں جواب دہی بھی زیادہ ہے۔ انسان پر اس کی ذات کے اور اس کے اہل و عیال کے کیا حقوق ہیں اور اپنے زیرپرورش لوگوں کے تئیں اس پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، قرآن و حدیث میں جابجا اس کا ذکر ہے۔ یہ حقوق انسان کی مادّی ضروریات سے متعلق بھی ہیں اور اسکی دینی اور اخروی حاجات سے متعلق بھی اور یقیناً اس کی دینی حاجات سے متعلق حقوق زیادہ اہم ہیں، کیونکہ مادی ضرورتوں کا تعلق تو ایک ایسے مستقبل سے ہے جو چندسالہ ہے اور جس کی انتہا قبر کی منزل پر ہوجاتی ہے، لیکن دینی اور اخروی ضرورتیں ایسے مستقبل سے متعلق ہیں جن کی کوئی نہایت نہیں، اس لئے ایک صاحب ِ ایمان جو آخرت میں جوابدہی کا  احساس رکھتا ہو اور جو اس دنیا پر یقین کرتا ہو، یقیناً اس وسیع اور نہ ختم ہونے والے مستقبل سے بے پروا نہیں ہوسکتا۔ قرآن مجید نے انسان کو اسی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ (التحریم:  ۶) یہ آگ سے بچانا کیونکر ہوگا؟ ایمان اور عمل ِ صالح کے ذریعہ ۔ ایمان کیا ہے؟ قرآن و حدیث میں جن جن باتوں کا ذکر آیا ہے، ان سب کو ماننا اور بے کم و کاست ان کا یقین کرنا۔ ایمان صرف کلمہ پڑھ لینے کا نام نہیں، اگر ایک شخص اپنی زبان سے توحید کا اقرار کرتا ہو اور قرآن کے کسی حکم کا انکار بھی، رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتا ہو، لیکن آپؐ کی کسی سنت کا مذاق اڑانے سے بھی گریز نہ کرتا ہو، آپؐ کو نبی مانتا ہو لیکن آپؐ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کا بھی قائل ہو، تو بظاہر وہ صاحب ِ ایمان محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں وہ کفر کی راہ پر ہے۔ ایمان کا مسئلہ بہت نازک ہے۔ بعض اوقات انسان ہنسی مذاق میں، غیظ و غضب اور ضد و عناد میں ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جو اسے دولت ِ ایمان سے محروم کر دیتی ہیں اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے اس نادانستہ خسران و محرومی سے بچنے کے لئے ایک ہی راہ ہے اور وہ ہے علم کے زیور سے آراستہ اور احکام ِ دین سے واقف ہونا۔ بے علمی اور ناآگہی و جہالت اور نادانی انسان کو راہِ حق سے دور لے جاتی ہے اور گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتی ہے۔
آگ سے بچنے کے لئے دوسری ضروری چیز عمل صالح ہے۔ عمل صالح کے معنی اچھے کام کے ہیں۔ کوئی کام اس وقت اسلام کی نگاہ میں عملِ صالح بنتا ہے جب اس میں تین باتیں پائی جائیں: اوّل وہ حکم ِ خداوندی کے مطابق ہو، دوسرے اس عمل کو رسول اللہ ﷺ کے طریقہ پر انجام دیا جائے اور تیسرے اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنا ہو، شہرت و ناموری، عہدہ و جاہ اور دنیاطلبی مقصود نہ ہو۔ اگر یہ تینوں باتیں جمع ہوں تو وہ عمل صالح ہے اور ان میں سے کوئی ایک بات بھی نہ پائی جائے تو وہ عمل صالح نہیں۔ ظاہر ہے کہ عمل صالح کو جاننے اور اس کو اختیار کرنے کے لئے قدم قدم پر علم کی ضرورت ہے ۔ ایک وضو اور نماز ہی کو دیکھ لیجئے کہ اس سے متعلق کتنے مسائل و احکام ہیں؟ انسان بوڑھا ہوجائے اور اپنی پوری عمر طے کرلے پھر بھی ان مسائل کا احاطہ نہیں کرپاتا ۔ اہلِ علم سے استفسار کرنا پڑتا ہے، بلکہ خود اصحابِ علم بھی ایک دوسرے سے رجوع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ فقہ ایک بیکراں سمندر ہے جو انہی اعمالِ  صالحہ کی تشریح و توضیح سے عبارت ہے۔غرض انسان، اپنے آپ کو اور اپنے بال بچوں کو آخرت کی آگ سے بچانے اور جہنم کی بھٹی سے محفوظ رکھنے کا خواہشمند ہو تو اس کا واحد راستہ  ایمان اور عمل ِ صالح ہے۔  ایمان ہو یا عملِ صالح، جب تک دین کا علم نہ ہو، احکامِ شریعت سے آگہی نہ ہو، کتا ب و سنت سے واقفیت اور دین کا فہم نہ ہو، ایمان و عمل کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ واضح رہنا چاہئے کہ یہ حق جہل و لاعلمی کے ساتھ ادا نہیں کیا جاسکتا۔
اس لئے ہر مسلمان کے لئے اپنی ضروریات کے مطابق علم دین کا حصول فرائض میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بہ وضاحت ارشاد فرمایا کہ ’’علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ شاید ہی دنیا کے کسی مذہب میں علم کی یہ اہمیت ظاہر کی گئی ہو۔ آپﷺ کے اس ارشاد میں اور کوئی علم داخل ہو یا نہ ہو، علمِ دین تو ضرور ہی داخل ہے کیونکہ یہ ایسا فریضہ ہے کہ جس کے بغیر دین کا کوئی فرض ادا ہو ہی نہیں سکتا۔ وضو اس لئے فرض ہے کہ اس سے نماز ادا کی جائے، حرمین شریفین کا سفر اس لئے فرض ہے کہ حج کی ادائیگی ہوسکے ،تو علم سے تو تمام ہی فراض متعلق ہیں ۔ نماز ، روزہ، حج، زکوٰۃ، نکاح و طلاق، حلال و حرام، خلوت و جلوت اور رزم و بزم ، کون سی جگہ ہے اور کون سا موقع ہے جہاں انسان علم کا محتاج نہیں؟ اس لئے علم ِدین اہم ترین فریضہ ہے، ایسا فریضہ کہ جس پر تمام فرائض کی ادائیگی کا انحصار  ہے۔
اس لئے یقیناً قرآن مجید نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچانے کا حکم دے کر بالواسطہ علم کی طرف متوجہ کیا ہے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ  گئی ہے۔  ہمارے سرکاری نظام ِتعلیم پر آزادی کے بعد سے ہی ایک مخصوص مذہب کی چھاپ ڈالنے کی کوششیں شروع ہوگئی تھیں لیکن اب یہ یہ تیز تر ہوگئی ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ کو ڈاکوؤں اور لٹیروں کی تاریخ کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے، تاکہ مسلمان بچے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوں، یہاں تک کہ پیغمبرؐ  اسلام کی سیرتِ مبارکہ اور اسلام کے قرنِ اوّل کی تاریخ کو بھی مسخ کرکے پیش کرنے کی گستاخی کی جاتی ہے تاکہ آپؐ اور آپؐ کے رفقاء کی عظمت نئی نسل کے دل سے نکل جائے۔ اس صورت ِ حال میں مسلمانوں کی نئی نسل کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
دینی تعلیم کا ایک درجہ تو ضروریاتِ دین کی تعلیم کا ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لئے ضروری  ہے۔ قرآن مجید کا باتجوید ناظرہ، کچھ سورتوں کا حفظ، رسول اللہ ﷺ کی سیرت ِ مبارکہ، ضروری فقہی مسائل اور شب و روز کے مختلف احوال سے متعلق جو ادعیہ و اذکار منقول ہیں، ان کا یاد کرانا تو ہر  مسلمان بچے کے لئے ضروری ہے خواہ وہ عصری تعلیم حاصل کررہا ہو۔ اب اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ضروری ہوگئی ہے کہ ان کو اسلام کی اور مسلمانوں کی تاریخ بھی پڑھائی جائے تاکہ وہ احساس ِ کمتری سے بچ سکیں اور اسلام پر مغربی مصنفین اور ان سے متاثر ہوکر مشرق کے اہل علم جو اعتراضات کرتے ہیں، ان کے جواب میں بھی رہنمائی کی جائے تاکہ غلط فہمیوں اور پروپیگنڈوں کے دامِ ہم رنگِ زمین سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔
علم دین حاصل کرنے کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ امت میں کچھ لوگ قرآن و حدیث کا تفصیلی علم حاصل کریں ، کتاب و سنت پر ان کی گہری نگاہ ہو، فقہ ِ اسلامی پر ان کی وسیع نظر ہو، ایمانیات اور عقائد کی گہرائیوں تک ان کی رسائی ہو، ہر عہد میں اسلام کے خلاف جو فتنے کھڑے کئے جاتے ہیں، وہ ان کے مقابلہ کی صلاحیت کے اہل ہوں۔ وہ اسلام کی فکری سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں اور اپنے عہد کے مسائل کو فراست ِ ایمانی کے ساتھ کتاب و سنت کی روشنی میں حل کریں۔ یہ امت پر فرضِ کفایہ ہے ۔
بدقسمتی سے  مسلمانوں نے ایسا سوچ لیا ہے کہ یہ عظیم الشان علم صرف غریب اور پسماندہ مسلمانوں کیلئے ہے۔ مسلمانوں میں مرفہ الحال اور اصحاب ِ ثروت کا طبقہ علم دین کی طرف سے غفلت برت رہا ہے جو نہایت ہی افسوس ناک بات ہے۔ یہ سمجھنا درست نہیں کہ یہ غریب طلبہ کند ذہن اور فکری اعتبارسے مفلس ہوتے ہیں ، کیونکہ ذہانت کا دولت و غربت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ تجربہ یہ ہے کہ غریب ماحول کے بچے علم کی طرف زیادہ متوجہ رہتے ہیں۔ 
قابل فکر امر یہ ہے کہ علمِ دین کی طرف سماج کے اونچے طبقے کی توجہ کیوں نہیں ہے؟ حالانکہ ہر شخص کو اس بات کا اعتراف ہے کہ جو بچے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان میں تہذیب و شائستگی، حسن سلوک اور اپنے فرائض کے تئیں جواب دہی کے احساس کا عنصر زیادہ ہوتا ہے، اس کے باوجود علم کا یہ شعبہ لوگوں کے التفات سے محروم ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ جو لوگ دین اور علم دین کی خدمت میں مشغول ہیں ان کے پاس مادی وسائل کم ہیں، ان کو کم تنخواہوں پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ یہی ایک بات ہے جس نے مادہ پرست اذہان اور حریصانہ فکر و ذہن کے حاملین کو علم دین کی طرف آنے سے روک رکھا ہے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
اس سلسلے میں مسلم معاشرہ کے لئے مقامِ فکر ہے کہ کیا وہ اپنے دینی تحفظ کے لئے ایک ایسے طبقہ کی صحیح طریقہ پر کفالت نہیں کرسکتا جو قلیل تعداد میں ہیں؟ اگر مسلمان اپنی دوسری ضروریات کی طرح دینی خدمت گزاروں کو بھی اپنے لئے ایک ضرورت باور کریں اور فراخ حوصلگی کے ساتھ ان کے تعاون کے لئے ہاتھ بڑھائیں تو یقیناً اس علم سے بے اعتنائی اور بے رغبتی کی یہ کیفیت باقی نہیں رہے گی۔ ملک کے موجودہ حالات اور عالمی حالات کے پس منظر میں یہ بات ضروری ہے کہ مسلمان دینی تعلیم کی اہمیت کی طرف متوجہ ہوں۔ ملک میں اور دنیا بھر میں وقتاً فوقتاً مدارس اسلامیہ کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں ، یہ سب ان لوگوں کی زبان ہے کہ اسلام سے جن کی عداوت ہر خاص و عام پر ظاہر ہے۔  جو لوگ اسلام کے دشمن ہیں وہ تو مدارس کی اہمیت نہیں سمجھتے مگر جو لوگ صاحب ِ ایمان اور اسلام کے نام لیوا ہیں وہی اسلام کی حفاظت اور اس کی بقا میں مدارس کے کردار کی اہمیت کو نہ سمجھیں تو اس سے زیادہ قابلِ افسوس اور کیا بات ہوگی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK