یہ بات یاد رہنی چاہئےکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی ہی زندگی کا اصل مقصد ہے

Updated: February 07, 2020, 9:47 AM IST | Md Faizan Alam Misbahi

اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے دلی لگاؤ اور ربط وتعلق کو اللہ کے لئے خاص کردے، اسی کو اپنا سب کچھ جانے اور اسی کی بارگاہ سے اپنی ہر حاجت پوری ہونے کی امید رکھے ،غیر اللہ کا خیال ہر گز ہرگز نہ آنے دے۔

علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی
علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی

اللہ تعالیٰ کا بڑاکرم ہے کہ اس نے ہمیں عقل وشعور دیا اور اچھے بُرے کے درمیان تمیز کرنے کا سلیقہ عطاکیا تاکہ ہم اللہ کی رضاحاصل کرسکیں ، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اللہ کی ذات پر سچے دل سے ایمان لائیں کہ اللہ کی ذات یکتاہے،وہی تنہاعبادت کے لائق ہے اور پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے،ہم اپناسراُسی کے آگے جھکائیں اور ہر حال میں اُسی کی طاعت و عبادت کریں ،اس کے علاوہ نہ کسی کی عبادت کریں اور نہ اُس کے حکم کے خلاف کسی کاحکم مانیں ، تبھی جاکر اللہ سے ہمارا رشتہ اورتعلق مضبوط ہوسکے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے
 ’’رسول اس پر ایمان لائے جو اُن کے رب کی طرف سے نازل ہوا،اورمومن بھی اللہ اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں سب پرایمان لائے۔‘‘ ((سورہ بقرہ:۲۸۵) اس آیت میں ایمان کے چار درجے بتائے گئے ہیں : (۱)اللہ تعالیٰ کی ذات،اس کے اسماء اور صفات پر ایمان لانا: اللہ ایک ہے، یکتاہے اور ذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں ،وہ ہر شئے کا جاننے والا ہے اور ہر شئے جس کا وہ ارادہ کرے اس پر قدرت رکھنے والا ہے اور کوئی بھی چیز اس کی قدرت اور علم سے باہر نہیں ہے۔۲۔ فرشتوں پر ایمان لانا: یہ اس طورپر ہوکہ فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں ،وہ ایک ذرہ بھی اللہ کے حکم کے خلاف نہیں کرتے، بلکہ وہ معصوم ہیں اورہرنافرمانی سے پاک ہیں ، نیز اللہ اور انبیاء و مرسلین کے درمیان احکام وپیام کا ذریعہ ہیں ۔۳۔اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا: یہ اس طور پر ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی کتابیں اپنے رسولوں اورنبیوں پر نازل کیں وہ سب بلاشبہ برحق ہیں اور قرآن کریم جیساکہ پہلے دن نازل ہوا تھا ویسا ہی آج بھی ہے اور کسی بھی طرح کے ردّوبدل سے قیامت تک پاک رہے گا۔۴۔رسولوں پرایمان لانا:یہ اس طورپر ہوکہ وہ اللہ کے بندے اور سچے رسول ہیں اورہر نافرمانی سے پاک اورمعصوم ہیں ،جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف ہدایت کے لئے بھیجاہے، وہ تمام مخلوقات سے افضل ہیں اور ان میں بعض انبیاء و رسل بھی بعض سے افضل ہیں ۔ 
 ہماری ظاہری اور باطنی زندگی میں ان تمام چیزوں پر ایمان لانا اسی قدرضروری ہے جس قدر زندہ رہنے کے لئے سانس لینا ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی ہی زندگی کا اصل مقصدہے، کیوں کہ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ایک بندہ اپنے معبودکی معرفت حاصل کرتا ہے اور دنیاوآخرت میں فلاح وکامرانی پاتاہے،چنانچہ دنیا میں جتنے بھی انبیاءومرسلین تشریف لائے سبھوں نے اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کے ساتھ اس کی عبادت وبندگی پر ہمیشہ زوردیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو۔‘‘(سورہ انبیا۔۲۵ )اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے دلی لگاؤ اور ربط وتعلق کو ایک اللہ کے لئے خاص کردے، اسی کو اپنا سب کچھ جانے اور اسی کی بارگاہ سے اپنی ہر حاجت پوری ہونے کی امید رکھے اور دل ودماغ میں صرف اسی کی عظمت وبڑائی کا سکہ جمائے رہے،غیر اللہ کا خیال ہر گز ہرگز نہ آنے دے، زندگی کا کوئی بھی لمحہ اللہ تعالیٰ کی یادسے غافل نہ رہے۔ یہ کیفیت و حالت ایک مومن کے اندر اُسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب اُس کے دل اوردماغ پر یہ چھاجائے کہ حقیقت میں تمام طرح کی عظمت وکبریائی اور حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے، اس کے سوا کوئی شئے توجہ کے قابل نہیں ، گویا زندگی کے ہر شعبے میں اللہ ہی اللہ پیش نظر رہے۔
 اب اگر کوئی مسلمان چاہتا ہے کہ اس کا تعلق حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ جڑارہے تو وہ اس صفت سے آراستہ ہو جائے جوایک مومن کی شان اورسچے ایمان کی علامت ہے۔ 
اللہ سے محبت 
  آئیے آپ کے سامنے دو ایسی چند مثالیں پیش کرتا ہوں جنہوں نے اللہ کی محبت میں ،اللہ سے تعلق بڑھانے کے لئے اپنی ساری چیزیں قربا ن کر دی۔اگر یہ حال دل کو نصیب ہو جائے کہ اللہ کی چاہت سے دل بھر جائے اور ہر چاہت دل سے نکل جائے تواس کیفیت والوں کا حال کیا ہوتا ہے، ملاحظہ فرما ئیں : امام سیرین بیان کرتے ہیں :’’ اگر مجھے اختیار دیا جائے کہ ادھر جنت ہے اور ادھر دورکعتوں کا وقت ہے ( یا تو جنت لے لو یا دو رکعت نماز ادا کر لو ـــ)ایک ہی کا اختیار ہے تو کیا کروگے ؟ خدا کی قسم ، دو رکعتوں کا وقت لے لوں گا ۔ ‘‘ جو اللہ سے جڑ جاتا ہے ، اللہ کے عشق کی لذت لے لیتا ہے، اللہ کے تعلق اور وصال کے شراب کا جام پی لیتا ہے تو اس بندے کا زاویۂ نگاہ بدل جاتا ہے ،ترجیحات بدل جاتی ہے ،سوچ بدل جاتی ہے،اس کی جنت پہ نگاہ نہیں پڑتی۔جب امام سیرین نے یہ جواب دیا کہ دو رکعتوں کا وقت لے لوں گا تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کیو ں کریں گے تو کیا جواب دیتے ہیں ملاحظہ فرمائیں ۔
اس لئے کہ دو نفل پڑھنے میں اللہ کی رضا بھی ہے اور مولیٰ کا قرب بھی ،جو قربت ان دو رکعت میں ملے گی،میرے مولیٰ کی رضا ملے گی وہ جنت میں کہاں ۔
حضرت با یزید بسطامی کے تعلق سے یہ واقعہ پیش ہے: ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے با یزید بسطامی سے حالت کشف میں فرمایا (سوال کیا)’’اے بایزید تو کیا چاہتا ہے؟حضرت بایزید نے جواب دیا : ’’میرے مولیٰ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ کچھ نہ چاہوں سوا اس کےکہ تو جو چاہے۔‘‘ انہوں نے اپنی انا کو ختم کردیا اپنے آپ کو اللہ کے لئے فنا کر دیا تب انہیں یہ مقام حاصل ہوا۔ ہمیں چاہئے کہ ہم بھی ان لوگوں کی صفات سے متصف ہوں اور اپنی دنیوی و اخروی دونوں زندگیوں کو کامیاب بنائیں ۔
 اللہ تعالیٰ سے رشتہ اور تعلق جوڑنا آسان کام تو نہیں ہے لیکن جس پر فضل الٰہی ہوجائے اس کے لئے کوئی مشکل بات بھی نہیں ،مگر ہاں !اس کے لئے ایمانی افکاراور اچھے اعمال کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔
ایمانی افکارکی صورتیں 
بندہ غوروفکر سے کام لے اور کائنات کے ہر ذرّے اور چیزمیں خواہ پوشیدہ نشانیاں ہوں یا ظاہر،ان سب کے بارے میں سوچے اور سمجھے، یہاں تک کہ وہ غوروفکرکے سبب اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرلے یا پھر ایک ذمے دار کی حیثیت سے وہ اپنے انجام کے لئے فکرمند ہوجائے۔
 اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔
 یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اس کی عظمت اور حُسن کے جلووں ) میں فکر کرتے رہتے ہیں ، (پھر اس کی معرفت سے لذت آشنا ہو کر پکار اٹھتے ہیں :) اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا، تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ سورہ آل عمران
 بندہ خود اپنی ذات اور وجودکے بارے میں برابر سوچتارہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے ایک حقیرپانی سے پیداکیا ہے اوراپنی قدرت سے اس کے اندر گوناگوں خوبیاں رکھی ہیں ، اس کے جسم کو قیمتی اعضاءسے آراستہ اور پیراستہ کیا اور اچھی بری باتوں میں تمیز کرنے کے لئے دل اوردماغ جیسی انمول نعمت عطا کی ہے،اسی پر بس نہیں بلکہ صبح سے لے کر شام تک بندے پروہ طرح طرح کی نعمتوں کی بارش بھی کرتارہتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات بندوں کے عیش وعشرت کے سامان اکٹھا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں صرف تجارت،مال ودولت، آل اولاد،عالی شان محلات اور زندگی کے ٹھاٹ باٹ کا ہی شمار نہیں بلکہ یہ سب نہ ہوتے ہوئے بھی انسان کے پاس ہاتھ، کان، ناک،آنکھ اورپاؤں جیسی بہترین نعمتیں ہیں ۔ جو انسان صرف آدھا پیٹ کھا تاہے یا بھوکا رہتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے محروم نہیں ہے،کیوں کہ وہ پانی توپیتا ہے جورب کا قیمتی انعام ہے۔
 لیکن ان تمام طرح کے انعامات اور نعمتیں دینے کے باوجود اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی قیمت یا معاوضہ طلب نہیں کرتا یہ بات ایک مومن بندے کے پیش نظر ہمیشہ رہنی چاہئے، اس کے برخلاف دنیا کا کوئی حاکم یا بادشاہ اگر کسی پر کوئی انعام کرتا ہے تو اس وقت تک اُسے نہیں چھوڑتا جب تک کہ اس کی طاقت کے مطابق بھرپورکام نہ لے لے۔
اچھے اعمال کی صورتیں 
  عبادات کو خلوص ومحبت کے ساتھ اداکرنا جو ایمان کی پہچان ہیں ،مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ،حج وغیرہ،اس لئے کہ توحید و رسالت پر ایمان کے ساتھ اِن کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ نمازکے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں باریابی حاصل کرتا ہے۔روزے میں بندہ کھانے پر قدرت رکھتے ہوئے صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر بھوکا پیاسا رہتا ہے۔زکوٰۃ میں بندہ اپنا وہ مال جو دنیا کی نگاہوں سے چھپاتاپھرتاہے اور بڑی حفاظت سے رکھتا ہے،لیکن اللہ کی رضا کیلئے اُسے خرچ کرنے میں ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔حج کیلئے بندہ نہ صرف اپنے گھرباراور اہل وعیال سے دور جاتا ہے بلکہ مال و دولت خرچ کرنے کے علاوہ جسمانی دقّت اورپریشانی بھی اٹھاتاہے تو صرف اسی لئے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجائے۔
 تلاوت قرآن کرکے بھی بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا سے قریب ہو سکتاہے جس کے ایک ایک حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں اور جس کی تلاوت سے دلوں کا زنگ دور ہوتاہے۔
 ذکرو اذکار اور تسبیح وتہلیل کے ذریعے بھی انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتا ہے،خود اللہ تعالیٰ نے زیادہ سے زیادہ ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔‘‘سورہ احزابذکرکے کچھ مخصوص کلمات بھی ہیں جیسے سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لاحول ولاقوۃ الا باللہ، وغیرہ، جنہیں ہمہ وقت ورد زبان رکھاجاسکتاہے۔خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے۔
 اللہ تعالیٰ کے احکام کو تسلیم کرنا یعنی جن چیزوں کے کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے بندہ انہیں بجالائے، اس لئے کہ ان احکام کا بجالانا بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق اورقرب حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے رکنے کا حکم دیا ہے بندہ اُن سے دورہوجائے،کیوں کہ نافرمانی کی صورت میں بندے کے دلوں میں سیاہ دھبہ پڑ جاتا ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ سے دور ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھئے کہ بندے کو خود سے تعلق بنانے اور قریب کرنے کے لئے فرماتاہے: ’’اے ایمان والو! تم اللہ کے حضور رجوعِ کامل سے خالص توبہ کر لو، یقین ہے کہ تمہارا رب تم سے تمہاری خطائیں دفع فرما دے گا ۔‘‘ سورہ تحریم
 مگر یہ تعلق محبت کا اس کی معرفت کا اس سے وصل کا جڑ جانا یہ خالص ہو ناچاہئے ،اس میں ملاوٹ نہ ہو۔ ہمارے لئے مشکل یہ ہے کہ یا تو ہم اسے چاہتے نہیں ،یہ ایک مرض اور جو چاہتے بھی ہیں تو بہت ساری چاہتوں کی ملاوٹ کے ساتھ ۔ ہماری چاہت خالص نہیں ہو تی۔رب چاہتا ہے میرا بندہ مجھے خلوص کے ساتھ چاہے ،اس کی چاہت میں ملاوٹ نہ ہو۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کو چاہنے میں خلوص سے کام لیں تو پھر دیکھیں ہمارا کیا حال ہوگا ،ہم دنیا و مافیہا سے بیزار ہو جائیں گے اور ہمارا مقصد اصلی صرف اللہ ہی اللہ ہوگا۔
 اللہ تعالیٰ ہم سب کوہمیشہ اپنی رضا سے قریب رکھے اوراپنے تعلق و محبت میں خالص بنائے۔ دنیا و آخرت میں کامیاب وکامران بنائے۔ آمین۔

islam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK