اتنی دیر نہ کی ہوتی تو اور درست ہوتا

Updated: August 16, 2022, 1:30 PM IST | Hassan Kamal | Mumbai

اب دیکھنا ہے کہ بہار کی اتھل پتھل کا مہاراشٹر کے حالات پر کیا اثر پڑتا ہے اور ایکناتھ شندے ان حالات سے کوئی سبق لیتے ہیں؟ کیا وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ مودی۔ شاہ ٹیم اب بھی اتنی طاقتور ہے کہ انہیں ادھو ٹھاکرے اور ایم وی اے سے بچائے رکھے گی؟

Nitish Kumar. Picture:INN
نتیش کمار ۔ تصویر:آئی این این

کہتے ہیں ’’دیر آید، درست آید‘‘۔ لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ہونے میں اگر دیر نہ ہوتی تو اور بھی درست ہوتا۔ نتیش کمار نے پالا بدلنے میں اتنی دیر نہ لگائی ہوتی تو ملک کا سیاسی منظر کچھ اور ہی ہوتا۔ اگر بہار کی الٹ پھیر صرف چند ماہ پہلے ہو جاتی تو اترپردیش اور اترا کھنڈ میں بھی بی جے پی کا دھڑن تختہ ہو چکا ہوتا۔ بہرحال اب یہ بات شاید سب کی سمجھ میں آنے لگی ہو کہ پچھلے کچھ عرصہ سے مودی۔ شاہ ٹیم میں اتنی سنسنی خیزی اور جلد بازی کیوں دیکھی جا رہی تھی۔ مودی ملک کے وزیر اعظم اور امیت شاہ ان کے نمبر ٹو اور مرکزی وزیر داخلہ ہیں، ملک کی تمام جاسوس ایجنسیاں ان کے تابع احکام ہیں۔ ملک میں کہاں کیا ہو رہا ہے اس بابت دونوں کو پل پل کی خبر ملتی رہتی ہے، اس لئے یہ ناممکن ہے کہ انہیں بہار میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے، اس کی کوئی خبر نہ ہو۔ مودی ۔شاہ ٹیم نے کرناٹک سرکار توڑی، مدھیہ پردیش کی سرکار گرائی، کرناٹک میں سرکار کا تختہ الٹا اور آخر میں مہاراشٹر کی ایک مقبول سرکار کو پٹری سے اتار دیا۔ تو پھر بہار میں اس کی کوئی چال کیوں کامیاب نہیں ہوئی؟بی جے پی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ملک کی، بلکہ امیت شاہ کی مانی جائے تو دنیا کی ، سب سے مالدار پارٹی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے فنڈ  ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور بی جے پی کے فنڈ دوسرے پلڑے میں رکھ دیئے جائیں تو ساری پارٹیوں کے فنڈ کا پلڑا ترازو کی بالکل اوپری سطح کو اور بی جے پی والا پلڑا بالکل زمین کو چھوتا دکھائی دے گا۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ کرناٹک، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں اربوں کے وارے نیارے ہوئے۔ راجستھان میں بھی بی جے پی کا ’’دھن بَل‘‘ کام کر سکتا تھا، لیکن وہاں ان ہی کی پارٹی کی لیڈر ودیا راجے سندھیا نے اس کا کام خراب کر دیا۔ بہار میں بھی اس دھن بل کو بروئے کار لانے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے سہارے وہاں بھی ایک عددایکناتھ شندے تلاش کر نے کی کوشش کی گئی ، لیکن وہاں انہیں جو ایکناتھ شندے ملے وہ آر پی سنگھ تھے جو سیاسی اعتبار سے نہایت پستہ قد ثابت ہوئے، اس صورت حال نے مودی ۔شاہ ٹیم کو گڑبڑا دیا ۔ انہوں نے پلاننگ کی کہ اس سے پہلے کہ بہار میں کچھ ہو جھار کھنڈ اور چھتیس گڑھ کی سرکاریں گرا دی جائیں تاکہ نتیش کمار اور تیجسوی کے حوصلے پست ہو جائیں لیکن نتیش کمار موقع پرست تو ہیں، اناڑی نہیں ہیں۔ وہ کافی عرصہ اِدھر اُدھر ہوتے رہے تاکہ مودی۔ شاہ ٹیم سمجھ نہ سکے کہ ان کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ مودی۔ شاہ ٹیم کو اندازہ کاری میں غلطی اس لئے بھی ہوئی کہ بہار کے مقامی بی جے پی لیڈروں نے ان کو اس بھرم میں ڈال دیا تھا کہ جن نتیش کمار نے لالو پرساد یادو کے خلاف ہر حد تک جاکر بی جے پی کا ساتھ دیا تھا اور لالو یادو کے خلاف شہادتیں دے کر ان کو سزا دلائی تھی، وہ نتیش کمار دوبارہ لالو کیمپ میں جانے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔   نتیش کمار کی اس اچانک قلابازی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں، اس کے حوالے سے کئی تبصرے اور تجزئے سامنے آئیں گے، لیکن یہ سب دیکھ کر ہمیں پرشانت کشور اور راج دیپ سردیسائی کی وہ بات چیت یاد آگئی ،جو کچھ ماہ قبل ایک ٹی وی چینل پر ہوئی تھی اور جس کا ذکر ان کالموں میں بھی کیا گیا تھا۔ پرشانت کشور نے کہا تھا کہ نریندر مودی کی ۲۰۲۴ ءمیں واپسی بہت دشوار ہے اور یہ کہ اس بات کو مودی سے زیادہ کوئی نہیں جانتا، اتفاق سے نتیش کمار نے بھی کہا ہے کہ ۲۰۱۴ ءکی بات اور تھی، لیکن ۲۰۲۴ ءمیں مودی جی کو بہت کچھ سوچنا پڑے گا۔ یعنی نتیش کمار کو اندازہ ہو گیا ہے کہ نریندر مودی سیاسی اعتبار سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں، مودی کی کمزوری کا مطلب بی جے پی سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ چنانچہ آسان لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نتیش کمار نے بدلتے حالات کا اندازہ لگانے کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا ہے، کیونکہ ۲۰۱۹ ءمیں ان ہی نتیش کمار نے کہا تھا کہ مودی کے سوا ہے ہی کون؟ بہر حال یہ نہ بھولنا چاہئے کہ مودی۔ شاہ ٹیم آسانی سے ہار ماننے والی نہیںہے۔ دونوں پوری کوشش کریں گے کہ مہاراشٹر کا تماشہ بہار میں بھی کھیلا جائے۔ حالانکہ اب ان کیلئے دیر ہوچکی ہے۔ بہار میں مودی۔ شاہ ٹیم کو صرف سیاسی ہزیمت کا افسوس نہیں ہے۔ یہاں ایک اور اندیشہ ہے۔ دونوں جانتے ہیں کہ تیجسوی یادو کاسٹ کی بنیاد پر مردم شماری کیلئے ایک تحریک کا آغاز کر چکے تھے اور نتیش کمار نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی، بلکہ دبی دبی آواز میں اس کی حمایت کی تھی۔ ہندوستان میں یہ جاننے کے لئے کہ سناتن دھرمیوں میں برہمنوں ، کشتریوں، ویشیوں اور شودروں کی کتنی تعداد ہے۔ ایسی کاسٹ کاؤنٹنگ ۱۹۱۱ ء  میں یعنی انگریزوں کے دور میں ہوئی تھی۔ اس مردم شماری ہی سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ سُورنوں یعنی اپر کاسٹ کی جملہ تعداد تمام ہندوئوں کی تعداد کی صرف ساڑھے بارہ فیصد اور ۱۵؍ فیصد کے درمیان ہے۔ یعنی شودروں کی تعداد ۸۵؍ فیصد ہے۔ یاد رہے کہ شاستروں کے مطابق جو برہمن ، کشتری یا ویشیہ نہیں پھر وہ صرف اور صرف شودرہے۔ اس مردم شماری نے سماج میں نئے نئے مسائل کو جنم دیا تھا اور ان کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس لئے اگر بہار میں کاسٹ کی بنیاد پر مردم شماری ہوئی تو یہ منڈل سے بھی بڑے سماجی انقلاب کا پیش خیمہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اگر بہار میں ایسی مردم شماری ہوئی تو اتر پردیش میں اس کا مطالبہ شدت پکڑے گا اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا مودی ۔شاہ ٹیم ہی نہیں تمام بی جے پی اور آر ایس ایس اس کے تصور سے لرزہ بر اندام ہے۔ اس لئے بھی مودی۔ شاہ ٹیم ہر حربہ آزمائے گی۔ اب دیکھنا ہے کہ بہار کی اتھل پتھل کا مہاراشٹر کے حالات پر کیا اثر  پڑتا ہے اور ایکناتھ شندے ان حالات سے کوئی سبق لیتے ہیں؟ کیا وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ مودی۔ شاہ ٹیم اب بھی اتنی طاقتور ہے کہ  انہیں  ادھو ٹھاکرے اور ایم وی اے سے بچائے رکھے گی؟ ہمارا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ شندے کو اب بھی بی جے پی پر بھروسہ ہو اور وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہوں ، لیکن ان کے خیمے کے ساتھیوں میں بی جے پی کو ایک مضـبوط ور لائق اعتماد حلیف نہیں سمجھا جا رہا ہے۔ دوسرے دیویندر فرنویس اتنے بڑے لیڈر بھی نہیں ہیں کہ کسی ہنگامی حالت میں صورت حال کو سنبھال سکیں۔اگر ایکناتھ شندے اب بھی نہیں سمجھے کہ بی جے پی کسی صوبہ کی لیڈر شپ صرف اس لئے استعمال کرتی ہے کہ اس کے کاندھوں پر سوار ہو کر اپنا قد بڑھالے اور پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتی ہے تو جب تک وہ سمجھیں گے تب تک گاڑی نکل چکی ہوگی اور پٹری چمک رہی ہوگی۔ کیونکہ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ بہار کے حالات ملک بھر کی سیاست پر اثر انداز ہوںگے اور مہاراشٹر ان اثرات سے بچ نہیں سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK