کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پس پشت کس کا ہاتھ ہے یہ جاننے کی خواہش اپنی جگہ مگر ان کالموں میں مضمون نگار کا کہنا ہے کہ اس کی کچھ حصولیابی بھی ہے جس کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
EPAPER
Updated: July 19, 2026, 12:29 PM IST | Aakar Patel | Mumbai
کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پس پشت کس کا ہاتھ ہے یہ جاننے کی خواہش اپنی جگہ مگر ان کالموں میں مضمون نگار کا کہنا ہے کہ اس کی کچھ حصولیابی بھی ہے جس کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر چند باتیں ذہن میں آتی ہیں : ماہر ماحولیات سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال ایک مطالبے کے تحت ہوئی تھی۔ مطالبہ یہ کہ وزیر تعلیم کو استعفےٰ دینا چاہئے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وزیر موصوف اُن اہم ذمہ داریوں میں سے ایک میں بُری طرح ناکام ہوئے جو اُنہیں تفویض کی گئی تھیں۔ ایک ذمہ داری یہ تھی کہ نیٹ کا امتحان بدعنوانی کے بغیر منعقد کیا جائے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ۲۰۲۴ء میں بھی پرچہ لیک ہوا تھا اور وزیر تعلیم اپنی جگہ برقرار رہے تھے۔ اس سال، حکومت کو یہ ماننے پر مجبور ہونا پڑا کہ ہاں اس میں کرپشن ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں اُسے امتحان منسوخ کرکے نئی تاریخ کا اعلان کرنا پڑا۔ اس سے ۲۰؍ لاکھ طلبہ متاثر ہوئے۔ اگر ان ۲۰؍ لاکھ طلبہ کو اُن کے اہل خانہ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک کروڑ افراد براہ راست متاثر ہوئے۔ ان ایک کروڑ افراد کو شدید ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑا، قطعی عدم محفوظیت کا احساس اُن پر غالب رہا اور وہ مسلسل اضطراب میں رہے۔
مئی کا امتحان منسوخ ہونے اور پھر جون میں دوبارہ منعقد کئے جانے کی درمیانی مدت کے ۳۷؍ دنوں میں ۱۲؍ لڑ کے لڑکیوں نے اپنی زندگی ختم کردی۔ ہمیں اتنے ہی طلبہ کے بارے میں معلوم ہے، اور کسی نے انتہائی قدم اٹھایا ہو تو اس کی تفصیل ہمارے پاس نہیں۔ کچھ کہے بغیر حکومت کو ماننا پڑا کہ وزارت تعلیم پر پرچوں کے بارے میں بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے اُسےپرچوں کو امتحانی مراکز تک لانے کیلئے ایئر فورس کی خدمات حاصل کرنی پڑیں۔ کہا نہیں جاسکتا کہ یہ محض ڈراما تھا یا پرچہ لیک ہونے کے حقیقی خطرہ سے بچنے کی کوشش، جو بھی ہو، دونوں میں حکومت کی شبیہ بہتر نہیں ہوئی۔ مگر اس بات کے اعتراف کے ذریعہ کہ نیٹ میں کرپشن کو روکا نہیں جاسکا، حکومت نے جوابدہی سے بچنے کی راہ نکال لی۔ حکومت نے وزیر تعلیم کو بحال رکھنے کو ترجیح دی اور اُن پر اعتماد کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ اب ہم اپنی قیاس آرائیوں میں مصروف رہیں، حکومت کو جو کرنا تھا وہ اس نے کیا۔ ہم میں سے وہ لوگ جو وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں اور اس بنیاد پر اُنہیں پسند نہیں کرتے وہ کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ اپنی سی کرتے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں وہ اپنے طور طریقوں پر قائم رہنا بھی پسند کرتے ہیں۔ یہ ان کی رعونت ہے۔ یا، اُن کا ایسا طریق کار یہ سمجھاتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی کسی کمزوری کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے برخلاف جو لوگ وزیر اعظم کے مداح ہیں وہ بھی اپنے طور پر کوئی رائے قائم کرتے ہوں گے کہ فلاں وجہ سے دھرمیندر پردھان کو بحال رکھا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی طرح کی قیاس آرائیوں میں کچھ دم نہیں۔ پردھان کو اُن کی لاپروائی اور اہلیت کی کمی کے باوجود بحال رکھا گیا اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ اُن کی حیثیت ایک بوجھ کی سی ہوگی اور کوئی بھی کبھی بھی اُن پر تنقید کرسکے گا۔
ہندوستان میں اہلیت کی کمی اور بدعنوانی ایسے مسائل ہیں کہ جن سے روگردانی ممکن نہیں۔ یہ مسائل حقیقی بھی ہیں، ڈھانچہ جاتی بھی اور ان کا سماج سے بھی تعلق ہے۔ ان حقائق سے وہی انکار کریگا جو وزیر اعظم کے ۲۰۱۴ء کے جادو کے زیر اثر اب بھی ہیں۔
جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کی بابت جو دوسری بات میرے ذہن میں آتی ہے، یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایسا احتجاج بھی ناقابل برداشت ہوگیا ہے جو پُرامن ہو اور جس سے کسی کو تکلیف نہ ہوتی ہو۔ ملکی یا غیر ملکی اداروں کو ہمیں کسی جدول کے ذریعہ بتانے کی ضرورت نہیں ہم خود جانتے ہیں کہ اب ہم اتنے جمہوری نہیں رہ گئے ہیں جتنے کہ ہوا کرتے تھے۔ اب ہم ’’پارٹلی ڈیموکریٹک‘‘ (جزوی طور پر جمہوری) ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی جدول ہمیں جو بتاتے ہیں وہ تو سال میں ایک آدھ مرتبہ بتاتے ہیں، ہم اپنے حالات کا روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ، لوگوں کا پُرامن طریقے سے یکجا ہونا جو کہ آرٹیکل ۱۹؍ کے تحت بنیادی حق ہے، مشکل ہوگیا، پھر اس پر قدغن لگنے لگا اور اس کے بعد یہ ایک طرح کا جرم ہوگیا۔ جب ملک کے شہری حکومت کی کسی بات سے اتفاق نہ کریں یعنی اختلاف کریں تو ’’مادرِ جمہوریت‘‘ کو غصہ آتا ہے اور اس کا تحمل جواب دے جاتا ہے۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ عاملہ اور عدلیہ نے اُس فاصلے کو کم سے کم تر کردیا جس میں پُرامن احتجاج ممکن تھا۔ ممبئی کے آزاد میدان کی بات کیجئے یا بنگلور کے فریڈم پارک کی یا پھر دہلی کے جنتر منتر کی، ہر جگہ ایک جیسی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرح سے ہم شہریوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ مخصوص مقامات پر بھی، جو ہمیشہ سے احتجاج کیلئے مشہور رہے ہیں، کوئی مظاہرہ کیا گیا تو وہ حکومت کیلئے ناقابل قبول ہوگا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج کے پیش نظر جو تیسرا خیال میرے ذہن میں آتا ہے، یہ ہے کہ جب مظاہرین مصمم ارادہ کے تحت مظاہرہ کرتے ہیں اور اُن کے پاس حکمت عملی بھی ہوتی ہے تو وہ خود کو منوا سکتے ہیں۔ دہلی کی سرحد پر کسانوں نے یہی کیا تھا۔ وہ احتجاج کافی منظم تھا۔ اُس کو ختم کروانے کی بہتیری کوششیں کی گئیں مگر کسانوں کا عزم فولادی تھا۔ وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت ہی کو ہار ماننی پڑی۔ این آر سی کے وقت جو احتجاج ہوا وہ اتنا منظم نہیں تھا اس کے باوجود مثبت اثرات مرتب ہوئےجس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جن کیمپوں میں لوگوں کو بھیجنا تھا، وہاں اب تک کسی کو نہیں بھیجا گیا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ جابرانہ ماحول میں بھی پُرامن احتجاج اپنا اثر دکھلا کر رہتا ہے۔
کاکروچ پارٹی کے جس احتجاج سے بعضوں کو یہ شکایت ہورہی تھی کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہے انہوں نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ اس میں وہ سب کچھ تھا جو ہونا چاہئے۔ اسے توجہ بھی ملی اور ہمدردی بھی۔ سوال یہ ہے کہ اس کے آگے کیا ہوگا؟
اس احتجاج سے چوتھی بات یہ ذہن میں آتی ہے جن طلبہ نے اس میں شرکت کی وہ ہماری عدلیہ، میڈیا، پولیس، ملکی قوانین اور ہمارا سماج، ان سب کی حقیقت کو اچھی طرح جان چکے ہیں۔ اس طرح جاننا ہمارے لئے ممکن نہیں جو احتجاج میں شامل نہیں ہوئے۔