Updated: July 17, 2026, 10:09 PM IST
| New Delhi
ایڈیٹرز گلڈ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ بیان میں گلڈ نے کہا کہ وزیرِ اعظم کیلئے لازمی ہے کہ وہ فوری سیاسی اور اقتصادی مسائل پر شہری اور دیہی دونوں طبقات کے عوام کو باقاعدگی سے جواب دیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ایشیاء کی جنگ کے نتیجے میں دنیا توانائی کے بے مثال بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی۔ تصویر: ایکس
’ایڈیٹرز گِلڈ آف انڈیا‘ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے پریس کانفرنسیں نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرنے پر وزارتِ خارجہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مدیروں اور صحافیوں کی ایسوسی ایشن نے اس وضاحت کو ”انتہائی ناقص“ قرار دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام پر زور دیا کہ وہ ایسی ”لچھے دار گفتگو“ بند کریں جو ”آزادیٔ اظہارِ رائے اور میڈیا کی آزادی کو دبانے کا سبب بنتی ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ، ایران جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، تازہ فضائی حملے اور جوابی کارروائیاں
پی ایم مودی کے پریس کانفرنس نہ کرنے پر حالیہ تنازع، وزیراعظم کے تین ممالک کے دورے کے آخری مرحلے پر جمعہ کو آکلینڈ میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران پیدا ہوا، جب ایک صحافی نے وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری (مشرق) رودریندرا ٹنڈن سے سوال کیا کہ مودی نے اب تک کوئی پریس کانفرنس کیوں نہیں کی۔ ٹنڈن نے مسکراتے ہوئے اور اسے پہلے سے مانوس صورتحال (deja vu) قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سرکاری ملازم کیلئے وزیرِ اعظم کے سیاسی فیصلوں پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس پر تبصرہ کر ہی دیا۔
ٹنڈن نے کہا کہ ”وزیرِ اعظم مودی ایک بہترین اور روایتی ہندوستانی سیاست دان ہیں اور ہندوستانی سیاست دان اپنے ووٹرز کے ساتھ براہِ راست رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسٹر مودی نے اپنے ووٹرز کے ساتھ براہِ راست رابطے کے فن کو کمال تک پہنچایا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ اس میں کافی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیونکہ وہ اپنے تیسرے دور حکومت میں ہیں۔“
ایڈیٹرز گلڈ نے اس دلیل کو یکسر مسترد کر دیا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ بیان میں گلڈ نے کہا کہ وزیرِ اعظم کیلئے لازمی ہے کہ وہ فوری سیاسی اور اقتصادی مسائل پر شہری اور دیہی دونوں طبقات کے عوام کو باقاعدگی سے جواب دیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ایشیاء کی جنگ کے نتیجے میں دنیا توانائی کے بے مثال بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ”سچ تو یہ ہے کہ وہ اس بہت بڑے بحران پر کسی بھی قسم کے میڈیا کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے سے کتراتے رہے ہیں۔“
گلڈ نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے براہِ راست پیغامات پریس کانفرنسوں کا نعم البدل ہوسکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ”پہلے سے لکھے ہوئے، یکطرفہ روابط، جو زیادہ تر سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے ہوتے ہیں، آزاد میڈیا کے ساتھ عوامی بات چیت کا متبادل نہیں ہو سکتے۔“ گلڈ نے مزید کہا کہ ہر فعال جمہوریت میں میڈیا عوام کی طرف سے بولتا ہے اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے جواب دہی کا مطالبہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’بلڈوزر انصاف‘ پر توہین عدالت کی اپیلوں پر سماعت سے انکار
واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب اس سوال نے بیرونِ ملک مودی کا پیچھا کیا ہو۔ مئی میں، ناروے کے وزیرِ اعظم جوناس گہر اسٹور کے ساتھ اوسلو میں ایک مشترکہ تقریب کے دوران، صحافی ہیلے لنگ نے مودی سے براہِ راست سوال کیا تھا کہ وہ صحافیوں سے سوالات کیوں نہیں لیتے؟ مودی نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہاں سے چلے گئے، اس وائرل ویڈیو نے دنیا بھر میں سرخیاں بٹوری تھیں۔