Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ میں ملازمتیں امریکیوں کیلئے ہیں، غیر ملکی فراڈیوں کیلئے نہیں: جے ڈی وینس

Updated: July 11, 2026, 10:23 AM IST | Agency | New York

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایچ۔ون بی ویزا تحقیقات پراپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ون بی ورک ویزا پروگرام کا مقصد باصلاحیت غیر ملکی ماہرین کو قانونی طور پر امریکہ میں کام کا موقع فراہم کرنا تھا۔

Vance.Photo:INN
وینس۔ تصویر:آئی این این
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایچ۔ون بی ویزا تحقیقات پراپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ون بی ورک ویزا پروگرام کا مقصد باصلاحیت غیر ملکی ماہرین کو قانونی طور پر امریکہ میں کام کا موقع فراہم کرنا تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ بعض بڑی کمپنیاں اور غیر ملکی عناصر اس نظام کا ناجائز فائدہ اٹھا کر امریکی کارکنوں کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔  میڈیا  رپورٹس کے مطابق امریکہ میں غیر ملکی ہنر مند پیشہ ور افراد کی بھرتی کے لئے استعمال ہونے والا ایچ ون بی ورک ویزا پروگرام ٹرمپ انتظامیہ کا اب تک کا بڑا فراڈ تحقیقات میں شامل ہو چکا ہے۔اس موقع پر نائب صدر جے ڈی وینس نے ان افراد کو خبردار کیا ہے جن پر امریکی ملازمتوں کی قیمت پر ویزا نظام کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں وسکونسن ایئر نیشنل گارڈ کے۱۲۸؍ ویں ایئر ری فیولنگ ونگ بیس کے دورے میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی محکمۂ محنت پہلے ہی متعدد افراد اور اداروں کے خلاف سمن جاری کر چکا ہے اور ان کے بقول غیر ملکی فراڈیوں کی جانب سے ویزا پروگرام کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایچ ون بی ویزا پروگرام موجود ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فراڈ ٹاسک فورس کتنے وسیع پیمانے پر کام کر رہی ہے، ہم نہ صرف ٹیکس دہندگان کے پیسے کا تحفظ کر رہے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ فراڈ کرنے والے افراد ویزا پروگراموں کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
 
 
جے ڈی وینس نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کسی غیر معمولی ٹیکنالوجی کے ماہر، ممتاز سائنسدان یا بہترین ڈاکٹر کو امریکہ میں قانونی طور پر کام کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس مقصد سے انحراف کیا گیا ہے، آج بیشتر بڑی کمپنیاں اور بیرونِ ملک موجود فراڈ کرنے والے عناصر اس پروگرام کو امریکی کارکنوں کی اجرتیں کم رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK