ایم ٹی وی سےمکہ تک عقیدے کا سفر

Updated: July 06, 2020, 8:49 AM IST | Shahid Nadeem

ایم ٹی وی کی مشہور اینکر کرسٹین بیکر کی داستان جنہوں نے ذہنی سکون اور اطمینان قلب کی تلاش میں اسلام قبول کیا

Kristian
کرسٹین بیکر جنہوں نے اپنے قبول اسلام کے بارے میں ’فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ ‘ نامی کتاب لکھی ہے

  جرمنی کے ہیمبرگ میں پروان چڑھی ، بیس برس کی کرسٹن بیکر کے پاس بہت وقت تھا۔ وہ یورپ ایم ٹی وی کا اینکر بننے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ انگریزی کے نغمہ نگار ، موسیقار اوراداکار میک  جیگر اور آئرش گلوکار یونو جیسے مشہور اور مقبول لوگوں سے ملنے اور گفتگو کرنے کا ارادہ رکھتی تھی ا ور خوب پیسے کمانا چاہتی تھی۔ جرمنی میں وہ یورپ ایم ٹی  وی کی  اینکر بن گئی اور جلد ہی یورپی پریس اور عوام میں مقبول ہوگئی۔ اپنی یادیں، فرام ایم ٹی وی  ٹومکہ (مطبوعہ  میں وہ لکھتی  ہیں)  ’’میں اپنا ہفتہ وار پروگرام یورپین ٹاپ ٹوینٹی پیش کرتی تو لاکھوں کروڑوں اسے شوق سے دیکھتے ’’جلد ہی بیکر نوجوانوں میں مشہور ہوگئی ، لوگ اس کی مثالیں دیتے رہتے، بڑی  تعداد میں مداحوں کے ای میل موصول ہوتے، سخت محنت اور مسرور زندگی گزارنا اس کا مقصد تھا ہرچند کہ ہفتوں بعد اپنے دوسرے پروگراموں کے سلسلے میں  دنیا کے بیشتر ممالک  میں جانے اور لوگوںسے ملنے کا موقع ملتا۔  
 بیکر کے مطابق ’’ جلد ہی  کیبل ٹی وی پر ووٹ کے ذریعہ مجھے سب سے مقبول اینکر منتخب کرلیا گیا، یورپی اخبار مجھے نوجوانوں کی ملکہ ، پاپ آئیکون ، خوبصورت  بلّی  آف ایم ٹی وی یورپ  سے خطاب کرتے ۔ جرمنی میں مجھے کافی ایوارڈ بھی ملے۔  ۱۹۸۹ء میں لندن آگئی۔مجھے وہ سب کچھ حاصل تھا۔ جس کا خواب ایک جوان لڑکی دیکھتی ہے ، اس کے باوجود میں مطمئن نہیں تھی۔ مجھ  پر مسلسل پروگرام پیش کرنے کا دباؤ تھا۔شو بزنس پر ایک دوسرے پر سبقت اور اَنا کا بوجھ ، ناپائیدار طرز زندگی خوشگوار ہونے کے باوجود تھکا دیتی ہے۔ اسٹیج پر ہزاروں شائقین کا شور اور ہنگامہ  اور صبح کسی بے نام ہوٹل کے کمرے میں تنہا۔ اس  بے پناہ زندگی نے مجھے اندر سے خالی کردیا تھا۔ اس بحرانی  دور میں جب میں اپنی کریئر کے  عروج پر تھی میری ملاقات عمران خان سے ہوئی اور جس نے میری زندگی یکسر بدل کر رکھ دی ۔
  عمران خان نے مجھے ایک بالکل مختلف دنیا سے متعارف کرایا۔ مشرق اور مذہب اسلام ۔ اس سابق کرکٹر کی سربراہی میں  پاکستان کو ورلڈ کپ حاصل کئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ ہم ملے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرلاہور میں فلاحی اسپتال کی تعمیر  پر توجہ دینا چاہتا تھا۔ اس وقت وہ اپنے عقائد کو دریافت کرنے کے عمل سے گزر  رہا تھا، وہ اپنی ہر دریافت پُر جوش انداز میں لوگوں سے بیان کرتا۔ خاص طورپر میرے خیالات اور عقیدہ متزلزل ہونے لگے۔ہم روحانیت پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس بارے میں میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ میری اوراس کی تہذیب، مشرق اور مغرب کے درمیان کا فرق تھا۔ ایک مستقل  بندھی ٹکی سوچ اس  زندگی کا ساتھ کس طرح دے سکتی ہے جو ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے،  ہم نسل پرستی پر بھی بات کرتے۔
 میری ملازمت جو مجھے بہت  عزیز تھی، کسی طرح بھی اخلاقی اصولوں ، سیاست اور مذہب کے لئےنامناسب ہے۔ ہم فلسفہ  پربھی بات کرتے۔ عمران نے مذہبی اصولوں اور ضابطوں کو زبردستی میری حلق میں نہیں اتارا۔ عمران نے مجھے اسلام سے متعلق کتابیں  فراہم کیں، تاکہ میں اس کے عقیدے کو سمجھ سکوں۔ میں اس  بارے میں بہت کم واقف تھی، بلکہ کسی حد تک متعصب بھی تھی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پہلی ہی کتاب نے مجھے متاثر کیا۔ یہ ایک نئی کائنات کی دریافت تھی۔ میں نے تسلیم کیا کہ خدا ایک ہے اور ہم اپنے کئے کے خود ذمہ دار ہیں۔ بچے معصوم پیدا ہوتے ہیں گہنگار نہیں ۔ میں نے یہ سمجھا کہ قرآن روزمرہ کی عملی زندگی میں میری کس طرح مدد کرسکتا ہے، مجھے روحانیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی خواہش ہوئی ۔ میں نے روح کے بارے میں مطالعہ کیا جو اپنے ماخذ کی طرف لوٹ جائے گی، یعنی   خدا۔ میں نے دریافت کیا کہ جسم اور دماغ  کی طرح روح کو بھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے، جسے میں اب تک نظرانداز کرتی رہی تھی۔ جلد ہی عمران نے مجھے پاکستان آنے کی دعوت دی اور پورے   ملک کی سیر کرائی۔ اس میں وہ علاقہ بھی شامل تھا، جہاں  آج جانا ممکن نہیں ہے۔ مثلاً حسین وادیٔ سوات، فرنٹیر، پشاور اور وزیر ستان ۔ جو اَب علاقائی اور بین الاقوامی جنگجوؤں کے لئے محفوظ علاقہ بن چکا ہے ۔ اس دوران کرسٹن بیکر کو پاپ اسٹاروں کے بجائے ایسے خدا پرست لوگوں سے ملنے کا موقع ملا جو دنیا کے عیش وآرام  سے دور تھے۔ اس نے قرآن کا مطالعہ کیا۔ اسلامی ممالک  کا سفر کیا اور احسا س ہوا کہ اسے روحانی راستہ مل گیا ہے۔ کرسٹن کو فنون لطیفہ  سے شروع سے ہی دلچسپی تھی۔ اس نے وہاں  قوالی سنی اوراس کے ایک ایک رنگ کو محسوس کیا۔مغرب  کے بے روح اورسطحی پاپ میوزک کے  برخلاف ہر نغمہ اسے محبت کے اعلیٰ مدارج سے جوڑ رہا تھا۔ موسیقی کا  یہ روحانی ذائقہ اندر تک اتر گیا۔ وہ لکھتی  ہیں، ہم شمالی پاکستان کی پہاڑیوں میں بے حد غریب لوگوں سے ملے۔ انہوں نے فراخ دلی سے ہمارا استقبال کیا،  روزگار سے محروم ، عمران کے ہاتھ پر اسپتال کے لئے چند روپے رکھ دیتے ، عورتیں اپنے زیورات نکال کردے دیتیں۔’کئی سال سفر اور کتابوں کے بعد مجھ میں اور عمران میں علاحدگی ہوگئی۔ ’’ عمران خان سے وہ بیاہ کرنا چاہتی تھی مگر انہوںنے اپنے روحانی رہنما کے مشورے پر دوسری عورت سے شادی کرلی۔ عمران کے بارے میں کہوں گی کہ میں اسے تلاش نہیں کررہی تھی بلکہ وہ مجھے  غیر متوقع طورپر مل گیا۔‘‘اس کے باوجود کرسٹن کی اسلام سے دلچسپی کم نہ ہوئی۔اسلام قبول کرنے سے تین برس پہلے ہی اس کے دل  نے آمادگی ظاہر کردی تھی۔ بقول کرسٹن کیونکہ میں خدا کو اپنی زندگی میں حاصل کرنا چاہتی تھی، اپنے آپ کو پاکیزہ کرنا چاہتی تھی تاکہ ان روحانی پھلوں کا ذائقہ لے سکوں جن کے بارے میں میں نے پڑھا ہے ، میں نے لندن کی مسجد میں اسلام قبول کرلیا۔‘‘
 اسلام قبول کرتے ہی کرسٹن بیکر پر خلاف توقع مشکلات اور مصائب کا دور شروع ہوگیا ، جرمنی کے اخباروں  میں اس کے خلاف مہم شروع ہوگئی۔ اس کے تازہ تازہ کئے ہوئے ٹی وی معاہدے اور نوجوانوں کے شوسے برطرف کردیا گیا۔ سات برس بعد جرمنی  میں اس کا کریئر اختتام کو پہنچا ۔ اس کے الفاظ میں ’’ میں ایک مقبول اینکر سے دہشت گردوں کی مددگار بن گئی۔‘‘ یو ں بھی مغرب میں اسلام قبول کرنے والوں کے لئے حالات آسان نہیں ہوتے، وہ کہتی ہے ، عام طورپر یہاں مسلسل گروہ اور جماعت بندی کا احساس ہے، جو مذہب تبدیل کرنے والوں کو بالکل تنہا چھوڑ دیتے ہیں، ہم اقلیت میں بھی اقلیت ہیں، ہم کہاں عبادت کریں؟ پاکستانی ، ایرانی ، ترکی کس مسجد میں جائیں؟‘‘ ابتداء میں انگلستان میں کرسٹن بیکر نے مسلمانوں میں اپنی جگہ  بنانے کی کوشش کی ، مگر  یہ آسان نہیں تھا، اس کا کوئی ساتھی نہیں تھا۔  نہ کوئی دروازہ کھلا تھا، نہ کوئی دوست تھا نہ خاندان کہ جن کے ساتھ وہ افطار کرتی۔ 
  بیکر کو کبھی کبھی یہ احساس  ہوتا تھا کہ مذہب کی تبدیلی نے اسے باہر اور تنہا کردیا  ہے مگر آج اس نے اپنے گھر کے قریب مختلف المسالک کی ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرالی ہے اور پابندی سے اپنے بہت سارے دوستوں کے ساتھ  افطار کرتی ہے۔ ۲۰۰۶ء میں اس نے عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد ۲۰۰۹ء میں اس نے اپنی کتاب ’’فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ ‘  تحریر کی ، اس کا انگریزی کے علاوہ عربی ، ترکی اور ڈچ   میں ترجمہ  ہوچکا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ  آج اسلامو فوبیا کی  خبروں، ناموافق حالات اور دہشت گردی کے ماحول میں مسلمانوں کو  میڈیا کے دیگر ذرائع  میں خبروں کو  پھیلانے کی ضرورت ہے۔ مسلم تہذیب وثقافت  پر ڈاکیو منٹری اور اوپیرا میں مسلم آثار وعلامات کو پیش کرنا  چاہئے، اسلام اور مسلمانوں کی محتاط نمائندگی کیلئے انہوںنے  اپنے عقیدے کے سفر کو کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔ 
  کرسٹن بیکر کا ارادہ ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں گی کہ خبروںمیں  دکھائی جانے والی دہشت اور دباؤ کے علاوہ مسلمانوں کی اکثریت عام انسانوں کی طرح ہے، جو سماج کے خوشگوار اور  باعمل رکن ہیں۔ انہیں اس کے نتائج بھی نظر آرہے ہیں ۔ یورپ میں وہ اسلامی ترجمان کا کردار ادا کررہی ہیں، انہیں محسوس ہورہا ہے کہ جرمنی میں لوگوں کے رویے اور رجحان میں بہتری آئی ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ یورپ میں اسلام کسی حد تک جمود کا شکار ہے، اب یہ نئی نسل کا کام ہے کہ  عالموں سے استفادہ کریں، سماج کے بڑے طبقے، یہاں تک کہ والدین کو بھی بتائیں۔ مجھے یہ سن کر گہرا صدمہ پہنچتا ہے کہ مسلم نوجوان اپنے عقیدے سے گمراہ ہوتے جارہے  ہیں۔ لوگوں سے ملتے رہو، دوستی کرو، ان تک رسائی حاصل کرو، کیوں کہ میں بھی اسی طرح  مسلمان ہوئی،  جن لوگوں سے ملی ان کے خلوص اور سلوک نے مجھے بے حد متاثر کیا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK