موسمِ باراں جاری ہے لیکن صورت ِ حال یہ ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں بارش سے تباہی ہے تو کہیں بارش کا نام و نشان بھی نہیں ہے ۔ ایسے میں جہاں زیادہ سے زیادہ دعا و استغفار کی ضرورت ہے وہیں اپنے اعمال کا محاسبہ بھی کرنا چاہئے
EPAPER
Updated: August 25, 2023, 3:03 PM IST | Muhammad Raza Markazi | Mumbai
موسمِ باراں جاری ہے لیکن صورت ِ حال یہ ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں بارش سے تباہی ہے تو کہیں بارش کا نام و نشان بھی نہیں ہے ۔ ایسے میں جہاں زیادہ سے زیادہ دعا و استغفار کی ضرورت ہے وہیں اپنے اعمال کا محاسبہ بھی کرنا چاہئے
بارش اللہ کی رحمت اور بڑی نعمت ہے۔ نہ آئے تو بلانی پڑتی ہے، زیادہ آجائے تو نفع بخش ہو اس کے لئے دعا کرنی پڑتی ہے۔ ملک کے کئی بلاد (شہر) بارش کی کثرت اور سیلاب کی وجہ سے برباد ہو چکے ہیں ، بے شمار لوگوں کا سہارا ان سے چھن چکا ہے، بے گھر ہوئے لوگوں کے لئے کوئی در نہیں ۔ اس کے برعکس مہاراشٹر میں کچھ شہر خاص طور پر شہر مالیگاؤں میں بارش کی اچھی خاصی کمی کے سبب کئی چیزوں میں بڑا نقصان واقع ہوا ہے۔ موسم باراں میں پانی کی کافی مقدار ڈیموں میں سال بھر کے لئے محفوظ کر لی جاتی تھی، کسان مطمئن ہوتے تھے، کھیتی باڑی کے معاملات کافی حد تک اطمینان بخش ہوتے تھے لیکن اس سال بارش کی کمی نے کساد بازی اور قحط کا ماحول بنا دیا ہے اور شہر کی جان پاور لوم صنعت پر مندی چھائی ہوئی ہے۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ان سب معاملات کا حل سب سے پہلے قرآن و حدیث میں تلاش کرنا ہو گا۔
یاد رہے کہ گناہوں کی کثرت سے بارش رک جاتی ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے: ’’جب لوگ زکوٰة روک لیتے ہیں تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔‘‘ (المستدرک للحاکم ) اس لئے اگر بارش نہیں ہو رہی ہے تو لوگ زکوٰة کی ادائیگی کا اہتمام کریں اور گناہوں سے توبہ و استغفار کریں ۔ قرآن مجید میں بارش کے لئے استغفار کا حکم ہے:
’’(ہودؑ نے کہا) اور اے لوگو! تم اپنے رب سے (گناہوں کی) بخشش مانگو پھر اس کی جناب میں (صدقِ دل سے) رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش بھیجے گا ۔‘‘ (ہود:۵۲)
بارش کی کمی کی وجہ سے اشیائے خوردنی کی گرانی ہوش ربا ہوتی جارہی ہے ، پیداوار اور طلب میں عدم توازن کی وجہ سے بازار میں اناج اورغلہ بھی مہنگا ہوتا جارہا ہے۔
آخر بارش روک کیوں دی جاتی ہے؟
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے جماعت مہاجرین! پانچ چیزوں میں جب تم مبتلا ہو جاؤ ،اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان چیزوں میں مبتلا ہو، تو بارش روک دی جاتی ہے۔
وہ پانچ چیزیں یہ ہیں :
(۱) اول یہ کہ جس قوم میں فحاشی اعلانیہ ہونے لگے تو اس میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھیں یا لوگ اُن سے قطعی ناواقف تھے۔
موجودہ دور میں یہ ہو رہا ہے۔ موبائل کے ذریعے کون سی برائی ہے جو ہم میں نہیں ۔ سب سے زیادہ آج فحاشی کی کثرت ہی تو پائی جارہی ہے چھوٹی چھوٹی عمر کے بچے اس میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ تو کیا یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ اس کے سبب بارش روک دی گئی اور مندی چھا گئی...
(۲)جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط، مصائب اور بادشا ہوں (حکمرانوں ) کے ظلم وستم میں مبتلا کر دی جاتی ہے....
ملک کے حالات اس پر شاہد ہیں ...
(۳) جب کوئی قوم اپنے اموال کی زکوٰۃ نہیں دیتی تو بارش روک دی جاتی ہے اور اگر چوپائے نہ ہوں تو ان پر کبھی بھی بارش نہ بر سے۔
(۴) جو قوم اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے عہد کو توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ غیروں کو ان پر مسلط فرما دیتا ہے جو اس قوم سے عداوت رکھتے ہیں پھر وہ ان کے اموال چھین لیتے ہیں ۔
(۵) جب مسلم حکمراں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ اُس کے نازل کردہ نظام میں (مرضی کے کچھ احکام) اختیار کرلیتے ہیں (اور باقی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ اس قوم کو خانہ جنگی اور) باہمی اختلافات میں مبتلا فرما دیتاہے۔
اس حدیث کی روشنی میں غور کیجئے۔ جہاں موجودہ حالات میں امت مسلمہ کو درپیش احوال اور مسائل کے اسباب کی نشاندہی کی گئی ہے، وہیں اس میں بارش اور پانی کی کمی کے دواسباب کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے :
(۱) اول یہ کہ ناپ تول میں کمی کی وجہ سے قحط اور بھکمری عام کردی جاتی ہے
(۲) دوئم یہ کہ زکوٰۃ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بارش روک لی جاتی ہے۔
اب رحمت خدا کو کس طرح سے منایا جائے؟ اس کی طرف پہل کرنی ہوگی۔ رحمت خدا کو خوش کرنے کے اسباب کیا ہیں ؟ تو وہ یہ ہیں : سب سے پہلے استغفار، رجوع الی اللہ اور توبہ۔
یقیناً قحط سالی لوگوں کی اطاعت ِ الہٰی سے دوری کی علامت اور اس کے حرمات کی پامالی کا واضح اشارہ ہے۔ اس لئےکہ اللہ کی معصیت و نافرمانی شر (بُرائی) لاتی ہے اور خیر وبرکت کو مٹانے کا ایک اہم سبب اورذریعہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سےاللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کے اس پیغام کو ان تک پہنچایا تھا کہ: ’’تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر بڑی زوردار بارش بھیجے گا، اور تمہاری مدد اَموال اور اولاد کے ذریعے فرمائے گا اور تمہارے لئے باغات اُگائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دیگا۔‘‘ (سورہ نوح:۱۰؍تا۱۲)
اسی طرح امام حسن بصری ؒ کے متعلق مروی ہے کہ ان کے مجلس درس میں کسی نے آکر قحط سالی کی شکایت کی تو انہوں نے اسے استغفار کی تلقین کی، کسی دوسرے نے فقروفاقہ کی شکایت کی، اسے بھی آپ نے یہی نسخہ بتلایا، ایک اور شخص نے اپنے باغ کے خشک ہونے کا شکوہ کیا، اسے بھی فرمایا کہ استغفار کرو۔ ایک شخص نے کہا کہ میرے گھر اولاد نہیں ہوتی، اسے بھی امام بصریؒ نے استغفار کرنے کی تلقین کی۔
ایک شخص نے دریافت کیا کہ آپ نے سب کو استغفار ہی کی تلقین کیوں کی؟ آپؒ نے یہی (سورہ نوح کی) آیات مبارکہ تلاوت کرکے فرمایا: کہ مَیں نے اپنے پاس سے کچھ نہیں کہا، یہ وہ نسخہ ہے جو ان سب باتوں کیلئے اللہ نے بتلایا ہے۔
معلوم ہوا کہ ساری خرابی گناہوں کی ہے چنانچہ مصیبت کے ایام میں استغفار لازم ہے۔