جرمنی میں مسلم دشمنی میں ۵۱؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے، ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ یہ قومی امن کیلئے خطرہ ہو سکتا ہے، حقوق تنظیم کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت میں نفرت انگیز حملوں کے۹۷۵؍ واقعات درج پیش آئے، جن میں توہین، دھمکیاں اور جسمانی تشدد شامل ہے۔
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 10:04 PM IST | Berlin
جرمنی میں مسلم دشمنی میں ۵۱؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے، ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ یہ قومی امن کیلئے خطرہ ہو سکتا ہے، حقوق تنظیم کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت میں نفرت انگیز حملوں کے۹۷۵؍ واقعات درج پیش آئے، جن میں توہین، دھمکیاں اور جسمانی تشدد شامل ہے۔
محققین نے خبردار کیا کہ مسلمانوں کے خلاف اجتماعی شک کا رجحان اب انتہائی دائیں بازو سے آگے بڑھ رہا ہے، اور انہوں نے مرکزی دھارے کی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بیان بازی سے گریز کریں۔ جرمنی کے معروف امن محققین کے ایک گروپ نے خبردار کیا کہ مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی اور شک کی فضا جرمنی کے داخلی امن کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔۲۰۲۶ء کی امن رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلم مخالف نسل پرستی ڈھانچہ جاتی طور پر مضبوط ہے اور سیکیورٹی پالیسی کے بیانیہ سے اسے تقویت ملتی ہے۔‘‘رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشت گردی اور نقل مکانی پر ہونے والی بحثیں اکثر قانون کی پابندی کرنے والے مسلم شہریوں اور انتہا پسندوں اقلیت کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ’’نتیجے کو طور پر پوری مسلم برادری اجتماعی طور پر سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جانے لگی۔‘‘
دریں اثنا، مسلم مخالف نسل پرستی پورے سیاسی نظام میں دائیں بازو کے ایجنڈے اور بیان بازی کو فروغ دینے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ یہ رجحان نقل مکانی پر اُس گفتگو سے مزید مضبوط ہوتا ہے جو تیزی سے مسلمانوں کی دشمن کی تصویر بنانے اور سخت سے سخت تر اقدامات کے مطالبوں سے جُڑی ہوئی ہے۔محققین نے چانسلر فریڈرش میرٹس کی قیادت والی قدامت پسند جماعت سمیت مرکزی دھارے کی جماعتوں کو خبردار کیا کہ’’ وہ رائے دہندگان کو راغب کرنے کے لیے انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی بیان بازی اپنانے سے گریز کریں۔ ورنہ، وہ آمرانہ اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ایجنڈوں کو بالواسطہ فروغ دیں گی۔‘‘
بعد ازاں کلیم( (claim)نامی تنظیم نے جرمنی کے دارالحکومت میں نفرت انگیز حملوں کے۹۷۵؍ واقعات درج کیے ہیں، جن میں توہین، دھمکیاں اور جسمانی تشدد شامل ہے۔ایک حقوق گروپ نے بتایا کہ ۲۰۲۵ءمیں برلن میں درج کیے گئے مسلم مخالف واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس گروپ نے اپنے اعداد و شمار میں امتیازی سلوک، دھمکیوں اور خطرناک جسمانی حملوں کا حوالہ دیا۔اسلامو فوبک حملوں کی نگرانی کرنے والے اتحاد’’ کلیم‘‘ (CLAIM) نے بتایا کہ اس نے گزشتہ سال جرمنی کے دارالحکومت میں۹۷۵؍ واقعات درج کیے، جو۲۰۲۴ء کے مقابلے میں۵۱؍ فیصد زیادہ ہیں۔کلیم کی شریک ڈائریکٹر ریما حنانو نے ایک بیان میں کہا، ’’ہماری سالانہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ برلن میں بہت سے لوگوں کے لیے مسلم مخالف نسل پرستی ایک روزمرہ کی حقیقت ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’خاص طور پر تشویشناک بات جسمانی حملوں کے۶۵؍ دستاویزی معاملات ہیں، جن میں آٹھ کو سنگین جسمانی نقصان پہنچانے والے حملوں میں درجہ بند کیا گیا ہے۔‘‘رپورٹ میں نفرت انگیز دھمکیوں اور حملوں کا ایک تسلسل بیان کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرام میں حجاب پہننے پر خواتین پر تھوکا گیا اور بعض صورتوں میں ان کے حجاب پھاڑ دیے گئے۔اس میں مساجد کے خلاف دھمکیوں کے ساتھ ایک پڑوسی کی طرف سے برسوں پر مشتمل مسلم مخالف نفرت انگیز پیغامات کا بھی حوالہ دیا گیا۔مزید برآں گروپ کے مطابق، یہ سلسلہ بار بار پولیس میں شکایت کرنے کے باوجود جاری رہا اور اس کا بظاہر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
یہ بھی پڑھئے: ہند نژاد نتھیا رمن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں نمایاں امیدوار بن گئیں
واضح رہے کہ فرانس کے بعد مغربی یورپ میں جرمنی کی مسلم آبادی دوسرے نمبر پر ہے۔ یہاں۸؍ کروڑ ۳۵؍لاکھ کی کل آبادی میں سے تقریباً۵۵؍ لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور تحریکوں (جن میں حزب اختلاف کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی(اے ایف ڈی) بھی شامل ہے) کے باعث جرمنی میں مسلم مخالف نسل پرستی اور تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔