Inquilab Logo Happiest Places to Work

اللہ پر توکل کے ساتھ ہی اپنے امکان کی حد تک سعی و جدوجہد بھی ضروری ہے

Updated: December 22, 2025, 3:56 PM IST | Professor Dr. Waseem Ahmed | Mumbai

قرآن و حدیث کی واضح رہنمائی کے باوجود معاشرے میں بے اعتدالیاں نظر آتی ہیں۔ بہت سے لوگ توکل علی اللہ کو اپنی تن آسانی کیلئے جواز بنا لیتے ہیں حالانکہ توکل کیلئے یقین اور اپنی استطاعت کے مطابق اسباب ووسائل کا استعمال بھی ضروری ہے۔

As a reminder of Hazrat Hajar`s exemplary act of servitude, obedience, trust and effort, Allah Almighty has made the seven cycles of effort obligatory on every Hajj and Umrah performer. Picture: INN
حضرت ہاجرہؓ کی بندگی و فرماں برداری اور توکل و سعی کے مثالی واقعہ کی یادگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے سعی کے سات چکروں کو ہر حج و عمرہ کرنے والے پر و اجب کردیا ہے۔ تصویر:آئی این این
 اللہ عزیز و حکیم پر بھروسا ہر مسلمان کے عمل اور سعی کی بنیاد ہے۔ وہ رحیم و کریم ہے۔ اپنی رحمت اور اپنے علم سے ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ( سورہ غافر: ۷)، جو چاہتا ہے کرتا ہے ( سورہ البروج: ۱۶)، وہ جب کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے حکم سے وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی حکمرانی اور بادشاہی ہے اور اسی کی طرف سب کو لوَٹ کر جانا ہے (سورہ یٰسین: ۸۲۔۸۳)، وہ اپنے ہر کام پر غالب ہے (سورہ یوسف:۲۱)، نفع و ضرر کا مالک ہے، اس کے حکم و قضا کو کوئی رد کرنے والا نہیں ۔ (سورہ انعام:۱۷۔۱۸، سورہ یونس: ۱۰۷، سورہ الزمر:۳۸)۔
اس طرح کی آیات، جو پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہیں، ان کو دیکھنے کے بعد ہر مومن کو اس بات پر اطمینان ِ قلب حاصل ہوجاتا ہے کہ ہمیں اپنے سارے معاملات میں صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہئے۔ وہ ہمارے لئے کافی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ (اللہ) اسے کافی ہے۔‘‘  (الطلاق:۳)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’کہہ دیجئے، مجھے اللہ کافی ہے، اسی پر توکل کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘  (الزمر:۳۸)
اللہ پر توکل کے ساتھ ہی اپنے امکان کی حد تک سعی و جدوجہد بھی ضروری ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے جو ذہنی و جسمانی صلاحیتیں دے رکھی ہیں اور میدان عمل میں کامیابی کے جو امکانات پیدا کررکھے ہیں ان کا صحیح استعمال نہ کرنےسے ان نعمتوں پر رب کریم کی ناشکری ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں اکثر بے اعتدالیاں ہوجاتی ہیں۔ قرآن و حدیث کی واضح رہنمائی کے باوجود مسلم معاشرے میں بھی یہ بے اعتدالیاں نظر آتی ہیں۔ بہت سے لوگ توکل علی اللہ کو اپنی تن آسانی کے لئے جواز بنا لیتے ہیں۔ دنیا و آخرت میں فلاح پانے کیلئے اس دارالامتحان میں اللہ کے بندے کی طرح زندگی گزارنے کیلئے اپنے امکان کی حد تک سعی اور جدوجہد کی جو اہمیت ہے اسے نظرانداز کردیتے ہیں۔
دوسرے بہت سے لوگ اپنی سعی و جدوجہد ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ نعمتیں جو اللہ کی طرف سے انہیں آزمائش کے طور  پر ملی ہوتی ہیں ان کو محض اپنے ذاتی فضل و کمال کا ثمرہ سمجھنے لگتے ہیں اور ان نعمتوں کو منعم حقیقی، اللہ رب العزت کی مرضی کے مطابق نہیں استعمال کرپاتے۔ قرآن کی واضح ہدایات ہیں مثلاً : ’’اور قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی (دو) اور (اپنا مال) فضول خرچی سے مت اڑاؤ، بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔‘‘  (سورہ الاسراء:۲۶۔۲۷)۔ وہ ان احکامات کے باوجود فضول خرچی میں مبتلا ہوتے ہیں۔  نام و نمود کے لئے خرچ کرتے ہوئے تکبر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جن کو مال و اولاد میںاپنے سے کمتر پاتے ہیں ان کے مقابلے میں اپنے کو بڑا سمجھتے ہیں اور یہ نہیں خیال کرتے کہ ان کی ابتداء تو مٹی سے ہے، اس کے بعد انہیں جو بھی صلاحیتیں اور نعمتیں ملی ہیں وہ ان کے رب کی عطاکردہ ہیں اور ان کی آزمائش کیلئے دی گئی ہیں۔ (الانعام:۱۶۵) 
ایسے لوگ  اپنی تدابیر اور اپنی ذہنی و جسمانی قوتوں کو اپنی ذاتی برتری سمجھنے لگتے ہیں گویا وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی۔ حقیقت ان کی سمجھ میں اس وقت آتی ہے جب اللہ کے حکم سے کوئی آفت آتی ہے اور وہ ساری صلاحیتیں اور تدابیر ان کو خسارے سے نہیں بچا پاتیں۔ (سورہ الکہف: ۳۲؍تا۴۴) ، القصص: ۷۶؍تا ۸۲، الزمر:۴۹؍تا ۵۲) یا پھر موت آکر ان لذتوں اور آسائشوں کو منقطع کردیتی ہے اور انہیں اللہ کے حکم کے تحت سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔ (سورہ الانعام:۹۳۔۹۴، الواقعہ: ۸۳؍تا۸۳)
اس سلسلے میں قرآن کی وضع کردہ راہ اعتدال کو حضور اقدسؐ نے اپنے قول و عمل سے پوری طرح واضح کردیا ہے۔ یہاں پر کچھ مثالیں پیش کی جارہی ہیں:
 صفاو مروہ کے درمیان سعی
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’بیشک صفا اور مروہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہیں، چنانچہ جو شخص بیت اﷲ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے (درمیان) چکر لگائے، اور جو شخص اپنی خوشی سے کوئی نیکی کرے تو یقیناً اﷲ (بڑا) قدر شناس (بڑا) خبردار ہے۔‘‘ (البقرہ:۱۵۸)
حج و عمرہ میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا واجب ہے۔ اس کی ابتداء کے بارے میں احادیث (صحیح بخاری، ج۴، حدیث۵۸۳، فتح الباری، ج ۷، ص۲۱۰) کی روشنی میں جو تفصیلات سامنے آتی ہیں ان میں اللہ کی بندگی، اس پر توکل اور اپنے امکان کی حد تک سعی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کو جب اللہ کا حکم ہوا کہ اپنے شیرخوار بچے (حضرت اسماعیلؑ) اور بیوی حضرت ہاجرہؓ کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں بسا  دو تو وہ فوراً حکم کی تعمیل میں چل نکلے  اور اللہ کی رہنمائی میں، اُنہیں  حرم مکہ میں بیت اللہ کے پاس لا چھوڑا۔ جب واپس جانے لگے تو بیوی حضرت ہاجرہؓ ان کے پیچھے دوڑیں کہ آپ ہمیں اس بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ بار بار پوچھنے کے باوجود حضرت ابراہیم ؑ نے کوئی جواب نہیں دیا تو انہوں نے خود ہی پوچھا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ حضرت ابراہیمؑ نے کہا : ’ہاں۔‘ یہ سن کر نیک بیوی نے کہا : پھر آپ بے شک جائیے، اللہ ہمیں نظرانداز نہیں کرے گا۔ انہیں  اللہ کی ذات پر پورا بھروسا تھا، چنانچہ اپنے فرزند اسماعیل کو لے کر وہیں بیٹھ گئیں جہاں ابراہیم ؑ چھوڑ گئے تھے۔
بچے (حضرت اسماعیلؑ) کو دودھ پلاتی رہیں لیکن جب ساتھ کا پانی ختم ہوگیا تو پریشانی بڑھی۔ بچہ بھی پیاس سے تڑپنے لگا تو یہ دیکھنے کے لئے کہ شاید کہیں پانی نظر آجائے یاکچھ لوگ  نظر آجائیں جن سے کچھ مدد پہنچے، پہلے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر دیکھا۔ اس سے اتر کر پھر مروہ کی پہاڑی پر چڑھیں۔ اس طرح پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں۔ نہ اس جگہ سے کہیں دور ہٹیں جہاں ابراہیمؑ اللہ کے حکم کے مطابق چھوڑ گئے تھے اور نہ ہی اس سعی اور کوشش میں کوئی کمی کی جسے وہ اللہ کی مرضی کی پابند رہتے ہوئے اپنے امکان کی حد تک کرسکتی تھیں۔ 
بالآخر سات چکر کے بعد دریائے رحمت زم زم کی صورت میں ابل پڑا جس کا فیض آج تک جاری ہے اور ان شاء اللہ ہےہمیشہ جاری رہے گا۔ ساتھ  ہی بندگی و فرماں برداری ، توکل و سعی کے اس مثالی واقعہ کی یادگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے سعی کے سات چکروں کو ہر حج و عمرہ کرنے والے پر و اجب کردیا۔ 
حضور اقدسﷺ کی ہجرت ِ مدینہ
ہجرت مدینہ تاریخ انسان کا اہم ترین واقعہ ہے۔ اس کی تفصیلات قرآن و حدیث کے حوالوں کے ساتھ سیرت کی کتابوں میں ملتی ہیں ۔ اس سفر کے دوران متعدد مواقع پر اللہ کی نصرت معجزانہ انداز میں سامنے آتی ہے اور ساتھ ہی حضورؐ کی بے مثال بندگی اور توکل علی اللہ کا بھی مظاہرہ ہوتا ہے ، لیکن ایک انسان کی حیثیت سے  (فرما دیجئے: میں تو صرف  بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں۔ الکہف: ۱۱۰)  احتیاطی تدابیر اور مقصد کی تکمیل کے لئے سعی اور کوشش میں بھی کوئی کمی نظر نہیں آتی۔
مکی زندگی کے آخری دنوں میں قریش کی مخالفت میں شدت پیدا ہوگئی تھی اور وہ حضورؐ کی دعوت کو ختم کرنے کیلئے فیصلہ کن اقدام کی منصوبہ بندی کرنے  لگے تھے۔ اس وقت صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ اس کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:
’’اور (اے نبیؐ! یاد کیجئے) جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، آپ کے  بارے میں تدبیر کر رہے تھے تاکہ وہ آپ کو قید کردیں، یا آپ کو قتل کردیں، یا آپ کو (مکہ سے) نکال دیں اور وہ تدبیریں کررہے تھے اور اللہ بھی تدبیر کررہا تھا، اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘  (الانفال:۳۰)
لیکن حضورؐ نے تمام خطرات کے باوجود اس وقت تک ہجرت نہیں کی جب تک کہ اس کے لئے اللہ کی طرف سے اجازت نہیں آگئی۔ اجازت کے مطابق جس رات آپؐ کو گھر سے نکلنا تھا اس رات قریش کے منتخب سرداروں نے آپؐ کو قتل کرنے کی نیت سے آپؐ کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور اس تاک میں تھے کہ موقع ملتے ہی رات کے اندھیرے میں حضورؐ کا خاتمہ کردیں گے ، لیکن’’ اللہ اپنے کام پر غالب ہے‘‘ (یوسف:۲۱)  اس نے ان کے سارے منصوبے خاک میں ملا دیئے۔ آپؐ کے نکلنے کے وقت اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین پر جو وہاں آپؐ کو قتل کرنے کی نیت سے گھیرا ڈالے بیٹھے تھے   ایسی نیند طاری کردی کہ آپؐ ان کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے نکل گئے اور وہ آپؐ کو نہ دیکھ سکے۔
حضورؐ  کو اندازہ تھا کہ قریش آپؐ کو پکڑنے کی کوشش میں مدینہ کے راستوں پر دوڑیں گے،  اس لئے گھر سےنکلنے کے بعد آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر شمال کی جانب مدینہ کو جانے والے راستے کے بجائے جنوب کی طرف یمن کو جانے والا راستہ اختیار کیا اور پھر ایک نہایت دشوار گزار راستے پر چلتے ہوئے غار ثور پہنچے اور تین راتیں اس میں چھپ کر گزاریں۔ اس دوران پہلے سے کئے گئے انتظامات کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کے صاحبزادے عبداللہؓ اور غلام عامر بن فہیرہؓ نہایت ہوشیاری اور رازداری کے ساتھ حالات کی خبر اور دوسری ضرورت کی چیزیں وہاں پہنچاتے رہے۔ ادھر قریش نے حضورؐ اور حضرت ابوبکرؓ کو تلاش کرنے میں بڑی دوڑ دھوپ کی لیکن نتیجہ کچھ حاصل نہ ہوا۔ تلاش کرنے والے ایک مرتبہ غار کے دہانے کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ اگر ان میں سے کوئی محض اپنی نگاہ نیچی کرتا تو آپ دونوں کو دیکھ سکتا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ گھبرا گئے لیکن حضورؐ  کا اللہ کی ذات پر مکمل بھروسا اطمینانِ قلب کا باعث بنا رہا۔ آپؐ نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے۔
مدنی دَور میں جہاد سے پیچھے رہنے یا اس سے جان چھڑانے والے کمزور قسم کے مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ :  ’’اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبۂ اسلام کی جد و جہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بیشک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جبکہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے فرما رہے تھے: غمزدہ نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔‘‘  (سورہ التوبہ:۴۰)
توکل علی اللہ کے اس درجے کے باوجود (جو بہرحال حضورؐ کو حاصل تھا) آپؐ  نے سفر میں آگے کے مراحل بھی پوری تندہی کے ساتھ طے کئے۔ تین دن غار میں رہنے کے بعد جب کافروں کی تگ و دو رک گئی تو آپؐ مدینہ کے لئے نکلے۔ ایک قابل اطمینان رہبر ساتھ لیا اور وہ راستہ اختیار کیا جس سے عام لوگ واقف نہ تھے اور اس پر شاذ و نادر ہی کوئی چلتا تھا۔ اس سفر کے دوران بھی کئی مواقع پر اللہ کی نصرت معجزانہ اندازمیں ظاہر ہوئی لیکن ان حالات میں حضورؐ نے جو حکمت ِ عملی اختیار فرمائی اس سے جہاں ایک طرف آپؐ کی شانِ بندگی ظاہر  ہوتی ہے وہیں اس حکمت کی تعلیم بھی ملتی ہے جسے امت کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنا چاہئے مگر کیا ہم اس پر اتنا غورو خوض کرتے ہیں؟
صلح حدیبیہ
جنگ احزاب میں یہود اور قریش نے اجتماعی منصوبہ کے ساتھ اپنا سارا زور لگا کر مسلمانوں کو ختم کرنا چاہا  لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور مسلمانوں کو اس سے نقصان کے بجائے بہت سے فائدے حاصل ہوئے اور ان کی حالت بہتر ہوگئی۔ اس سے ایک سال بعد ۶ھ میں آپؐ نے خواب دیکھا کہ آپؐ اپنے صحابہؓ کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طواف و عمرہ کیا۔ چونکہ نبی کا خواب وحی کی ایک شکل ہے اس لئے حضورؐ نے اس خواب سے یہ بشارت حاصل کی کہ آپؐ اپنے صحابہؓ کے ساتھ عمرہ ادا کریں گے۔ جب صحابہؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ بھی بہت خوش ہوئے۔
یہ خواب ایک اشارۂ خداوندی تھا اور اس کے پورا ہونے کا آپؐ کو یقین تھا ، اس کے باوجود جب آپؐ نے اپنے جاں نثار صحابہؓ کے ساتھ اس اشارۂ خداوندی کی تعمیل میں عمرہ کا سفر شروع کیا تو حالات پر نظر رکھتے ہوئے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ اس سفر میں کہیں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہونے پائے اور حالات کوئی خراب شکل نہ اختیار کرسکیں۔
آپؐ عمرہ کی نیت  سے نکلے تھے لیکن قریش کی طرف سے خدشہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو ہر حال میں روکنے کی کوشش کریں گے، آپؐ کے پرامن سفر کو جنگی مہم کی صورت میں دکھانا چاہیں گے تاکہ عرب قبائل میں اپنی  دھاک بھی بنی رہے اور یہ بدنامی بھی نہ ہو کہ قریش کی چودھراہٹ اب اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ جسے چاہتے ہیں عمرہ کرنے دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں اس سے روک دیتے ہیں۔ اس خطرے کے پیش نظر حضورؐ نے بسر بن سفیان کعبیؓ  کو جائزہ لینے کیلئے آگے روانہ کیا۔ خطرہ صحیح ثابت ہوا اور جائزہ لینے والے نے اطلاع دی کہ قریش جنگ کی تیاری کررہے ہیں اور ابتدائی اقدام کے طور پر خالد بن ولید کی کمان میں دو سو سواروں کا دستہ حضورؐ کی راہ روکنے کے لئے آگے بھیج دیا ہے۔ یہ خبر پا کر آپؐ نے راستہ بدل دیا اور ایک دشوار گزار راستے سے چلتے ہوئے حدود حرم سے متصل حدیبیہ کے میدان میں پہنچ گئے اور حالات کو  اس طرح سنبھالا کہ قریش جنگ کے بجائے صلح کی بات کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ خود اپنے  آپ میں ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس کے بعد جب مذاکرات شروع ہوئے تو قریش نے اسے اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ بنالیا اور بے جا ضد اور نادانی سے آپؐ کو اس سال بغیر عمرہ کئے ہی واپس کردینے میں اپنی کامیابی سمجھی۔
صلح میں دوسری دفعات بھی ایسی رکھیں جن سے بظاہر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ حضور کو دب کر صلح کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے لیکن اللہ پر کامل بھروسا اور بشارت کی روشنی میں صلح کے جو دوررس نتائج حضورؐ دیکھ رہے تھے ان تک اکثر صحابہ کی نظر نہیں پہنچ رہی تھی۔ آج جب حضورؐ کی قائدانہ بصیرت کے طفیل صلح حدیبیہ کے شاندار نتائج سامنے ہیں تو قریش کا انداز ایک نادان بچے کی بے جا ضد سا معلوم ہوتا ہے لیکن جن نازک حالات میں یہ صلح کی گئی ان میں نبیؐ کی بصیرت اور توکل علی اللہ کا وہ اعلیٰ مقام ہی تھا جس کی بنا پر یہ صلح ممکن ہوسکی اور حضورؐ عمرہ کو ایک سال مؤخر کرنے پر تیار ہوگئے۔ یہ بات اکثر صحابہ کو بہت بھاری معلوم ہورہی تھی۔ انہیں حضورؐ نے سمجھایا کہ خواب میں عمرہ کی بشارت تھی مگر اسے اسی سال پورا ہونا کہاں بتایا گیا تھا۔ ہم ان شاء اللہ اگلے سال ضرور عمرہ کریں گے۔
بہرحال اس صلح کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین (انافتحنا لک فتحا مبینا ۔ الفتح: ۱) سے تعبیر کیا۔ اگلے سال باذن خداوندی حضورؐ نے صحابہ کرامؓ کے ساتھ عمرہ ادا کیا اور صلح کے نتیجے میں جو پرامن ماحول ملا اسے آپؐ نے اپنی دعوت کو پھیلانے کیلئے خوب خوب استعمال کیا اور اسلام کی دعوت کو عرب کے قبائل تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ عرب کے باہر امراء و سلاطین تک پہنچا دیا۔ قریش کمزور ہوتے گئے اور صلح کے دو ہی سال بعد بغیر کسی جنگ کے مکہ فتح ہوگیا، مشرکانہ نظام کی جڑ کٹ گئی اور وہ ہمیشہ کے لئے مغلوب ہوگیا۔ 
اس انقلابی فتح کے وقت حضورؐ کی زبانِ مبارک پر رب کریم کی توحید، حمد و کبریائی بیان کرنے کیلئے دعا کے جو الفاظ جاری تھے وہ آپؐ کی شانِ بندگی اور شانِ نبوی کے بہترین ترجمان  ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں بندے کی جو سعی و کوشش ہوتی ہے وہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے ہوتی ہے۔ اسی کی دی ہوئی قوت، فہم و فراست سے کوششوں کو صحیح سمت میں مناسب انداز سے جاری رکھنا نصیب ہوتا ہے اور اسی کی مدد سے وہ نتیجہ خیز ہوتی ہیں۔ دعا کے الفاظ ہیں:
(ترجمہ) ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لئے ملک ہے اور اسی کے لئے سارا شکر اور ساری تعریف ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا، وہ تنہا ہے ، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور دشمنوں کی جماعتوں کو تنہا اس نے شکست دی۔‘‘ 
(مضمون نگار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر شعبۂ الیکٹرانک انجینئرنگ ہیں )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK