• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ِ رسولِؐ رحمت کی اُمت اتنی بے خوف ہوسکتی ہے؟

Updated: January 09, 2026, 5:58 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے، اس کی سزا ہمیشہ کیلئے دوزخ ہے۔ جو شخص کفر کی حالت میں دُنیا سے چلا جائے، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کیلئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی۔

Islam is a religion of peace and harmony, and those who believe in it remain calm and do not get angry. Picture: INN
اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور اس پر یقین رکھنے والا پُرسکون رہتا ہے، غیظ و غضب میں مبتلا نہیں ہوتا۔ تصویر: آئی این این
اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے، اس کی سزا ہمیشہ کیلئے دوزخ ہے۔ جو شخص کفر کی حالت میں دُنیا سے چلا جائے، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کیلئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی۔ کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی۔ کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی   جس میں فرمایا گیا کہ: ’’جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کیلئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (النساء : ۹۳)۔ کتنی دہلا دینے والی ہے یہ آیت !
لیکن یہ اس شخص کیلئے ہے جس کے دل میں خوفِ خداوندی کا کوئی گوشہ موجود ہو، جس کی آنکھ کبھی کبھی سہی، اللہ کے خوف سے نم ہونا جانتی ہو، جس کا دل آخرت کے تصور سے لمحہ دو لمحہ سہی، لرزنے سے آشنا ہو، جو آخرت کی وسعتوں پر یقین رکھتا ہو، جسے جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی ہولناکیوں پر ایمان ہو اور جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہو۔ جن لوگوں کے سینوں میں دل کے بجائے پتھر کی سل رکھی ہوئی ہو اور جن قلوب میں محبت کی شبنم کے بجائے نفرت اور ظلم و جور کی بھٹیاں سلگتی ہوں، ان کے بارے میںکیوں کر سوچا جاسکتا ہے، کہ خالقِ کائنات کا یہ ارشاد ان کو تڑپا سکے گا؟ خدا و ررسول کی بات ان کے دلوں پر دستک دے سکے گی ؟؟
آہ ! کس قلم سے لکھا جائے اور کس زبان سے کہا جائے کہ ہمارے شہر میں ابھی گزشتہ ماہ (نومبر ۲۰۲۵ء) میں ۱۶؍ مسلمانوں کے قتل کے واقعات پیش آئے۔ کن کے ہاتھوں؟ کیا کسی غیر مسلم کے ہاتھوں؟ کیا کسی دشمن اسلام کے ذریعہ ؟؟ نہیں، حیرت کے کانوں سے سنئے، کہ ایک کلمہ گو نے دوسرے کلمہ گو کو ناحق قتل کیا ہے ، ایک مسلمان کی تشنہ تلوار نے ایک مسلمان ہی کے لہو سے اپنی پیاس بجھائی ہے، سستے داموں خدا کا غضب خرید کیا ہے ، اپنے گلے کو لعنت ِخداوندی کے طوق سے آراستہ کیا ہے اور ابدی دوزخ حاصل کی ہے۔  اس بے حسی پر آنکھیں جس قدر آنسو بہائیں، دل جتنا بھی تڑپے اور روئے کم ہے، ہائے! یہ اس اُمت کا حال ہے جس کو آخر آخر دم تک اس کے نبی ﷺنے مسلمان کے خون کی حرمت بتائی تھی اور ایک دوسرے کی جان و مال اور عزت وآبرو سے ہاتھ رنگنے کو منع فرمایا تھا ۔
اللہ کے محبوب رسولؐ کا ارشاد ہے: اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف فرمادیں گے، سوائے اس کے کہ کوئی شخص شرک کی حالت میں مرے یا کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے، (ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۲۷۰) حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مومن کو قتل کیا اللہ تعالیٰ نہ اس کی کوئی فرض نماز قبول فرمائینگے اور نہ نفل۔ ( ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۲۷۰)
اور کیوں نہ ہو کہ مومن کا قتل اللہ کے نزدیک دنیا کے ختم ہوجانے سے بہتر ہے۔ (نسائی، حدیث نمبر: ۳۹۹) حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے فرمایا کہ اگر تمام اہل زمین اور اہل آسمان بھی ایک مسلمان کی موت میں شریک ہوں، تو اللہ ان سب کو جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا۔  (ترمذی، حدیث نمبر : ۱۳۹۸) اس سے اندازہ کیجئے کہ مومن کے خون کی کیا حرمت اور عظمت ہے؟ اور کسی مسلمان کا جان لیناکیسی لعنت ہے اور کس طرح غضب ِالٰہی کو دعوت دینا ہے ؟ اس لئے حضور پاکؐ نے فرمایا کہ مومن برابر دین کے معاملہ میں وسعت و گنجائش میں رہتا ہے، جب تک کہ کسی خون ِحرام کا مرتکب نہ ہو۔ (بخاری ، حدیث نمبر : ۶۸۶۲)
جیسے قتل کرنا گناہ ہے، اسی طرح قتل میں تعاون بھی گناہ ہے ؛ بلکہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو قتل پر اکسایا ہو، یا دوسرے کو قتل پر استعمال کیا ہو، تو اس کا گناہ اصل قاتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ ایک بار آپؐ سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ، کہ جہنم کے ستر حصے کئے جائیں گے جس میں انہتر (۶۹)حصے قتل کا حکم دینے والے کیلئے ہوں گے  اور ایک حصہ خود اس قاتل کیلئے اور یہ ایک حصہ بھی اس کیلئے بہت کافی ہوگا:  (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۲۵۵۷، عن مرثد بن عبد اللہ )
نہ صرف یہ کہ قتل پر اُکسانا اور اُبھارنا بہت بڑا گناہ ہے؛ بلکہ مقتول کو بچانے کی کوشش نہ کرنا اور پہلو تہی سے کام لینا بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جہاں کسی شخص کا ظلماً قتل ہو، وہاں تم کھڑے نہ ہو، وہاں موجود رہنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ انہوں نے اسے بچایا کیوں نہیں؟ اور جہاں کسی شخص کو ظلماً زد و کوب کیا جارہا ہو، وہاں بھی نہ ٹھہرو؛ کیوں کہ حاضرین پر بھی اللہ کی لعنت ہوگی کہ انہو ںنے بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی، مدافعت کیوں نہیں کی؟ (طبرانی فی الکبیر ، حدیث نمبر : ۱۱۶۷۵) 
اصل یہ ہے کہ کسی شخص کو قتل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی زندگی میں انسانی خون او ر انسانی زندگی کا احترام نہیںاور یہ بہت ہی خطرناک بات ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ایک نفسِ انسانی کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے اور ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ (سورہ المائدۃ: ۳۲)
اس جرم کے شدید ہونے کی وجہ ظاہر ہے، زندگی اللہ کی امانت ہے، جان دینا اور جان لینااللہ ہی کا حق ہے، قاتل گویا اللہ کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، اس سے بڑھ کر تعدی اور کیا ہوگی؟ پھر خود مقتول کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی ہے، قتل کی تکلیف جس سے بڑھ کر کسی اور تکلیف کا تصور نہیں کیا جاسکتا، پھر قاتل اسے ایسی نعمت سے محروم کرتا ہے، جس کی واپسی ممکن نہیں اور جس کا بدل ناقابل حصول ہے، یہ تو خود قاتل کا معاملہ ہے، پھر غور کیجئے کہ ہرانسان کے ساتھ کتنے ہی حقوق متعلق ہیں، معصوم بچوں اور بچیوں کی تربیت اس کے ذمہ تھی، جو ان بہنوں کی شادی کا وہی ذمہ دار تھا، بوڑھے ماں باپ کی کفالت اسی کے سر تھی، بیوی کا سہاگ اس کے دم سے قائم تھا، خاندان کی کتنی ہی آرزوئیں اور تمنائیں اس سے متعلق تھیں اور سماج کی کتنی ہی اُمیدیں اور توقعات اس سے وابستہ تھیں، بظاہر یہ ایک جان کا قتل ہے؛ لیکن در حقیت وہ کتنی ہی تمناؤں، حسرتوں، اُمیدوں اور آرزوؤں کا قاتل ہے، اس نے ایک بے قصور عورت کو بیوہ کیا،  معصوم بچوں کو یتیم اور بے سہارا بنایا، بوڑھے ماں باپ سے اس کا عصائے پیری چھینا اورچھوٹے بھائیوں اور بہنوں کی اُمیدوں کے محل کو خاکستر کر کے رکھ دیا؛ اس لئے یقیناً اس نے ایک شخص کا نہیں؛ بلکہ ایک خاندان اور ایک کنبہ کا اور انسانیت کا قتل کیا ہے ۔ 
اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انتقام کاقانون رکھا ہے کہ یا تو خود قاتل کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے، (البقرۃ : ۱۷۸)، اگر مقتول کے اولیا ، رضامند ہو جائیں تو ان کو دیت ادا کی جائے، جو سو اونٹ یا اس کی قیمت ہے ، احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے، مقصد اس دیت کا یہی ہے کہ ایک شخص کے قتل کی وجہ سے مقتول کے خاندان کو جو نقصان پہنچا ہے وقتی طور پر سہی ، کچھ تو اس کی اشک شوئی ہو جائے اور ہنگامی مدد تو اسے حاصل ہو ، یہ خون بہا اس وقت بھی واجب ہے ، جب کسی شخص کو دھوکہ میں قتل کر دے۔ ( سورہ النساء: ۹۲) اور اس غلطی کی صورت میں صرف دیت ہی کافی نہیں؛ بلکہ کفارہ بھی واجب ہے، کہ مسلسل دوماہ روزے رکھے جائیں، (سورہ النساء : ۹۲) اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہو تو اس کیلئے کوئی کفارہ متعین نہیں کیا گیا، زندگی بھر توبہ و استغفار کرتا رہے؛ کیوں کہ یہ اتنا بڑا جرم اور اتنا شدید گناہ ہے کہ کوئی عمل اس کا کفارہ بن نہیں سکتا۔ 
اللہ کے رسولؐ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا کہ : آج کون سا دن ہے؟ یہ کون سا مہینہ ہے ؟ اور یہ کون سی جگہ ہے ؟ پھر فرمایا کہ یہ حرام مہینہ ، حرام دن اور حرام سر زمین یعنی حدودِ حرم کا علاقہ ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو اس سے بھی زیادہ قابل حرمت ہیں۔ (بخاری ، حدیث نمبر : ۶۷)
اتنی وعیدوں کے باوجود اگر پیغمبرؐ رحمت کی اُمت بھی مسلمانوں کے ؛ بلکہ انسانوں کے خون کی اہمیت و حرمت کو نہ سمجھ سکے اور اس کے ہاتھ بھی ایک دوسرے کے خون سے رنگین ہوں تو اس سے بڑھ کر قابل افسوس، لائق حیرت اورتعجب انگیز کون سی بات ہوگی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK