Inquilab Logo Happiest Places to Work

’توحید‘ کا تصور انسان کودَر دَر سرجھکانے سے بچاتا ہے

Updated: August 08, 2025, 5:18 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

اوہام پرستی ایک طرح کی غلامی ہے۔جو شخص عقیدۂ توحید سے محروم ہو اور خدا پر اس کا یقین کامل نہ ہو ، مشکل ہے کہ وہ اس غلامی سے آزاد ہو سکے۔

The more firmly a person believes in monotheism and the more faith he has in Allah, the more he will be free from superstition and protected from becoming a prisoner of superstitions. Photo: INN
جو شخص توحید پر جتنا پختہ یقین رکھتا ہو اور اللہ پر جس کا جتنا زیادہ ایمان ہو ، وہ اسی قدر اوہام پرستی سے آزاد اور توہمات کا اسیر بننے سے محفوظ رہے گا۔ تصویر: آئی این این

 

اسلام کا بنیادی عقیدہ ’’ توحید‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے بھی یکتا ہے، خدا کا کوئی کنبہ اور خاندان نہیں اور نہ اس کیلئے اولاد اور اعزہ و اقارب ہیں اور خدا اپنی صفات اور اختیارات کے اعتبار سے بھی یکتا و بے مثال ہے، حیات و موت کی کلید اس نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، وہی رزق دیتا ہے، رزق میں وسعت کرتا ہے یا تنگی بڑھاتا ہے یا رزق سے محروم کرتا ہے۔ وہی نفع پہنچاتا ہے اوروہی نقصان سے دو چار کرتا ہے، کامیابی و ناکامی اور فتح و شکست اسی کے حکم سے ہے۔ توحید کا جو تصور ہے وہ انسان کو َدر دَر سرجھکانے سے بچاتا ہے اور بہت سی غلامیوں سے نجات عطا کرتا ہے۔ ان ہی غلامیوں میں ایک تو ہمات کی غلامی ہے۔ 
اوہام پرستی بھی ایک طرح کی غلامی ہے، کہ آدمی اپنے پاؤں کی ٹھوکروں میں رہنے والی چیزوں سے بھی ڈرنے اور خوف کھانے لگے اور اس سے اپنے نفع و نقصان کو وابستہ کر لے۔ اگر سامنے سے کوئی جانور نکل جائے تو آدمی سمجھے کہ یہ سفر ناکام ہوگا، گھر پر کوئی پرندہ بیٹھ جائے تو اس کو اپنے لئے مصیبتوں کا پیش خیمہ سمجھنے لگے، کسی خاص پتھر کی انگوٹھی سے کامیابی اور نفع کی اُمید رکھے، کسی مہینہ، دن اور گھڑی کو نامبارک، منحوس اور ’’اشبھ‘‘ تصور کرنے لگے۔ یہ سب توہمات کی غلامی ہے۔ جو شخص عقیدۂ توحید سے محروم ہو اور خدا پر اس کا یقین کامل نہ ہو، مشکل ہے کہ وہ اس غلامی سے آزاد ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ترقی یافتہ ممالک جہاں صد فیصد تعلیمیافتہ لوگ پائے جاتے ہیں، وہاں بھی لوگ بعض اعداد کو منحوس سمجھتے ہیں اور ہوٹلوں میں اس نمبر کے روم نہیں رکھے جاتے۔ 
جو شخص توحید پر جتنا پختہ یقین رکھتا ہو اور اللہ پر جس کا جتنا زیادہ ایمان ہو، وہ اسی قدر اوہام پرستی کی اس مصیبت سے آزاد اور توہمات کا اسیر بننے سے محفوظ رہے گا۔ اسلام کی آمد سے پہلے عربوں میں اس طرح کے توہمات پائے جاتے تھے، لوگ سفر کے لئے نکلتے تو پرندے کو اڑایا جاتا، اگر وہ دائیں جانب اڑتا تو اسے نیک فال تصور کرتے اور سفر شروع کرتے اور اگر بائیں طرف سے اڑتا تو بد فالی لیتے اور سفر سے گریز کرتے۔ اسی طرح اُلو کو منحوس پرندہ خیال کرتے، کسی کے گھر پر بیٹھ جاتا تو سمجھتے کہ یہ گھر اُجڑ جائے گا۔ ’’صفر ‘‘ کے مہینہ کو نامبارک سمجھتے کہ اس ماہ میں جو کاروبار ہوگا نقصان سے دو چار ہوگا، جو سفر ہوگا وہ نامراد ہوگا، جو شادی ہوگی وہ ناکام ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تصورات کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ : ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں ۔ (بخاری : باب الجذام) دوسرے کو بیماری لگنے، پرندہ سے بدفالی، الو اور ماہِ صفر کو منحوس سمجھنے کی کوئی حقیقت نہیں۔ 
 عربوں میں اور ایک خیال یہ تھا کہ صحرا میں کچھ شیاطین ہوتے ہیں ، جو رنگ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور راہ گیروں کو راستہ سے بھٹکانے کا کام کرتے ہیں۔ عرب ان کو ’’ غول ‘‘ کہا کرتے تھے، رسولؐ اللہ نے اس تصور کی بھی نفی فرمائی۔ ( فتح الباری : ۱ ؍ ۱۶۸) عرب شوال کے مہینہ کو بھی نامبارک اور شادی بیاہ کے لئے ناموزوں تصور کرتے تھے۔ رسولؐ اللہ نے اُم المومنین حضرت عائشہؓ سے شوال میں نکاح فرمایا اور شوال ہی میں رخصتی بھی ہوئی؛ چنانچہ حضرت عائشہؓ اس خام خیالی کی تردید کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ میرے نکاح سے زیادہ بابرکت نکاح کون سا ہو سکتا ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر جس قدر قوی ایمان ہوگا، اوہام پرستی سے انسان اسی قدر دور رہے گا۔ اسلام نے توحید کے عقیدہ کو لوگوں کے ذہن میں ایسا راسخ کر دیا تھا کہ وہ اس قسم کے تصور کو اپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ حضرت زنیرہؓ ایک صحابیہ ہیں، ایمان لائیں، لوگوں نے اتنا ظلم کیا کہ آنکھ کی بینائی جاتی رہی، لوگ کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے اور ان کا انکار کرنے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوگئی ہیں۔ ہمارے زمانہ میں عورتیں تو کیا مرد بھی اور جاہل و اَن پڑھ تو کیا پڑھے لکھے بھی ایسے موقعوں پر گرفتارِ اوہام ہو جاتے ہیں ؛ لیکن حضرت زنیرہؓ کی فکر میں ذرابھی تزلزل نہیں آیا۔ اُن کاکہنا تھا کہ اللہ نے ان کی صرف بصارت لی، وہ ایمان اور ایمانی بصیرت سے محروم نہیں ہوئیں۔ حضرت زنیرہؓ کہتی ہیں کہ یہ سب اللہ کے فیصلہ اور اس کے حکم سے ہے۔ رسولؐ اللہ ان کی استقامت اور ثابت قدمی سے بہت خوش ہوئے اور ان کیلئے دُعا فرمائی؛ چنانچہ ان کی بینائی لوٹ آئی۔ 
حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب مصر کا علاقہ فتح ہوا، مصر کی معیشت کا مدار دریائے نیل پر تھا۔ یہاں معمول تھا کہ یہ دریا جب خشک ہو جاتا تو ایک کنواری لڑکی کو دلہن بنا کر دریا کے بیچ میں ڈال دیا جاتا، دریا کی بلا خیز موجیں اٹھتیں اور اسے موت کی نیند سلانے کے بعد جاری ہو جاتیں۔ جب مصر کے خلافت اسلامیہ کے زیر نگیں آنے کے بعد دریا خشک ہوا اور گورنر مصر حضرت عمر ابن عاص کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے اولاً تو انکار کیا، پھر لوگوں کے اصرار پر مشورہ کیلئے خلیفۂ راشد حضرت عمر ؓ کو خط لکھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے جواب کے ساتھ ایک اور تحریر دریائے نیل کے نام لکھی اور ہدایت دی کہ اس تحریر کو دریائے نیل میں ڈال دیا جائے۔ حضرت عمرؓ نے اپنی اس تحریر میں دریا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو میں دعا کرتا ہوں کہ تو جاری ہو جائے اور اگر اللہ کے حکم سے جاری نہیں ہے تو ہمیں تیری ضرورت نہیں۔ حسب ِہدایت یہ تحریر دریا میں ڈال دی گئی اور دریائے نیل اس شان سے جاری ہوا کہ دوسرے دن ( جو ہفتہ کا دن تھا) سولہ ہاتھ پانی ہو گیا، ( البدایہ والنہایہ : ۷؍۱۰۰) اور پھر آج تک کبھی نہیں تھما۔ 
اسی طرح کا ایک واقعہ ہندوستان کے ساحلی علاقہ میں پیش آیا، جس کا تذکرہ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں کیا ہے کہ یہاں کے لوگ کافر تھے، یہاں ہر ماہ شیطان وارد ہوتا، اس کے لئے سمندر کے کنارے ایک بت خانہ بنادیا تھا، جو ’’ بد خانہ ‘‘ کہلاتا تھا، جو دن شیطان کی آمد کا ہوتا، لوگ اس دن ایک کنواری لڑکی کو سنوار کر اس بدخانہ میں بٹھاتے، رات میں وہیں چھوڑ دیتے، جب صبح کو آتے تو اسے اس حال میں پاتے کہ وہ مردہ ہوتی اور کنواری نہ ہوتی۔ اتفاق سے یہاں ایک مغربی تاجر ابو البرکات بربری جو حافظ ِقرآن تھے، آئے ہوئے تھے۔ وہ ایک بوڑھی خاتون کے مہمان تھے۔ ایک دن جب اپنے میزبان کے یہاں پہنچے تو دیکھا کہ خلافِ معمول وہ بوڑھی خاتون بہت سی عورتوں کے ساتھ مصروفِ گریہ و بکا ہے۔ ایک ترجمان کے واسطہ سے صورتِ حال دریافت کی تو معلوم ہوا کہ شیطان سے بچاؤ کے لئے آج اس کی اکلوتی بیٹی کے نام قرعۂ فال نکلا ہے۔ 
شیخ ابو البرکات کو داڑھی نہ تھی، انہوں نے پیشکش کی کہ آج اس لڑکی کی جگہ وہ جائیں گے؛ چنانچہ وہ بدخانہ میں بیٹھ گئے اور قرآن کی تلاوت کا سلسلہ جاری رکھا، اسی طرح پوری رات گزری، جب معمول کے مطابق لوگ صبح میں تحقیق حال کے لئے پہنچے تو دیکھا کہ وہ زندہ و سلامت ہیں اور تلاوت میں مصروف ہیں۔ 
 یہ خبر شدہ شدہ پورے علاقہ میں پھیل گئی اور علاقے کے راجہ تک پہنچی۔ ابن بطوطہ نے اس کا نام ’’وشنوازہ‘‘ لکھا ہے۔ شیخ نے راجہ پر بھی اسلام پیش کیا، اس نے کہا کہ آئندہ ماہ تک میرے پاس رہو، اگر آئندہ مہینہ میں بھی تم یہی عمل کر کے دکھاؤ اور ہم لوگوں کو اس شیطان کی ابتلاء سے بچا سکو تب ہم ایمان لے آئیں گے۔ اگلے ماہ بھی یہی واقعہ پیش آیا ؛ چنانچہ راجہ مسلمان ہو گیا اور راجہ کے ساتھ رعایا کے بھی بہت سے لوگ دائرۂ اسلام میں آ گئے۔ (رحلۃ ابن بطوطہ : ۱ ؍ ۹۰ - ۵۸۹) 
اگر ایمان قوی ہو اور اللہ سے نفع و نقصان کا سچا یقین ہو تو ایک جاہل اور ان پڑھ شخص بھی ایسے اوہام و خرافات میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔ تیمور کوئی عالم و فاضل حکمراں نہیں تھا ؛ لیکن جب اس نے دریائے جمنا کو عبور کرنا چاہا تو جیوتشیوں نے منع کیا اور کہا کہ یہ منحوس گھڑی ہے، تیمور نے اس کو کوئی اہمیت نہیں دی اور کہا کہ ہم ارباب تنزیہ و توحید ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر ایمان میں ناپختگی اوریقین میں کمزوری ہو تو اچھے خاصے پڑھے لوگ بھی ایسی چیزوں کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ 
 اس ملک میں رہتے ہوئے جہاں ہم نے برادرانِ وطن سے زندگی کے دوسرے شعبوں اور سماجی رسوم و روایات میں ان کی معاشرت کا اثر قبول کیا، وہیں فکر و عقیدہ کے باب میں بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ان ہی میں سے ایک اوہام پرستی کا مزاج و مذاق ہے۔ آج، بہت سے مسلمان بھی سمجھتے ہیں کہ بلی ّ راستہ کاٹ دے تو سفر ملتوی کر دینا چاہئے، الو کا بیٹھنا نحوست کی علامت ہے، اگر کسی بہو کے گھر میں آنے کے بعد سسرال میں کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کو منحوس تصور کیا جاتا ہے، وغیرہ۔ یہ تمام باتیں محض ایمان کی کمزوری اور ضعف ِ عقیدہ کا نتیجہ ہیں۔ 
 سرکار دو عالمؐ نے کھلے لفظوں میں ’’صفر ‘‘ کے منحوس ہونے کی تردید فرمائی، یہ تردید نہایت ہی صحیح اور مستند روایتوں سے ثابت ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ ’’صفر ‘‘ کی ۱۳؍ تاریخ اور آخری چہار شنبہ کو منحوس دن مانتے ہیں، حالاں کہ اسلام کی نگاہ میں کوئی وقت منحوس نہیں۔ آپ نے بعض مہینوں، راتوں اور گھڑیوں کو مبارک ضرور قرار دیا لیکن کوئی وقت اور گھڑی نامبارک نہیں۔ یہ مشرکانہ تصور ہے کہ انسان اللہ کے بجائے ایسی چیزوں سے نفع و نقصان کو متعلق سمجھے، اس سے بھی زیادہ بدقسمتی کچھ اور ہو سکتی ہے کہ کوئی قوم علم رکھنے کے باوجود انجانوں جیسا کام کرے اور خدا نے جس کی پیشانی کو چوکھٹوں کے داغ ِ مذلت سے آزاد کیا ہو وہ خود اپنی جبین ِ شرافت کو داغ دار اوررسوا و خوار کرے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK