• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تدبر ِ قرآن اور اس کے آداب و شرائط

Updated: January 06, 2026, 4:56 PM IST | Maulana Amin Ahsan Islahi | Mumbai

خدا کی معرفت یا دوسرے الفاظ میں ’’العلم‘‘ کے حاصل ہونے کا اصلی ذریعہ قرآن حکیم ہے لیکن اس مقصد کیلئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ جن لوگوں کو تزکیہ کا مقصد عزیز ہو ان کو آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ مولانا امین احسن اصلاحی کی زیر نظر تحریر ملاحظہ کریں جس میں اختصار کے ساتھ ان چند شرائط کا ذکر کیا گیا ہے:

Picture: INN
تصویر: آئی این این
نیت کی پاکیزگی
سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ نیت کی پاکیزگی سے مطلب یہ ہے کہ آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت و معرفت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے۔ اگر طلب ِ معرفت و ہدایت کے  سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ   اندیشہ اس بات کا بھی ہے کہ قرآن سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے ، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ کوئی تفسیر لکھ کر جلد اس سے شہرت اور نفع حاصل کرسکے، یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن کے ملمع کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہشمند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن جہاں تک فہم قرآن اور اس سے حصول ِ معرفت کا تعلق ہے، اس طرح وہ اس کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔
قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت و معرفت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہر آدمی کے اندر طلب ِ ہدایت و معرفت کا داعیہ ودیعت کردیا ہے۔ اگر اسی داعیہ کے تحت آدمی قرآن مجید کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ اس سے اپنی کوشش اور اللہ تعالیٰ کی توفیق کے مطابق فیض پاتا ہے اور اگر اس داعیہ کے علاوہ کسی اور خواہش کے تحت وہ قرآن کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى   (اور آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی) کے اصول  کے مطابق وہی چیز پاتا ہے جس کا طلبگار ہوتا ہے۔
قرآن کو ایک برتر کلام مانا جائے
دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن مجید کو ایک اعلیٰ اور برتر کلام مان کر اسی حیثیت سے اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اگر دل میں قرآن مجید کی پوری عظمت و اہمیت نہ ہوتو آدمی اس کے سمجھنے اور اس کے حقائق و معارف کے دریافت کرنے پر وہ محنت صرف نہیں کرسکتا  جو اس کے خزانۂ حکمت سے مستفید ہونے کے لئے ضروری ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوگی کہ ایک کتاب کے متعلق اس کے جاننے سے پہلے ہی حسن ظن قائم کرلیا جائے کہ وہ بڑی پُرحکمت اور اعلیٰ کتاب ہے۔
لیکن غور کیجئے تو قرآن مجید کے متعلق اس قسم کا پیشگی حسن ظن ذرا بھی تعجب انگیز نہیں ہے۔ قرآن مجید اپنے پیچھے ایک عظیم تاریخ رکھتا ہے، اس کے کارنامے نہایت شاندار ہیں، ذہنوں اور دماغوں کی تبدیلی میں اس کتاب نے جو معجزہ دکھایا ہے آج تک کسی دوسری کتاب نے یہ معجزہ نہیں دکھایا۔
پھر یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ دنیاکی آبادی کا ایک عظیم حصہ اس کو نہ صرف ایک کتاب مانتا ہے بلکہ اس کو خدائی اور آسمانی کتاب مانتا ہے، اس کو لوح محفوظ سے اترا ہوا کلام مانتا ہے، اس کو ایک ایسا معجز کلام مانتا ہے جس کی نظیر نہ انسان پیش کرسکتے ہیں اور نہ جنات۔ یہ ایسا کلام ہے جس کے ماضی اور جس کے حاضر کے متعلق یہ شہادتیں اور لوگوں کے احساسات موجود ہوں، بہرحال ایک اہمیت رکھنے والا کلام ہے اور آدمی اس کو سمجھنے کا حق اسی وقت ادا کرسکتا ہے جب اس کی یہ عظمت و اہمیت اس کے پیش نظر ہو۔ اگر یہ اہمیت اس کے سامنے نہ ہو تو ممکن نہیں ہے کہ آدمی کا ذہن اس کو اس اہتمام کا مستحق سمجھے جو اہتمام اس کے لئے فی الواقع مطلوب ہے۔ 
اگر کسی رقبۂ زمین کے متعلق یہ علم ہو کہ وہاں سے سونا نکلتا رہا ہے اور کسی زمانے میں وہاں سے کافی سونا برآمد ہوچکا ہے تو توقع کی جاتی ہے کہ اگر کھدائی کی گئی تو وہاں سے سونا ہی نکلے گا ، اور پھر اس کی اسی حیثیت کو پیش نظر رکھ کر اس سے فائدہ اٹھانے کا جتن کیا  جاتا ہے اور اس پر محنت کی جاتی ہے۔ لیکن اگر ایک معدن کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ اگر یہاں محنت کی جائے تو زیادہ سے زیادہ کوئلہ یا چونا فراہم ہوگا تو اس پر یا تو کوئی سرے سے اپنا وقت ہی ضائع کرنا پسند نہیں کرے گا یا پسند کرے گاتو صرف اس حد تک جس سے اس کو کوئی فائدہ پہنچنے کی توقع ہوگی۔ یہ تنبیہ اس لئے ضروری ہے کہ قرآن مجید کے متعلق ایسی غلط فہمیاں لوگوں کے اندر موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے کہ اس کو اس توجہ اور اہتمام کا مستحق سمجھا جائے جو اس سے حقیقی استفادہ کے لئے ضروری ہے۔ 
قرآن کے تقاضوں کے مطابق بدلنے کا عزم
قرآن حکیم سے حقیقی استفادہ کے لئے تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق اپنے ظاہر و باطن کو بدلنے کا مضبوط ارادہ موجود ہو۔ ایک شخص جب قرآن مجید کو گہری نگاہ سے پڑھتا ہے تو وہ ہر قدم پر یہ محسوس کرتا ہے کہ قرآن کے تقاضے اور مطالبے اس کی اپنی خواہشوں اور چاہتوں سے بالکل مختلف ہیں،  وہ دیکھتا ہے کہ اس کے تصورات و نظریات بھی قرآن سے  بیشتر الگ ہیں اور اس کے معاملات و تعلقات بھی قرآن کی مقررکردہ حدود سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنے باطن کو بھی قرآن سے دور پاتا ہے اور ظاہر کو بھی اس سے بالکل منحرف محسوس کرتا ہے۔ اس فرق و اختلاف کو محسوس کرکے ایک صاحب ِ عزم اور ایک حق طلب آدمی تو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خواہ کچھ ہو میں اپنے آپ کو قرآن کے تقاضوں کے مطابق بنا کے رہوں گا اور وہ ہر قسم کی قربانی دے کر  اپنے آپ کو قرآن کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے اور بالکل اپنے آپ کو قرآن کے سانچے میں ڈھال ہی لیتا ہے۔ لیکن جو شخص صاحب ِ عزم نہیں ہوتا یا اس کے اندر حق شناسی اور حق طلبی کا سچا جذبہ نہیں ہوتا وہ اس خلیج کو پاٹنے کی ہمت نہیں کرسکتا جو وہ اپنے اور قرآن کے درمیان حائل پاتا ہے۔ 
کامیابی اور فلاح کا راستہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے کی ہمت کرے اور اس کے لئے ہر قربانی پر آمادہ ہوجائے۔ کچھ عرصہ تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے اس ارادہ کی آزمائش ہوتی ہے، اگر آدمی اس آزمائش میں اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو  پھر اس کے لئے سعادت کی راہیں کھلنی شروع ہوجاتی ہیں۔ اگر ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو خدا اس  کے لئے دوسرا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اگر ایک ماحول سے وہ پھینکا جاتا ہے تو دوسرا ماحول اس کے خیرمقدم کیلئے آگے بڑھتا ہے۔ اگر ایک زمین اس کو پناہ دینے سے انکار کردیتی ہے تو دوسری سرزمین اس کیلئے اپنی آغوش کھول دیتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف قرآنِ  حکیم نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:
’’اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں تو ہم یقیناً انہیں اپنی (طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں، اور بیشک اﷲ صاحبانِ احسان کو اپنی معیّت سے نوازتا ہے۔‘‘ (العنکبوت:۶۹)
استفادہ کی ایک اور شرط تدبر
قرآن مجید سے استفادہ کے لئے چوتھی شرط تدبر ہے۔ اس شرط کا ذکر خود قرآن نے بار بار کیا ہے:’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں۔‘‘
صحابہ کرامؓ قرآن کے مخاطب اول تھے۔ وہ قرآن مجید کو برابر تدبر کے ساتھ پڑھتے تھے اور جو لوگ جتنا ہی تدبر کرتے تھے وہ اتنا ہی قرآن مجید کے فہم میں ممتاز تھے۔ صحابہؓ نے قرآن مجید کے مطالعہ کے لئے اپنے حلقے بھی قائم کئے تھے اور قرآن کا اجتماعی مطالعہ کرتے تھے۔ اس طرح کے قرآنی حلقوں سے آپؐ کو خاص دلچسپی تھی اور روایات سے  پتہ چلتا ہے کہ بعد میں خلفائے راشدین بالخصوص حضرت عمرؓ اس قسم کے حلقوں اور قرآن کے ماہرین سے برابر نہایت گہری دلچسپی لیتے رہے۔
محض تبرک کے طور پر الفاظ کی تلاوت کرلینا اور قرآن کے معانی کی طرف دھیان نہ کرنا صحابہؓ کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ طریقہ تو اس وقت سے رائج ہوا (۱) جب سے لوگوں نے قرآن مجید کو ایک صحیفہ ٔ ہدایت و معرفت اور ایک خزانۂ علم و حکمت سمجھنے کے بجائے محض حصولِ برکت کی ایک کتاب سمجھنا شروع کردیا۔ (۲) جب زندگی کے مسائل سے قرآن کا تعلق صرف اس قدر رہ گیا کہ دم ِ نزع اس کے ذریعے سے جانکنی کی سختیوں کو آسان کیا جائے اور مرنے کے بعد اس کے ذریعہ سے میت کو ایصال ِ ثواب کیا جائے، اور (۳)  جب زندگی کے نشیب و فراز میں  اسے رہنما بنانے کے بجائے  صرف برکت یا  حفاظت سمجھ لیا گیا ۔
تفویض الی اللہ
قرآن مجید سے صحیح فائدہ اٹھانے کے لئے پانچویں شرط  یہ ہے کہ اس میں جو مشکلات پیش آئیں آدمی ان سے بددل اور مایوس ہونے کے بجائے اپنی الجھن کو خدا کے سامنے پیش کرے اور اس سے مدد اور راہنمائی طلب کرے۔  قرآن میں آدمی کبھی کبھی ایسا محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے ’’قولِ ثقیل‘‘ کے  نیچے دب گیا ہے جس کے بارِ گراں کو اٹھانا اس کے لئے ناممکن ہے۔ اسی طرح وہ کبھی کبھی ایسا محسوس کرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی ایسی علمی مشکل آگئی ہے جس کا حل ہونا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ اس طرح کی عملی اور علمی مشکلوں سے نکلنے کا صحیح اور آزمودہ راستہ صرف یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ سے برابر دعا اور قرآن مجید پر برابر غور کرتا رہے۔ اگر قرآن مجید یاد ہو تو شب کی نمازوں میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھے، ان شاء اللہ اس کی ساری الجھنیں دور اور مشکلیں حل ہوجائیں گی اور ان مشکلوں کے حل ہونے سے اس پر علم و حکمت کے جو دروازے کھلیں گے وہ دروازے کسی اور طرح اس پر ہرگز نہ کھلتے۔ مندرجہ ذیل دعا بھی اس طرح کے حالات میں پڑھتے رہنا نہایت نافع ہے:
(ترجمہ)’’ اے اللہ! بلاشبہ میں آپ کا بندہ ہوں اور آپ کے بندے اور آپ کی کنیز کا بیٹا ہوں، میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ ہی کا حکم میرے بارے میں جاری و ساری ہے، آپ کا فیصلہ میرے بارے میں مبنی بر انصاف ہے، میں آپ سے سوال کرتا ہوں، آپ کے ہر اُس نام کے ساتھ، جو آپ نے خود اپنے لئے رکھا ہے ، یا اپنی مخلوق میں سے کسی ایک کو سکھایا ہے، یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے، یا اسے آپ نے علم غیب میںاپنے پاس رکھا ہے [میری التجا یہ ہے، کہ] قرآن کومیرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے دُکھوں کا علاج اور میرے فکروں کا تریاق بنا دیجئے۔‘‘ (آمین، یا رب العالمین) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK