گرمیوں کی چھٹیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ بچوں اور ان کے والدین اور سرپرست بہت پہلے سے اپنی تعطیلات کا نظام الاوقات مرتب کرلیتے ہیں۔ اس میں دینی نقطۂ نظر کی طرف توجہ کم ہی ہوتی ہے۔ زیرنظر مضمون میں چھٹیوں کو کارآمد بنانے کے تعلق سے کچھ ایسے امور کی نشاندہی کی گئی ہے جو یقیناً بچوں کے لئے مفید ثابت ہوں گی۔
اسلام میں اولاد کی تربیت کا جو تصور ہے وہ نہایت وسیع اور ہمہ جہت ہے، جس میں اس کی دینی، اخلاقی، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی ہر طرح کی تربیت مقصود ہے۔ تصویر: آئی این این
ہر انسان کبھی نہ کبھی فرصت کے لمحات میں اپنے بچپن کو ضرور یاد کرتا ہے، بلکہ اس کے واپس لوٹ آنے کی تمنا کرتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ بچپن کی سی معصومیت اور فارغ البالی انسان کو کبھی میسّر نہیں ہوتی۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اسے پیار کریں، اس پر ذمے داریوں کا بوجھ نہ ہو، اسے مرغوب غذائیں کھانے کو ملیں اور وہ دنیا کے گورکھ دھندوں سے آزاد ہو۔ ایسا ہو تو نہیں پاتا لیکن انسان کی تمنا یہی رہتی ہے۔ اس طرح کے چند لمحات پانے کے لئے موقع ملتے ہی، شہری دیہات یا فارم ہاؤس کی طرف نکل جاتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہاں انہیں فرصت کے لمحات میسر ہوں گے۔
موجودہ دور میں تو نہیں کچھ وقت پہلے تک بچپن واقعی بہت خوب صورت ہوتا تھا، لیکن اب مادّی ترقیات نے بچوں سے ان کابچپن چھین لیا ہے۔ جو عمر بچّوں کے لئے ’اللہ‘ سیکھنے کی ہوتے ہے، جس عمر میں اسے ماں، باپ، دادا، دادی کی گودوں میں کھیلنا ہوتا ہے، اس میں بچے کو کسی نرسری میں بٹھا دیا جاتا ہے اور جبراً ’اے فار ایپل‘ اور ’بی فار بال‘ پڑھایا جاتاہے۔ صبح زبردستی نیند سے اٹھایا جاتا ہے کہ ٹیوشن جانا ہے، وہاں سے آنے سے پہلے ہی اس کے اسکول جانے کی تیاریاں مکمل کر لی جاتی ہیں۔ اسکول سے لوٹ کر بھاگم بھاگ میں اسےرسماً ’عربی‘ پڑھنے بھی جانا ہوتا ہے اور وہاں سے تھک ہار کرجب وہ گھر پہنچتا ہےتو ماں اور گھر والوں کو کسی ڈیلی سوپ اور ڈرامہ دیکھنے میں مشغول پاتا ہے جن میں عموماً یہ دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح ایک ہی گھر کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اس دوڑ بھاگ والی زندگی میں اس ننھی سی جان کو چین و سکون ملتا ہے اور نہ ماں باپ کا پیار و دلار۔ یہ تقریباً ہر گھر اور ہر بچے کی زندگی کا معمول ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ناموافق فیصلوں کو روکنے کا طریقۂ احتجاج
اس لئے جب اسکول کی چھٹیوں کا زمانہ آتا ہےتو وہ پہلے سے ہی خواب بننے لگتا ہے اور چاہتا ہے کہ ا ن اوقات میں اسےمن چاہے طریقے سے زندگی جینے کا موقع دیا جائے۔ یہ کوئی بری بات بھی نہیں لیکن ماں باپ جن کے ذمّے اس کی تربیت ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تربیت کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت پر خاص دھیان دیں۔ اس کو دین کے بارے میں بتائیں اور دین کی طرف راغب کریں، کیوں کہ یہ اولاد جسےماں سینے سے لگا کر اور باپ اسے دیکھ کر آنکھوں کی ٹھنڈک محسوس کرتا ہےان کے پاس امانت ہے، قیامت میں اس کے متعلق سوال ہوگا۔ اس کو اپنے خوابوں کے بوجھ تلے اس قدر دبا ڈالنا کہ وہ اپنے مقصد ِ حیات ہی سے غافل ہو جائے، ہرگزدرست نہیں۔ ارشادِ نبوی ﷺہے:بہترین مسلمان وہ ہے جو لایعنی چھوڑدے۔ (ترمذی)
اس لئے تعطیلات کے زمانے میں کچھ صحت افزا کھیلوں کے ساتھ ساتھ کچھ خارجی تعلیمی مشاغل کو باقی رکھنا ضروری ہے۔ سارا وقت گلیوں اور سڑکوں پر اودھم مچانے کے لئے بچوں کو بے مہار چھوڑ دینا، ان کے بگڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے موقعوں پر مسلم بچوں کے لئے بہت بہتر ہے کہ انہیں ایسے دینی کورسیز کروائے جائیں، جن کا موقع اسکول کے ساتھ نہیں مل پاتا، مثلاً تجوید اور قرآن مجید کی قرأت کی مشق اور قرآن فہمی وغیرہ۔ ایک آدھ پارہ ہی سہی! مادری زبان کے علاوہ اہم زبانوں کے سیکھنے کے لئے بھی ان دنوں میں کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلم امراء اور مخیر حضرات کو بھی آگے آنا ہوگا تاکہ مسلم بچے دینی ماحول میں اپنی تعطیلات گزار سکیں۔ خواہ وہیں رہ کر ہو یا روزانہ آ جا کر۔ اس کی معمولی فیس بھی رکھی جا سکتی ہے، اس لئے کہ زیادہ فیس لے کر انہیں کمرشیل بنا دینے سےان کا دائرہ محدود ہو کر رہ جائے گا۔ ایسی جگہوں پر مسلم بچوں کو عملی طور پر اچھی اچھی باتیں سکھائی جائیں، تاکہ انہیں معاشرے میں رہ کر جینے کا سلیقہ آجائے۔
دیگر قوموں پر اسلام کی طرح یہ ذمے داری عائد نہیں، پھر بھی وہ اپنے بچوں کے لئے سمر کیمپ کا انتخاب کرتے اور ان کی ذہنی، جسمانی اوراخلاقی تربیت کرنے کی فکرکرتے ہیں، لیکن ہم اس معاملے میں غافل ہیں۔
والدین کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ جس طرح سال بھر اولاد کی عصری تعلیم پر توجہ دیتے ہیں کم از کم تعطیلات میں ان کی دینی تعلیم و اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں، اس لئے کہ اسلام نے اولاد کی تربیت کو نہ صرف اہمیت دی ہے بلکہ اسے اولاد کا ایسا حق قرار دیا ہے کہ جس میں کوتاہی کرنے یا غفلت برتنے پر والدین سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔ معاشرے کےکسی ایک بچے کی بھی صحیح تربیت نہ ہو پائے تو اس کا نقصان صرف ماں باپ کی آخرت میں پرسش تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا میں بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کاارشادہے:’’اےایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے۔ ‘‘ (التحریم) حضرت نبی کریمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ہر شخص ذمے دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائےگا۔ آدمی اپنے پورے گھر کا ذمے دار ہے، اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا، عورت اپنے شوہر کے گھراور بچوں کی ذمّےدار ہے، اس سےان کے بارے میں سوال ہوگا۔ ‘‘ (بخاری) نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’انسان کا اپنی اولاد کو عمدہ ادب سکھادینا صدقہ و خیرات کرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘ (ترمذی)
اسلام میں اولاد کی تربیت کا جو تصور ہے وہ نہایت وسیع اور ہمہ جہت ہے، جس میں اس کی دینی، اخلاقی، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی ہر طرح کی تربیت مقصود ہے۔