اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے، بدعنوانیوں سے دور رہنے اور اس کے احکام کو نافذ کرنے کانام تقویٰ ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے سے انسان برائیوں سے بچ جاتا ہے اور رشد و ہدایت کی راہ کو اپناتا ہے۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 5:22 PM IST | Sana Naaz | Mumbai
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے، بدعنوانیوں سے دور رہنے اور اس کے احکام کو نافذ کرنے کانام تقویٰ ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے سے انسان برائیوں سے بچ جاتا ہے اور رشد و ہدایت کی راہ کو اپناتا ہے۔
عصر حاضر میں خوش حالی بڑھی ہے، معاشی ترقی میں اضافہ ہوا ہے وسائل میں برکت ہوئی ہے، اوسط آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور عام طور پر لوگوں کا معیار ِ زندگی بلند ہو گیا ہے، لیکن دوسری جانب معاشرے میں بے اطمینانی اور فساد بھی بڑھا ہے۔
برائیوں کا ظہور
اصلاح معاشرہ خالق کائنات کے نزدیک مستحسن عمل ہے، اور فساد وفتنہ انگیزی نہایت قبیح فعل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر مختلف پیرایوں میں فساد کرنے والوں کے لئے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، ارشاد باری ہے:’’اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (سورہ القصص :۷۷)
ایک دور تھاجب ہمارا معاشرہ اسلامی اقدار پر گامزن تھا،ایک دوسرے کے اندر مدد اور نصرت کا جذبہ بدرجہ اتم تھا،مفاد پرستی و خود غرضی سے کوسوں دور تھا، مگر پھر قرآن و سنت اور رسالت کی کرنوں سے دور ہوتا گیا۔ آج ہم جس معاشرے میں زندگی گزر بسر کر رہے ہیں،اس میں برائیاں پھیلی ہوئی ہیں، ایک دوسرے کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے اور ہر شخص دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی خاطر تمام انسانی حقوق کو پس پشت ڈالنے پر آمادہ ہے۔
اس دور ِ ترقی میں ہر شخص ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، ہر طرف بے مروتی اور اجنبیت کا دور دورہ ہے، معاشرہ کا امن و سکون مفقود ہو چکا ہے، بندوں کے حقوق ضائع ہو رہے ہیں، کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہے، پوری امت رحمت خداوندی سے محروم اور غضب الٰہی میں مبتلا ہو رہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ـ:
’’بحر و بر میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں تاکہ (اﷲ) انہیں بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھا دے جو انہوں نے کئے ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔‘‘(سور ۃالروم :۴۱)
اصلاح کی ضرورت
اگرمعاشرہ میں لوگ چین و سکون کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور معاشرہ کو تباہی و بربادی کے گڑھے سے بچانا چاہتے ہیں تو ایک ہی صورت ہے،اور وہ ہے’’ اصلاح معاشرہ۔ــ‘‘ انسانیت کو درپیش مسائل اور چیلنجز کو حل کرنےکے لئے مادی طاقت نہیں بلکہ ان روشن ہدایات و تعلیمات کی ضرورت ہے جو ربّ کائنات کی جانب سے نازل کی گئی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’تم میںکچھ لوگ تو ایسے ضرور رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کاحکم دیں،اور برائیوںسے روکتے رہیں،جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔‘‘ (سورۃآل عمران:۱۰۴)
دین اسلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسانی کوحقیقت سے آگاہ کرےاور فلا ح و کامیابی سے روشناس کرائے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے کام آسکیں،اور حقوق و فرائض کا پورالحاظ رکھیں تاکہ معاشرہ کی اصلاح ہو، او ر ایک اچھا معاشرہ وجود میں آسکے۔
تکمیل و ترقی
اسلا م تمام شعبہ ہائے زندگی کی تکمیل اور ترقی چاہتا ہے، اسلام کی بعثت کا مقصد ہی انسانیت کی فلاح و بہبود ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بیشک اللہ اُن لوگوں کو اپنی معیت سے نوازتا ہے جو صاحبانِ تقویٰ ہوں اور جو صاحبانِ اِحسان ہوں۔‘‘ ( سورہ النحل :۱۲۸)
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے، بدعنوانیوں سے دور رہنے اور اس کے احکام کو نافذ کرنے کانام تقویٰ ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے سے انسان برائیوں سے بچ جاتا ہے اور رشد و ہدایت کی راہ کو اپناتا ہے۔
عصر حاضر میں ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات سے ہم خود کو آراستہ کریں اور اس پر عمل بھی کریں اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس سے مستفید کریں تا کہ ایسا معاشرہ وجود میں آسکے جس میں مساوات، عدل و انصاف اور امن و سکون ہو اور ہر شخص طمانیت قلب کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکے۔