Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن و حدیث کی روشنی میں جین زی سے برتاؤ

Updated: August 14, 2026, 3:54 PM IST | Dr. Mufti Nadeem Ahmed Ansari | Mumbai

اسلام ایک فطری مذہب ہے جو ہر دور کے انسانی مزاج اور نفسیات کا احاطہ کرتا ہے۔ قرآن مجید اور سیرتِ طیبہ میں نوجوانوں کی تربیت اور ان سے برتاؤ کے جو اصول بتائے گئے ہیں، وہ جین زی کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اسلام ایک فطری مذہب ہے جو ہر دور کے انسانی مزاج اور نفسیات کا احاطہ کرتا ہے۔ قرآن مجید اور سیرتِ طیبہ میں نوجوانوں کی تربیت اور ان سے برتاؤ کے جو اصول بتائے گئے ہیں، وہ جین زی کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں :

(۱) نرمی، شفقت اور جذبات کا احترام: سخت گیری ہمیشہ دوری کا باعث بنتی ہے، جبکہ نرمی اور شفقت دلوں کو جوڑتی ہے۔ جین زی کی حسّاس نفسیات کے لئے سخت دباؤ کے بجائے نرمی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا پر (اے پیغمبر) آپ نے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا۔ اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہوجاتے، لہٰذا ان کو معاف کردیجئے اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کیجئے اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہئے۔ ‘‘ (آل عمران) 

یہ بھی پڑھئے: یقین زندہ ہو تو وہ دروازے کھل جاتے ہیں جن کا گمان بھی نہیں ہوتا

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا راز نرمی، درگزر اور مشورے میں بتایا ہے۔ نوجوانوں کو فیصلوں میں شامل کرنا ان کی عزتِ نفس کی بالیدگی کا باعث بنتا ہے۔ 

(۲) پیار، منطق اور نصیحت کا انداز: قرآن مجید میں حضرت لقمانؑ کا اپنے بیٹے سے گفتگو کا اسلوب نوجوانوں سے بات کرنے کی ایک شاہکار مثال ہے۔ قرآن مجید میں آتا ہے: ’’اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یقین جانو شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ ‘‘ (سورہ لقمان:۱۳)

حضرت لقمان نے بچے کو ’میرے بیٹے ‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ انہوں نے پہلے محبت کا رشتہ قائم کیا اور پھر عقلی بنیاد پر بات سمجھائی کہ شرک ایک بڑا ظلم ہے۔ جین زی سے بات کرتے وقت الفاظ کا انتخاب عمدہ اور اندازِ گفتگو شفیق ہونا چاہئے اور اس سورہ سے ہمیں بہترین رہنمائی ملتی ہے۔ 

(۳) سننا اور دلائل کے ساتھ اصلاح کرنا: جب نوجوان اپنی بات یا شک و شبہے کا اظہار کریں تو انہیں رعب کے ذریعے خاموش کرانے کے بجائے ان کا موقف سننا چاہئے۔ حضرت ابو امامہؓسے روایت کردہ ایک حدیث میں ایک نوجوان کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جس نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر گناہ کی اجازت طلب کی تھی۔ لیکن آپؐ نے اس کی بات پر غصہ نہیں کیا بلکہ اس کی نفسیات کے مطابق معقول سوالات و جوابات سے اس کا ذہن بدلا اور اس کو تسلّی دی اور آخر میں اس کیلئے دعا فرمائی۔ 

یہ بھی پڑھئے: جاننا اور جینا میں فرق ہے، دین کو جاننا ہی نہیں، جینا بھی چاہئے!

(۴) آسانیاں پیدا کرنا اور خوشخبری دینا: سخت قوانین مسلط کرنے سے نوجوان دین سے اور بڑوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا : (دین میں ) آسانی کرو، سختی نہ کرو، اور لوگوں کو خوشخبری سناؤ، انہیں (ڈرا ڈرا کر) متنفر نہ کرو۔ (بخاری)

(۵) صلاحیتوں کا اعتراف اور اعتماد کرنا: نبی کریمؐ نے نو عمر صحابہؓکو بڑی بڑی ذمّےداریاں دیں تاکہ ان میں قیادت اور خود اعتمادی کی صلاحیتیں ابھر سکیں۔ مثال کے طور پر آپ ؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو محض اٹھارہ برس کی عمر میں ایک عظیم لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ اسی طرح حضرت زید بن ثابت ؓکو عبرانی زبان سیکھنے اور سرکاری خطاطی کی ذمّے داری سونپی۔ 

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نوافل میں قعدہ اولیٰ، عقیقہ کا سوال، دوسرے کی کمپنی کا نام استعمال کرنا

آج کی گلوبل اور ڈیجیٹل دنیا میں جین زی کو محض ایک روایتی ضابطے کے تحت کنٹرول کرنے کا نظریہ ناکام ہوچکا ہے۔ یہ نسل بغاوت یا گمراہی کی علامت نہیں، بلکہ ایک نئے، تیز رفتار اور انتہائی حسّاس فکری دور کا ناگزیر استعارہ ہے۔ اگر والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ذمّے داران نے بروقت اس حقیقت کو تسلیم نہ کیا اور جبر و استبداد یا محض روک ٹوک یا ڈانٹ ڈپٹ کا پرانا ہتھکنڈا جاری رکھا تو ہم اس قیمتی سرمائے کو کھو بیٹھیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم نے قرآن و سنت کی ہدایات اور رحمۃ للعالمینؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپناتے ہوئے ان کے ساتھ مکالمے کے دروازے کھول دیئے، ان کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوال ’کیوں ‘ کا حکمت و شفقت سے جواب دیا، اور ان کے بے پناہ عزم و شعور کو مثبت سمت عطا کی تو یہی نو جوان نسل آنے والے دور میں فکری و عملی قیادت کا پرچم بلند کرکے اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا ہراول دستہ بن کر ابھرے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK