• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

افراط و تفریط آخرت میں اللہ کی پکڑ اور دُنیا میں قوموں کی رسوائی کا سامان ہے

Updated: February 09, 2024, 3:07 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

عدل کی روح اعتدال ہے اور جادۂ اعتدال سے ہٹ جانا ہی انسان کو ظلم کی طرف لے جاتا ہے۔ اعتدال زندگی کے کسی ایک شعبہ سے متعلق نہیں بلکہ یہ زندگی کے ہر مرحلہ میں مطلوب ہے۔

Be it speed and speech or behavior, in every field of life excesses are undesirable and moderation is desired and loved. Photo: INN
رفتار و گفتار ہو یا سلوک و برتاؤ، ہر شعبۂ زندگی میں افراط و تفریط ناپسندیدہ ہے اور اعتدال مطلوب و محبوب ہے۔ تصویر : آئی این این

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں، عام طور پر ان میں افراط و تفریط انسان کے لئے ناگوار ِخاطر اور دشوار ہوتی ہے، یہاں تک کہ انسان کے لئے مفید ترین چیزیں بھی اگر حد ِاعتدال سے بڑھ جائیں یا حد ضرورت سے کم ہو جائیں تو رحمت کے بجائے زحمت اور انعام ِ خداوندی کے بجائے عذاب آسمانی بن جاتی ہیں۔ ہوا انسان کے لئے کتنی بڑی ضرورت ہے لیکن جب آندھیاں چلتی ہیں تو یہی حیات بخش ہو ا کتنی ہی انسانی آبادیوں کو تاخت و تاراج کر کے رکھ دیتی ہیں، پانی زندگی و حیات کا سر چشمہ ہے، لیکن جب دریاؤں کی متلاطم موجیں اپنے دائرے سے باہر آجاتی ہیں تو کس طرح سبزہ زار کھیتوں اور شاد و آباد بستیوں کو خس و خاشاک کی طرح بہالے جاتی ہیں۔ قدرت کی اور بھی نعمتوں کے بارے میں سوچئے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کا نظام اعتدال پر رکھا ہے، مثلاً ایک زمین کے نظام کشش ہی کو لے لیجئے۔ زمین میں جو قوت کشش اس وقت موجود ہے، اگر اس سے گھٹ جائے تو سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسان کا قد و قامت بلی اور چوہے کی طرح ہو جائے، اور بڑھ جائے تو انسان اونچے درختوں بلکہ تاڑ کے درختوں کے ہم قامت ہو جائے۔ غور کیجئے کہ اگر انسان کا قد اتنا چھوٹا یا اتنا بڑا ہو جائے تو یہ کتنی پریشان کن بات ہوگی؟ اللہ تعالیٰ نے سورج اور زمین کے درمیان ایک متوازن فاصلہ رکھا ہے، یہ فاصلہ بڑھ جائے تو زمین برف سے ڈھک جائے گی اور گھٹ جائے تو زمین پر نا قابل برداشت گرمی ہو۔ قدرت کا پورا نظام اعتدال پر قائم ہے اور یہ تر ازو رب کائنات نے خود اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، اس لئے قرآن نے اللہ تعالیٰ کو ’’رب العالمین‘‘ قرار دیا ہے۔ 
 جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کا ئنات کے نظام کو اعتدال پر قائم فرمایا ہے، اسی طرح اللہ اپنے بندوں سے بھی اعتدال چاہتے ہیں اور افراط و تفریط کو ناپسند فرماتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل کا حکم دیتے ہیں : (النحل: ۹۰) عدل کی روح اعتدال ہے اور جادۂ اعتدال سے ہٹ جانا ہی انسان کو ظلم کی طرف لے جاتا ہے۔ اعتدال زندگی کے کسی ایک شعبہ سے متعلق نہیں ؛ بلکہ زندگی کے ہر مرحلہ میں مطلوب ہے۔ قرآن اور حدیث پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ گفتار و رفتار، خوشی و غم، سلوک و برتاؤ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت، غرض ہر شعبۂ زندگی میں افراط و تفریط ناپسندیدہ ہے اور اعتدال مطلوب و محبوب ہے۔ 
اگر انسان چل رہا ہو تو اس کی رفتار معتدل ہونی چاہئے اور اس میں اترانے کا انداز نہیں ہونا چاہئے، یہ چال کا اعتدال ہے۔ قرآن کہتا ہے ’’زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ ‘‘ (الاسراء: ۳۷) بول چال میں اعتدال چاہئے، نہ ایسی پست آواز ہو کہ مخاطب سن بھی نہ سکے، نہ اتنی بلند ہو کہ حد اعتدال سے گزر جائے، قرآن کہتا ہے کہ آواز حسب ضرورت پست ہونی چاہئے، گدھے کی آواز بہت بلند ہوتی ہے، لیکن سب سے نا پسندیدہ’’اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔ ‘‘(لقمان: ۱۹)
لباس و پوشاک میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے لباس کو پسند نہیں فرمایا جس کے پیچھے جذبۂ تفاخر کارفرما ہو۔ آپؐ خود سادہ لباس استعمال فرماتے اور آپؐ نے سادہ لباس استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی، لیکن یہ بھی مقصود نہیں کہ آدمی ایسے پھٹے کپڑے پہنے جو اس کے مصنوعی فقر کا مظہر ہو۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نعمت سے سرفراز فرمائے، تو اس پر اس نعمت کا اثر نظر آنا چاہئے تاکہ نہ افراط ہو اور نہ تفریط۔ ایک طرف آپؐ نے ڈاڑھی رکھنے کا بہ تاکید حکم فرمایا (ترمذی ) دوسری طرف حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ چہرے کی چوڑائی اور لمبائی والے حصہ سے آپ ؐ کچھ ڈاڑھی تراشابھی کرتے تھے۔ (ترمذی، حدیث نمبر : ۲۷۶۳)
دعا کے بارے میں فرمایا کہ آواز بہت بلند نہ ہو۔ بہت بلند آواز میں دعا کرنے کو زیادتی قرار دیا گیا: ’’ا پنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘(الاعراف: ۵۵) 
 آپ جانتے ہیں انفاق اسلام میں کس قدر مطلوب اور پسندیدہ عمل ہے، لیکن قرآن نے یہاں بھی اعتدال پر قائم رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ’’نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔ ‘‘ (الاسراء: ۲۹) ایک صحابی اپنی پوری جائیداد اللہ کے لئے وقف کرنا چاہتے تھے تو آپؐ نے اعتدال کا حکم دیا اور غلو کو منع فرمایا۔ 
حضرت عبد اللہ بن عمرؓمسلسل روزے رکھتے اور رات بھر نماز پڑھتے رہتے تھے، آپؐ کو علم ہوا تو نا پسندیدگی ظاہر کی اور فرمایا: کبھی روزے رکھو اور کبھی نہ رکھو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی؟ کیوں کہ تم پر تمہاری آنکھ کا بھی حق ہے، تمہاری جان کا بھی اور تمہاری بیوی کا بھی۔ ( بخاری، حدیث نمبر : ۱۹۷۷) اسی طرح کی بات آپؐ نے حضرت عثمانؓ بن مظعون سے بھی ارشاد فرمائی، (دیکھئے: ابو داؤد، حدیث نمبر : ۱۳۶۹)۔ اگر کسی شخص کو روزہ رکھنے کی طرف بڑی رغبت ہو تو اسے صوم داؤدی رکھنے کا حکم دیا گیا، یعنی حضرت داؤد ؑکے طریقہ پر عمل کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت داؤدؑ کا عمل یہ تھا کہ ایک دن روزہ رکھتے اور اگلے دن نہیں رکھتے۔ (ابوداؤد، حدیث نمبر : ۲۴۲۷)
حلال و حرام میں بھی اللہ تعالیٰ نے اعتدال کا حکم فرمایا، جہاں اس بات کو منع کیا گیا کہ آدمی حرام کو اپنے لئے حلال کر لے، وہیں یہ بھی حکم فرمایا گیا کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہو، دین میں غلو کا راستہ اختیار کرتے ہوئے حلال کو بھی حرام نہ کر لیا جائے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ ‘‘ ( المائدہ: ۸۷) 
جنگ میں دین و ایمان اور نفس و جان کا علانیہ دشمن سامنے ہوتا ہے، لیکن اس موقع پر بھی راہ اعتدال کی رہنمائی کی گئی، کہ جو تم سے بر سر جنگ ہو تمہاری جنگ ان ہی لوگوں تک محدود ہونی چاہئے اور اس سے آگے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا: ’’اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘ (البقرہ: ۱۹۰)
جب نفرت کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور کسی گروہ کی طرف سے زیادتی کا واقعہ پیش آتا ہے تو فطری طور پر غضب کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور یہ آگ انصاف کے تقاضوں کو سوکھے پتوں کی طرح جلا کر رکھ دیتی ہے۔ قرآن نے خاص طور پر تاکید کی کہ گو اعداء اسلام نے تمہیں مسجد حرام سے روک رکھا ہے لیکن ان کی یہ برائی بھی تمہیں انصاف کا دامن چھوڑ دینے اور انتقام کی نفسیات سے مغلوب ہو کر تمہارے آمادۂ ظلم ہو جانے کا باعث نہ بنے، (المائدۃ:۲)۔ تنقید اور احترام میں بھی میانہ روی مطلوب ہے، یہ جائز نہیں کہ کسی کی فکر پر تنقید کرتے ہوئے اس کی ذاتیات کو بھی نشانہ بنایا جائے۔ رسولؐ اللہ نے اپنے بد ترین دشمنوں کے ساتھ بھی ایسا نہیں کیا اور اس بات سے بھی منع کیا گیا کہ احترام میں غلو کی صورت پیدا ہو جائے، اسی لئے غیر اللہ کو سجدہ کرنے اور کسی کے سامنے اپنے آپ کو جھکانے سے منع کیا گیا۔ 
عام طور پر دو چیزیں انسان کو راہ اعتدال سے منحرف کر دیتی ہیں، محبت اور عداوت۔ محبت انسان سے بصیرت ہی نہیں، بصارت بھی چھین لیتی ہے اور اسے اپنے محبوب کی برائیوں میں بھی بھلائیاں نظر آتی ہیں۔ یہی حال نفرت و عداوت کا ہے، دشمن میں رائی جیسی برائی ہو تو وہ پہاڑ محسوس ہوتی ہے اور پہاڑ جیسی خوبی ہو تو وہ رائی سے بھی حقیر نظر آتی ہے۔ اسلام سے پہلے جو قومیں گمراہ ہوئیں، ان کی گمراہی کا باعث یہی ہوا، غلو آمیز محبت، یا انکار و نفرت۔ اسلام نے اس میں بھی اعتدال کا حکم دیا کہ دشمن بھی ہو تو اس کی غیبت اور بہتان تراشی ناپسندیدہ عمل ہے۔ دوست ہو تب بھی اس کی تعریف میں غلو اور مبالغے اور تعلق و خوشامد سے منع کیا گیا۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ’’بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور اُن لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے۔ ‘‘ (الممتحنہ :۴) رسولؐ اللہ نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اسے مزید واضح فرمایا، حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ آپ کا ارشاد ہے: اپنے دوست سے حد اعتدال میں رہتے ہوئے دوستی کرو، بعید نہیں کہ کسی دن وہی تمہارا دشمن بن جائے اور اپنے دشمن سے بھی بغض میں اعتدال رکھو، کیا عجب کہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔ (ترمذی، حدیث نمبر : ۱۹۹۸) غرض کہ دوستی اور دشمنی میں بھی اعتدال ہو۔ 
جو قوم دنیا کیلئے عدل اور اعتدال کی امانت لے کر آئی تھی اور جس سے دنیا کی قوموں نے میانہ روی کا سبق سیکھ کر تہذیب و ثقافت کی منزلیں طے کیں اور شہرت و ناموری کے بام کمال تک پہنچیں، آج وہی اُمت افراط و تفریط، بے اعتدالی اور غلو کا عنوان بن گئی ہے۔ زندگی کا کون سا شعبہ ہے، جس میں ہم نے بے اعتدالی کو اختیار نہیں کیا؟ تعمیری کاموں میں ہمارا بخل اور بے فائدہ کاموں میں ہماری فضول خرچی دونوں کی مثال نہیں ملتی۔ احترام و عقیدت میں ذرہ کو آفتاب بنانا اور اختلاف و عداوت میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ انتشار بنانا ہمارا طرۂ امتیاز بن گیا ہے۔ لوگوں کے ساتھ سلوک کے معاملہ میں ہماری بے اعتدالی دن رات کا مشاہدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افراط و تفریط آخرت میں اللہ کی پکڑ اور دنیا میں قوموں کی رسوائی کا سامان ہے اور اعتدال و میانہ روی آخرت میں سرخ روئی اور دنیا میں کامیابی کی کلیدہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK