تاریخِ انسانیت میں چند واقعات ایسے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر ابدی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ واقعہ ٔ کربلا انہی عظیم واقعات میں سے ایک ہے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 5:00 PM IST | Juweriya Qazi | Mumbai
تاریخِ انسانیت میں چند واقعات ایسے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر ابدی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ واقعہ ٔ کربلا انہی عظیم واقعات میں سے ایک ہے۔
تاریخِ انسانیت میں چند واقعات ایسے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر ابدی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ واقعہ ٔ کربلا انہی عظیم واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ ۱۰؍ محرم ۶۱؍ ہجری کو پیش آنے والا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم، حریت و جبر اور صداقت و مصلحت کے درمیان ایک دائمی معرکہ ہے۔ کربلا ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں انسان وفا، ایثار، صبر، استقامت، حریتِ فکر اور اخلاقی جرأت کے اسباق حاصل کرتا ہے۔کربلا کا پیغام کسی خاص فرقے، قوم یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں گزر جانے کے باوجود کربلا آج بھی زندہ ہے اور ہر دور کے انسان کو اپنے فکر و عمل کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
حضرت امام حسینؓ نے یزیدی اقتدار کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق و صداقت کی خاطر شہادت کو ترجیح دی۔ آپؓ کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح، عدل کا قیام اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ حق کے لئے قربانی دی جا سکتی ہے لیکن حق کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ انسان کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ جب معاشرے میں ظلم، ناانصافی، بدعنوانی اور اخلاقی زوال عام ہو جائے تو خاموشی اختیار کرنا بھی ایک طرح کا جرم بن جاتا ہے۔ ایسے وقت میں حق گوئی اور مزاحمت ایمان، انسانیت اور ضمیر کی آواز بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیماتِ حسینیؓ میں اپنا محاسبہ کیجئے
کربلا نوجوانوں کو مقصدیت، عزم اور وفاداری کا درس دیتا ہے۔ عمر کی کمی عظمت ِ کردار میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ آج کا نوجوان اگر کربلا کے پیغام کو سمجھ لے تو مادیت، خود غرضی اور بے مقصدیت سے نجات پا سکتا ہے۔اگر کربلا قربانی کا نام ہے تو اس قربانی کی تکمیل خواتین ِ اہلِ بیت کے کردار سے ہوتی ہے۔ میدانِ کربلا میں مردوں نے حق کی خاطر جانیں قربان کیں، لیکن کربلا کے بعد اس پیغام کو زندہ رکھنے کا فریضہ خواتین نے انجام دیا۔واقعہ ٔ کربلا کے بعد سب سے نمایاں کردار حضرت زینبؓ کا ہے۔ بھائیوں، بھتیجوں اور عزیزوں کی شہادت کے بعد بھی آپؓ نے صبر و استقلال کا ایسا مظاہرہ کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ دربارِ ابن زیاد اور یزید میں آپؓ کے خطبات دراصل ظلم کے خلاف حق کی گواہی تھے۔ آپؓ نے ثابت کیا کہ ایک عورت بھی ظلم کے ایوانوں کو لرزا سکتی ہے اور تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ حضرت ام کلثومؓ، حضرت ربابؓ، حضرت سکینہؓ اور دیگر خواتین نے صبر، حوصلے اور عزم کی ایسی مثالیں قائم کیں جنہوں نے کربلا کے پیغام کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔ اگر یہ خواتین نہ ہوتیں تو شاید کربلا صرف ایک جنگ بن کر رہ جاتی، لیکن ان کے کردار نے اسے ایک دائمی تحریک میں تبدیل کر دیا۔
آج جب خواتین تعلیم، تحقیق، صحافت، سیاست، سماجی خدمت اور قیادت کے مختلف میدانوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں تو کربلا کی خواتین ان کے لئے حوصلے اور کردار کی بہترین مثال ہیں جن سے غیر معمولی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ حضرت زینبؓ کا کردار یہ سبق دیتا ہے کہ عورت صرف گھر کی نگہبان نہیں بلکہ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی معمار بھی ہے۔ وہ حق کی نمائندگی کر سکتی ہے، ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے اور قوموں کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اصلاحِ نفس کوئی محدود عمل نہیں، ایک ہمہ گیر نظام ہے
آج کا دور اخلاقی بحرانوں، سماجی ناہمواریوں اور فکری انتشار کا دور ہے۔ ایسے میں کربلا کا سانحہ مردوں کو حسینؓ کا عزم اور خواتین کو زینبؓ کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا آج بھی انسانیت کے لئے امید، آزادی، عدل اور انسانی وقار کا سب سے روشن استعارہ ہے۔ اگر ہم کربلا کے پیغام کو اپنی فکر اور عمل کا حصہ بنا لیں تو ایک بہتر، منصفانہ اور انسان دوست معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے، اور یہی واقعۂ کربلا کی حقیقی عصری معنویت ہے۔