Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیغامِ کربلا: ہر شعبۂ حیات میں حق، عدل، دیانت اور جرأت کے ساتھ کھڑا ہونا!

Updated: June 26, 2026, 4:49 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

آج ہر مسلمان کو خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ حق اور باطل کا معرکہ ہو تو وہ کس صف میں کھڑا ہوگا؟ مفاد کی خاطر خاموشی اختیار کرے گا یا حسینی جرأت کے ساتھ حق کا عَلَم بلند کرے گا؟

Aswa Hussain (RA): A believer`s responsibility is not only to recognize the truth, but also to support it and resist falsehood to the best of his ability. Photo: INN
اسوۂ حسینؓ:ایک مومن کی ذمہ داری صرف حق کو پہچاننا ہی نہیں بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کی حمایت اور باطل کی مزاحمت کرنا بھی ہے۔ تصویر: آئی این این

۱۰؍محرم الحرام اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کی ہر سطر حق و صداقت، عزیمت و استقامت اور ایثار و قربانی کے روشن نقوش سے مزین ہے۔ نواسۂ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)، جگر گوشۂ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میدانِ کربلا میں احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی جو بے مثال داستان رقم کی، وہ رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے ایک دائمی معیار اور روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاریخ کے صفحات میں بے شمار جنگیں، تحریکیں اور انقلابات گزرے، لیکن کربلا کا واقعہ محض ایک معرکہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی انقلاب تھا۔ حضرت حسینؓ نے یہ ثابت کردیا کہ حق کی عظمت کا معیار ظاہری کامیابی یا عددی برتری نہیں بلکہ اصولوں پر ثابت قدمی ہے۔ جب باطل طاقت، اقتدار  اور جبر کے ہتھیاروں سے لیس ہو اور حق بظاہر تنہا نظر آئے، تب بھی حق کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ کربلا کے  پیغام کو اچھی طرح جان لینا چاہئے ۔ پیغام یہ ہے کہ سچائی وقتی طور پر مغلوب دکھائی دے سکتی ہے لیکن حقیقت میں اسی کا پرچم بلند رہتا ہے اور باطل اپنے تمام تر ساز و سامان کے باوجود تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔
حضرت حسین ؓ  نے راہِ حق میں قربان ہو کر دنیا کو دو نہایت واضح اور ابدی پیغام عطا فرمائے۔ پہلا پیغام یہ ہے کہ باطل کے ہاتھ پر کبھی بیعت نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس کی اطاعت و پیروی اختیار کی جاسکتی ہے۔ جب یزید کی حکومت ظلم، فسق اور دین کی روح کے منافی طرزِ عمل کی علامت بن چکی تھی تو حضرت حسینؓ نے صاف اعلان کردیا کہ ایک حق پسند مسلمان ایسے نظام اور ایسی قیادت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم بھی اہلِ ایمان کو ظلم اور باطل کے ساتھ تعاون سے روکتا ہے: ’’ظالموں کی طرف جھکاؤ بھی اختیار نہ کرو۔‘‘ (ہود:۱۱۳) حضرت حسینؓ نے اس قرآنی تعلیم کو اپنے عمل سے زندہ کردیا اور امت کو بتا دیا کہ اصولوں کا سودا کبھی نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: امام سے پہلے سلام پھیرنا مکروہ تحریمی, تاخیر بھی ناپسندیدہ امر ہے

حضرت حسینؓ کا دوسرا عظیم پیغام یہ ہے کہ جب انسان کو شرحِ صدر کے ساتھ یقین ہوجائے کہ وہ حق پر ہے تو اسے خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ اپنی بساط بھر حق کی نصرت اور باطل کی سرکوبی کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔ 
موجودہ زمانے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سنت اور فکر کے برخلاف کتنے ہی پڑھے لکھے، باصلاحیت اور بظاہر سمجھدار لوگ ایسے ہیں جو باطل کو باطل سمجھنے کے باوجود مصلحت، مفاد، منصب، شہرت یا دنیاوی فائدے کے نام پر اس کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ فلاں بات غلط ہے، فلاں نظام ظلم پر مبنی ہے یا فلاں شخص حق سے منحرف ہے، مگر وقتی فائدے کی خاطر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا اس کا ساتھ دینے لگتے ہیں۔ آج دفتروں، اداروں، سیاسی میدانوں اور سماجی حلقوں میں اس کی بے شمار مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں کہ لوگ حق کا علم ہونے کے باوجود طاقتور فریق کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل دراصل حسینی کردار کے سراسر منافی ہے کیونکہ امام حسینؓ نے ہمیں سکھایا کہ حق کی شناخت کے بعد مصلحت پرستی نہیں بلکہ استقامت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورتِ حال یہ ہے کہ آج بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو باطل کو باطل اور غلط کو غلط سمجھنے کے باوجود اپنی قوت، صلاحیت اور اثر و رسوخ کو استعمال نہیں کرتے بلکہ خاموشی سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ نہ ظلم کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ ہی اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ ایسی خاموشی بھی معاشرہ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، کیونکہ جب اہلِ حق خاموش ہوجاتے ہیں تو باطل کو مزید قوت ملتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے:’’تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں برا سمجھے، اور یہ (دل سے بُرا سمجھنا) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مہرفاطمی کی ادائیگی، صدقات کی اقسام، ایام ِ اضحیہ کے بعد کوئی قربانی نہیں

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مومن کی ذمہ داری صرف حق کو پہچاننا ہی نہیں بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کی حمایت کرنا  اور باطل کی مزاحمت کرنا بھی ہے۔ امت مسلمہ کا ایک انتہائی افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا کے سیکڑوں غیر مسلم مفکرین، دانشوروں اور آزادی پسند تحریکوں کے رہنما واقعۂ کربلا سے حوصلہ، استقامت اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا سبق حاصل کرتے ہیں، لیکن خود مسلمان اس عظیم درس کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مختلف مذاہب اور قوموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حضرت حسینؓ کی قربانی کو حق و انصاف کی علامت قرار دیا، مگر امت کا ایک بڑا طبقہ کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ یا رسمی تذکرہ تک محدود کر چکا ہے جبکہ کربلا کا اصل پیغام زندگی کے ہر شعبے میں حق، عدل، دیانت اور جرأت کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ اگر مسلمان اس پیغام کو سمجھ لیں تو ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔
 آج ہر مسلمان کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ جب حق اور باطل کا معرکہ سامنے آئے تو وہ کس صف میں کھڑا ہوگا؟ کیا وہ مفاد اور مصلحت کی خاطر خاموشی اختیار کرے گا یا حسینی جرأت کے ساتھ حق کا عَلَم بلند کرے گا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK