جہاد ِکربلا صرف معرکہ ٔ حرب و ضرب سے تشکیل پانے والی ایک خونیں داستان نہیں ہے بلکہ اس میں درس حیات کے اتنے پیغامات مضمر ہیں جو نوع انساںکو کمال عبدیت سے ہمکنار کرنے کی سبیل ہیں۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 4:44 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
جہاد ِکربلا صرف معرکہ ٔ حرب و ضرب سے تشکیل پانے والی ایک خونیں داستان نہیں ہے بلکہ اس میں درس حیات کے اتنے پیغامات مضمر ہیں جو نوع انساںکو کمال عبدیت سے ہمکنار کرنے کی سبیل ہیں۔
جہاد ِکربلا صرف معرکہ ٔ حرب و ضرب سے تشکیل پانے والی ایک خونیں داستان نہیں ہے بلکہ اس میں درس حیات کے اتنے پیغامات مضمر ہیں جو نوع انساںکو کمال عبدیت سے ہمکنار کرنے کی سبیل ہیں۔ کربلا کا جہاد یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ جب حق و باطل مد مقابل ہوں تو حق کی بقا اور ترویج کسی خاص صنف اور سن سے مخصوص نہیں ہوتی ۔ اس مقصد کے لئے نیک نیتی کے ساتھ سینہ سپر رہنے والوں میں کچھ تو وہ ہوتے ہیں جو میدان کارزار میں اپنے عزم و شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہیں اورکچھ افراد ایسے جو حق و صداقت کی خاطر جان نثار کرنے والے مجاہدین کی شہادت سے وابستہ اغراض و مقاصد کو عوام الناس پر آشکار کرتے ہیں تاکہ خون شہیداں رائیگاں نہ ہو۔۱۰؍محرم ۶۱ھ کو میدان کربلا میں یزیدی لشکر کے جور و ستم کا مقابلہ کرتے ہوئے امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب و انصار نے راہ حق میں جو قربانیاں دیں ان قربانیوں کو ثمر آور بنانے میں خانوادۂ رسالتؐ کی مخدرات عصمت و طہارت کا مثالی کردار تاریخ کربلا کا ایک اہم باب ہے۔ اس امر میں جناب زینب ؑ کا کردار و عمل سب سے اہم اور نمایاں ہے۔
جناب زینب ؑکربلا کی وہ شیر دل خاتون ہیں جن کی شخصیت عزم و شجاعت اور صبر وا یثار کے بہترین امتزاج کا نمونہ ہے۔ وہ ۲۸؍ رجب ۶۰ھ کو مدینہ سے امام حسین ؑ کی ہجرت اور روز عاشور ان کی شہادت تک ہر مرحلے پر اپنے بھائی کے مقصدِ بقائے دین حق میں ان کی شریک کار رہیں اور بعد شہادت اس مقصد کو عام کرنے میں عزم و عمل کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے یزیدیت کو ابدالآباد کے لئے ذلیل و رسوا کر دیا۔ یہ مرحلہ کوئی آسان مرحلہ نہیں تھا۔ اس میں ہر قدم پر مصائب و آلام کا سامنا تھا لیکن شجاعت ِعلی ؑ اور صبر ِ فاطمہؓ کی ورثہ دار اور اللہ کے رسولؐ کے حلم و تدبر کی امانت دار نے اپنی ذہانت اور شجاعت سے اس مرحلے میں پیش آنے والی مصیبتوں اور رنج و الم کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اپنے اقوال و افعال سے شہادت حسینی کی حقانیت کے پرچم کو اس قدر اوج و بلندی عطا کر دی کہ ۱۰؍ محرم ۶۱ھ کے بعد سے آج تک کوئی بھی باطل قوت اس پرچم کو نگوں نہیں کر پائی۔واقعہ ٔ کربلا کے وقت جناب زینب ؑ کا سن شریف ۵۵؍ برس اور امام حسین کی عمر ۵۷؍ برس تھی۔
یہ بھی پڑھئے: اطاعتِ رسولؐ بھی ضروری اور اہلِ بیت، ازواج مطہراتؓ اور صحابہؓ سے محبت بھی
یہی سبب تھا کہ جب امام حسینؑ مدینہ سے عازم سفر ہو ئے اور جناب زینبؑ نے ان کے ہمراہ جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو ان کے خاوند عبداللہ ابن جعفرؓ نے عراق کے سفر کی صعوبتوں کے پیش نظر انہیں ارادہ ٔسفر ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن جناب زینب ؑ نے نہ صرف اس راہ بلاخیز میں ہر آن بھائی کا ساتھ دیا بلکہ جہاد حق میں اپنے دو بیٹوں عون ؑ و محمد ؑ کی قربانی پر سجدہ ٔ شکر ادا کر کے یہ پیغام دیا کہ حق و صداقت کی بقا کے لئے گودکے پالوں کو نثار کر دینے والی ماں انسانیت، شرافت اور حقانیت کی امین ہوتی ہے۔
امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد مصائب و آلام کا جو سلسلہ شروع ہو ا اور اس مرحلے پر مخدرات عصمت اور کم سن بچوں نے جس صبر و شکیب اور عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا اس سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ حق پسند افراد میںسن اور صنف کے حوالے سے کیسا ہی اختلاف کیوں نہ ہو، حق کی بقا کے لئے وہ اس قدر متحد ہوتے ہیں کہ ظلم و ستم کے تمام حربے اور رنج و غم کی تمام صورتیں ان کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہیں کر پاتے۔ جناب زینب ؑ نے شہادت حسین ؑ کے بعد تاراجیِ خیام تا تشہیر کوفہ و شام اور زندان کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کے ہر مرحلے پر جس عزم و شجاعت کا مظاہرہ کیا وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ نزاکت و لطافت کا یہ پیکر اگر عزم محکم کے ساتھ جادہ ٔ حق پر گامزن ہو تو راہ میں حائل بلا و غم کے کوہ گراں بھی اس کے سامنے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ امام حسین ؑ اور آپ کے اصحاب و انصار کی شہادت کے بعد اما م عصر حضرت زین العابدین ؑ کی بیماری و نقاہت کے عالم میں ان کی خبر گیری اور حوصلہ افزائی،اجڑی مانگ اور ویران گودوالی بیبیوں کو صبر و استقامت کی تلقین اور کم سن بچوں کی پاسبانی کا کام جس طرح جناب زینب ؑ نے بھوک اور پیاس کی شدت میں انجام دیا وہ ایسا لاثانی معرکہ ٔ عظیم ہے کہ اس امر میں تا ابد ثانی زہراؓ کا کوئی ثانی نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: اصلاحِ نفس کوئی محدود عمل نہیں، ایک ہمہ گیر نظام ہے
جناب زینب ؑ نے نہ صرف ان امتحانات کو نہایت صبر و شکیب اور عزم و استقامت کے ساتھ سر کیابلکہ مقصد شہادت حسینی کو عام کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اسیری کے عالم میں بازار کوفہ و شام اور دربار ابن زیاد اوردربار یزید میں جو خطبات دئیے ان خطبات نے بنی امیہ کے نان و نمک پر پلنے والے ان مورخین کی عیاریوں اور سازشوں کو ناکام بنا دیا جو قیام حسین ؑ کو بادشاہ وقت سے بغاوت کا نام دے کر اس معرکہ ٔ دین و صداقت کو محض سیاسی جہد و پیکار کی حیثیت دینا چاہتے تھے۔ یہ خطبات جناب زینب ؑ کی فہم و ذکاوت، فصاحت وبلاغت اور معرفت و آگہی کے آئینہ دار ہیں۔انہوں نے جہاد عمل اور جہاد لسان ہر دو صورت میں مقصد شہادت عظمیٰ کو عوام الناس پر آشکار کیا اورقید خانہ ٔ شام میں اپنے بھائی اور ان کے اصحاب و انصار کا ماتم کر کے عزائے شاہ کی بنیاد رکھی ۔ جناب زینب ؑ کا کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر چہ عورت مزاج، طبیعت اور خیال کی سطح پر نزاکت و نفاست کی حامل ہوتی ہے لیکن جب کوئی عظیم مقصد اس کے پیش نظر ہو تو اس کا ارادہ و عمل ایسے ثبات و عزم کا حامل ہو جاتا ہے کہ سنگ و آہن بھی اس کی قوت و استقامت کے آگے بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔
بقول نسیم امروہوی ؎
شریک صبر شہ مشرقین ہیں زینب ؑ
کہ عین فاطمہ کی نور عین ہیں زینب ؑ
دل محمد ؐ و حیدر ؑ کا چین ہیں زینب ؑ
خدا کی راہ میں بالکل حسین ؑ ہیں زینب ؑ
حسین ؑ مرد ِرہ ِانقلاب ہیں گویا
یہ عورتوں میں عمل کی کتاب ہیں گویا
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: امام سے پہلے سلام پھیرنا مکروہ تحریمی, تاخیر بھی ناپسندیدہ امر ہے
بھائی بہن کی محبت کو رسولِ کائناتؐ نے بیان فرمایا
کتاب ’بحرالمصائب‘ کے مصنف سید امداد علی الحسینی الواسطی نے امام حسینؑ اور جناب زینب ؑ کی باہمی محبت و انسیت کی کیفیت کو نمایاں کرنے والا ایک واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ ’جناب زینب ؑ خاتون جنت کی آغوش میں زیادہ دیر رہنے کے بعد گریہ و زاری فرمانے لگتیںاور جیسے ہی حضرت امام حسین ؑ اپنی آغوش میں لے لیتے خاموش ہو جاتیںاور اپنے بھائی کے چہرہ ٔ اقدس کو مسلسل دیکھتی رہتی تھیں۔ بغیر بھائی کے تھوڑی دیر بھی آپ کو چین نہیں ملتا تھااور بے قرار ہو جاتی تھیں۔ ایک روز خاتون جنت نے اس کیفیت کو سرور کائنات ؐ کی خدمت میں عرض کیا تو رسول مقبول ؐ نے ایک آہ سرد بھری اور آنکھوں سے اشک ٹپک پڑے۔حضرت فاطمۃ الزہراؓ نے اپنے باباؐ سے سبب ِگریہ دریافت کیاتو رسول کائنات ؐ نے فرمایا: اے میری نور نظر، یہ میری بچی زینب ؑ ہزاروں بلاؤں میں مبتلا ہوگی اور کرب و بلا میں متعدد طریقہ کے مصائب و شدائد کا سامنا کرے گی۔‘ بھائی بہن کی زندگی کے ہر مرحلے پر باہمی محبت و انسیت کا یہی عالم رہا ۔