Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیماتِ حسینیؓ میں اپنا محاسبہ کیجئے

Updated: June 26, 2026, 4:55 PM IST | Rahmatullah Bin Saad Yunusi Nadvi | Mumbai

حضرت امام حسینؓ سے سچی محبت و عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ آپؓ کی عظیم و مثالی تعلیمات کو حرز جاں بنایا جائے، آپؓ کے مبارک اسوہ کی پیروی کی جائے ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ماہِ محرم الحرام  کے تاریخی واقعات میں سے ایک نواسۂ رسولؐ  اور حضرت علیؓ و فاطمہؓ کے لخت جگر حضرت حسینؓکی مظلومانہ شہادت ہے۔ اس واقعے کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنی جان قربان کر کے دنیا کو جینے کا اسلوب سکھایا، حق کے پرچم کو بلند کرنے کا عزمِ مصمم دیا، ظلم و نا انصافی کو کبھی برداشت نہ کرنا اور ظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹ جانے کا درس دیا جو کہ ہر دور میں بہادروں کا وطیرہ رہا ہے۔ حضرت حسینؓ نے ظالم و جابر حکمراں کے خلاف صدائے حق بلند کی، بغیر کسی پس و پیش کے پرچم حق لہرایا اور ظالموں کی خلافِ شریعت پالیسیوں کی مخالفت کر کے قرآن و سنت کی ترویج و اشاعت کی، آپ نے بلاخوف و خطر حق بات کہی اور شعائر ِ اسلام کے تحفظ کی خاطر ناقابلِ فراموش قربانیاں پیش کیں اور ظلم و انصاف کے درمیان فیصلہ کن لکیر کھینچ کر ہمیشہ کے لئے فرق کو واضح کیا۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مہرفاطمی کی ادائیگی، صدقات کی اقسام، ایام ِ اضحیہ کے بعد کوئی قربانی نہیں

امام حسین ؓنہ تو ظالموں کے دنیاوی جاہ و حشم ، طاقت و قوت سے لاؤ لشکر اور رعب و دبدبہ سے متاثر ہوئے نہ ہی حاکمِ وقت کی فوجی طاقت سے خوفزدہ ہوئے بلکہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا ۔ آپؓ نے حق کیلئے اپنے اہل و عیال و اولاد کو بھی قربان کر دیا  جبکہ آج ہم، ان کے نام لیوا مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ بلند بانگ دعوے تو ہیں مگر راہِ حق میں چھوٹی سی قربانی دینے کو تیار نہیں ہیں،  ذاتی مفادات سے سمجھوتہ کرنا ناممکن بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اصلاحِ نفس کوئی محدود عمل نہیں، ایک ہمہ گیر نظام ہے

            حضرت امام حسینؓ سے سچی محبت  و عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ آپؓ کی عظیم و مثالی تعلیمات کو حرز جاں بنایا جائے، آپؓ کے مبارک اسوہ کی پیروی کی جائے، آپؓکی سیرتِ قربانی، جدوجہد، صبر و استقامت اور حق پسندی کی اعلیٰ صفات اپنے اندر پیدا کی جائیں۔ آپؓ سے محبت کی دلیل یہ ہے کہ وقت کے ظالموں کے خلاف صدائے حق بلند کی جائے، مظلوموں کی مدد کی جائے تاکہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بنے۔ عقیدتِ حسینؓ کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوں، ہر بدعت سے نفرت ہو، حق کے مقابلہ میں باطل کی طاقت و قوت ہمارے پائے استقامت میں لغزش نہ پیدا کر سکے، نازک اور مشکل گھڑی میں بالکل نہ ڈریں نہ گھبرائیں بلکہ اللہ پر مکمل بھروسہ کریں، اللہ کی یاد دل میں تازہ رہے ،کتنی ہی مصیبتیں آئیں، ناگفتہ بہ حالات جنم لیں یا پریشانیاں کھڑی ہوں مگر ہم  اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں۔

یہ ہیں وہ تعلیمات جو حضرت حسین ؓہمیں دے گئے، اپنا محاسبہ کریں کیا ہم ان پر عمل پیرا ہیں ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK