Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم اڑنا سیکھ توگئے، زمین پر انسانوں کی طرح جینا ابھی باقی ہے

Updated: June 26, 2026, 4:35 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai

قابلِ غور ہے کہ انسان نے قدرت پر غلبہ پانے کی کوشش میں بہت کچھ سیکھ لیا، مگر اپنے باطن کی تعمیر کا سفر اتنی رفتار سے نہیں طے کرسکا ہے۔

You don`t need a complicated laboratory to understand the vastness of nature. Look at a seed: How does it transform into life after being buried in the soil? Photo: INN
قدرت کی وسعت کو سمجھنے کے لئے کسی پیچیدہ تجربہ گاہ کی ضرورت نہیں۔ ایک بیج کو دیکھئے: مٹی میں دفن ہونے کے بعد وہ کیسے زندگی میں بدل جاتا ہے؟ تصویر: آئی این این

انسان نے اپنے سفرِ شعور میں حیرت انگیز فاصلے طے کئے ہیں۔ اس نے آسمان کی وسعتوں کو محض نگاہ کی حد تک نہیں چھوڑا بلکہ ان کی تہوں میں جھانکنے کی کوشش کی، ستاروں کے راستوں کا حساب لگایا، سیاروں تک رسائی کے خواب کو حقیقت میں بدلا، اور سمندر کی سطح پر اکتفا کرنے کے بجائے اس کی گہرائیوں تک اتر کر وہاں کے خاموش جہانوں کو دریافت کیا۔ بظاہر یہ وہ کارنامے ہیں جنہیں کبھی انسانی تخیل بھی پوری طرح قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جیسے جیسے  انسان کی رسائی بڑھی،  ویسے ویسے اس کے سامنے نامعلوم کا دائرہ مزید وسیع ہوتا گیا۔
انسانی تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہر دور نے اپنے آپ کو علم کی انتہا سمجھا، مگر اگلے دور نے آکر ثابت کیا کہ پچھلا زمانہ صرف ابتداء میں تھا۔ ایک وقت تھا جب انسان چند ستاروں کو دیکھ کر آسمان کی حقیقت سمجھ بیٹھا تھا، پھر معلوم ہوا کہ یہ تو ایک بے کنار نظام کا معمولی حصہ ہے۔ پھر زمین کو سمجھنے کی کوشش ہوئی، لیکن معلوم ہوا کہ زمین خود اپنے اندر ایک کائنات رکھتی ہے۔ پھر مادے کی ساخت تک رسائی ہوئی تو اندازہ ہوا کہ چھوٹے سے چھوٹے ذرّے کے اندر بھی سوالات کی نئی دنیا آباد ہے۔ گویا انسان جو دروازہ کھولتا ہے  اس کے پیچھے ایک اور دروازہ موجود ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غیبت، دل آزادی اور بے حسی سے بچئے جنہیں ہم ’چھوٹا گناہ‘ سمجھتے ہیں!

یہی وہ مقام ہے جہاں علم انسان کو دو راستے دیتا ہے: یا تو وہ چند کامیابیوں پر خود کو کائنات کا مالک سمجھنے لگے، یا پھر انہی کامیابیوں کو اپنی محدودیت کی دلیل مان لے۔ حقیقت یہ ہے کہ دریافت کا صحیح نتیجہ غرور نہیں بلکہ انکسار ہے۔ جو شخص واقعی جانتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ جاننے کا سفر ختم نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس نے سب سمجھ لیا، دراصل وہیں اس کی جستجو ختم ہوجاتی ہے۔
قدرت کی وسعت کو سمجھنے کیلئے کسی پیچیدہ تجربہ گاہ کی ضرورت نہیں۔ ایک بیج کو دیکھئے: مٹی میں دفن ہونے کے بعد وہ کیسے زندگی میں بدل جاتا ہے؟ ایک بچے کی پیدائش پر غور کیجیے: جسم کے اندر کتنی ترتیب، کتنی ہم آہنگی اور کتنی خاموش حکمت کام کرتی ہے؟ سمندر کی لہروں کو دیکھئے: ان کی حرکت میں ایک ایسا نظم ہے جو انسان کے بنائے ہوئے کسی نظام سے کہیں زیادہ وسیع اور مستقل ہے۔ انسان ان مظاہر کو بیان تو کرسکتا ہے، مگر ان کی آخری حقیقت تک پہنچ جانا اب بھی اس کی دسترس سے باہر ہے۔
اسی لئے ہر سائنسی فتح اپنے ساتھ ایک نئی عاجزی لے کر آتی ہے۔ جب دوربینیں زیادہ طاقتور ہوئیں تو کائنات کی وسعت ظاہر ہوئی۔ جب خوردبینیں بہتر ہوئیں تو زندگی مزید پیچیدہ نظر آنے لگی۔ جب انسان نے حساب زیادہ درست کیا تو معلوم ہوا کہ حقیقت حساب سے زیادہ وسیع ہے۔ گویا علم کا سفر ایک ایسی سیڑھی ہے جس پر چڑھتے ہوئے انسان کو اپنی بلندی سے زیادہ اپنی محدودیت دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اطاعتِ رسولؐ بھی ضروری اور اہلِ بیت، ازواج مطہراتؓ اور صحابہؓ سے محبت بھی

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ انسان نے قدرت پر غلبہ پانے کی کوشش میں بہت کچھ سیکھ لیا، مگر اپنے باطن کی تعمیر کا سفر اتنی رفتار سے نہیں طے کیا۔ اس نے ہوا میں پرواز کرلی مگر دلوں کے فاصلے کم نہ کر سکا۔ اس نے سمندروں کو عبور کرلیا مگر انسان اور انسان کے درمیان اعتماد کے پل کمزور ہوتے گئے۔ اس نے لمحوں میں پیغام پہنچانا سیکھ لیا مگر بات کرنے کا سلیقہ کھوتا گیا۔ اس نے طاقت پیدا کرلی مگر حکمت کے عنوان پر بونا رہ گیا۔
یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف آسمان، زمین، رات، دن، ہوائیں اور سمندر مسلسل اشارہ کرتے ہیں: کائنات انسان کو صرف طاقت حاصل کرنے کی دعوت نہیں دیتی، بلکہ اپنے مقام کو پہچاننے کی دعوت دیتی ہے۔ جب انسان زمین و آسمان میں غور کرتا ہے تو وہ صرف حقائق نہیں سیکھتا، بلکہ اپنی حیثیت بھی سمجھتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس علم ہے مگر علم کی انتہا نہیں؛ اس کے پاس اختیار ہے مگر مطلق اختیار نہیں؛ اس کے پاس قوت ہے مگر وہ قوت بھی عطا کی ہوئی ہے۔
شاید اسی لئے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ جہالت نہیں بلکہ یہ گمان ہے کہ وہ جان چکا ہے۔ کیونکہ سوال باقی رہیں تو تلاش جاری رہتی ہے، مگر جب انسان خود کو مکمل سمجھنے لگے تو اس کی ترقی رک جاتی ہے۔ دریافت کی اصل روح حیرت میں ہے، اور حیرت وہ دروازہ ہے جہاں سے شعور جنم لیتا ہے۔ ہم پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا سیکھ گئے، مچھلی کی طرح پانی میں تیرنا سیکھ گئے، پہاڑوں کو کاٹنا اور سمندروں کو ناپنا بھی سیکھ گئے؛ مگر ابھی ایک سبق باقی ہے: زمین پر انسانوں کی طرح جینا۔  ایسا جینا جس میں علم ہو مگر تکبر نہ ہو، طاقت ہو مگر ظلم نہ ہو، ترقی ہو مگر بے حسی نہ ہو، اور دریافت ہو مگر انسانیت اس کی قیمت نہ بنے۔ کیونکہ اگر انسان نے کائنات کو جیت لیا مگر اپنے وجود کا مقصد کھو دیا، تو شاید اس نے سب کچھ پا کر بھی اصل چیز ابھی دریافت نہیں کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK