اسلام نے والدین، اولاد ، شوہر و بیوی، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے جو حقوق ہم کو سکھلائے ہیں ان سب کا مقصد نہ صرف یہ کہ ثواب واجر کا حاصل ہونا ہے بلکہ غورکیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں خود انسانی دل کا سکون بھی چھپا ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 5:31 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai
اسلام نے والدین، اولاد ، شوہر و بیوی، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے جو حقوق ہم کو سکھلائے ہیں ان سب کا مقصد نہ صرف یہ کہ ثواب واجر کا حاصل ہونا ہے بلکہ غورکیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں خود انسانی دل کا سکون بھی چھپا ہوا ہے۔
کسی کہنے والے نے بڑی ہی اچھی بات کہی ہے کہ ہمارے گھر میں چلنے والا پنکھا موسم گرما میں راحت ِ جاں کا ایک بہت بڑا سامان ہوتا ہے۔ ویسے تو پنکھا ہر وقت کام کرتا رہتا ہے لیکن اس کی اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب بلا کی گرمی میں یہ رک جاتا ہے تب گھر کے ہر فرد کو اس کا خیال آتا ہے ۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ کسی طرح یہ پنکھا دوبارہ کام کرنا شروع کردے ۔
جس طرح یہ بات پنکھے کے لئے صحیح ہے، اسی طرح ہمارے اپنوں کے لئےبھی صد فیصد صحیح ہے کہ ہمارے قریبی، ہمارے اپنے جب ہمارے ساتھ رہتے ہیں توہم ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے اورجیسے ہی ان میں سے کسی سے دوری ہوتی ہے، ہمارے دل میں اس کیلئے محبت کا جوار بھاٹا اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔ جبکہ آپسی محبت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ وقت رہتے ہم اپنوں کی قدر کریں، اُن کی مدد اور خدمت کریں۔ یہی زندگی کا صحیح لطف اور زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اس سے بڑی نعمت اور کوئی نہیں ہے کہ آپ کا گھر اسلامی زندگی کا حسین نمونہ بن جائے
اسلام نے والدین، اولاد، شوہر و بیوی، رشتہ داروں ، اور پڑوسیوں کے جو حقوق ہم کو سکھلائے ہیں ان سب کا مقصد نہ صرف یہ کہ ثواب واجر کا حاصل ہونا ہے بلکہ غورکیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں خود انسانی دل کا سکون بھی چھپا ہوا ہے۔ انسانی رشتوں میں کڑواہٹ اور دراڑیں ہی ہمارے گھروں میں امن اور میل ملاپ کی اصل دشمن ہیں اور کسی بھی اختلاف کی صورت میں خود پر کنٹرول رکھنا اور سامنے والے کی غلطی کو معاف کردینا عین اسلامی تعلیمات کا تقاضہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے متقیوں کی ایک صفت الکاظمین الغیظ بیان فرمائی ہے کہ غصہ کو پی جانے والے ہیں۔ اسی آیت میں والعافین عن الناس بھی واردہوا ہے کہ یہ لوگوں کو معاف کردینے والوں میں سے ہیں۔ ایک حدیث میں اپنے غلام کو ۷۰؍ مرتبہ معاف کر دینے کا حکم آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے۔ انسانی رشتوں میں ساری مٹھاس اسی حقیقت کو قبول کرنے اور دیگر انسانوں کے ساتھ اس کے مطابق برتاؤ کرنے سے آتی ہے۔
چند روزقبل ایک پروگرام دیکھا جس میں اظہار خیال کا موقع دیا گیا تھا۔ ایک بچی نےیہ بات سنائی کہ ’’جب مجھے ٹھوکر لگتی ہے، اور کانچ کا کوئی گلاس ٹوٹتا ہے تو میرے گھر کے بڑ ے کہتے ہیں : اندھی ہو، دکھائی نہیں دیتا ۔ ذرا دیکھ کر چلا کرو۔‘‘ اور جب ان کی ٹھوکر سے گلاس ٹوٹتا ہے تو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے بدلے غصہ سے کہتے ہیں: یہ گلاس کس نے یہاں رکھا تھا؟ ‘‘ یعنی ہر دو صورتوں میں غلطی کسی اور کے سر پر تھوپ دینا۔ یہ عادت نہ صرف یہ کہ اخلاقی طور پرغلط ہے بلکہ یہ ایسا عمل ہے جو انسانی رشتوں میں وہ کڑواہٹ گھول دیتا ہے کہ تاحیات انسان رشتوں کی مٹھاس سے محروم رہ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روحانی ترقی کیلئے مادی ضروریات کی تکمیل بھی ضروری ہے
اسلامی تعلیمات دراصل ہمیں یہ بھی درس دیتی ہیں کہ رشتوں میں ملنے والے زخموں کو پالنے سےکہیں بہتر ہے کہ انسان معاف کرکے اس طرح کے اختلافات کونظر انداز کردے۔ حدیث شریف میں یہود کی شرارت کا ایک واقعہ وارد ہوا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضرت محمدؐ کے پاس کچھ یہودی آئے اور انہوں نے کہا: السام علیکم (تم پر موت ہو)۔ میں (عائشہؓ) نے سمجھ لیا اور جواب دیا: تم پر موت اور لعنت ہو۔ اس پر رسول کریم ؐنے فرمایا: اے عائشہ! نرمی اختیار کرو، بے شک اللہ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: آپ ؐنے نہیں سنا انہوں نے کیا کہا؟ آپ ؐ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے کہا؟ میں نے وعلیکم کہا یعنی تم پر بھی۔
اس واقعہ پر غورکیجئے کہ ہمارے نبی کریم ؐ نے ہمیں دشمنوں کے ساتھ ایسے برتاؤ کی تعلیم دی ہے تو اپنوں کے ساتھ ہمیں کیسا برتاؤ کرنا چاہئے اور کس طرح دوسروں کی غلطیوں کو یا ان کی شرانگیزیوں کو نظر انداز کرکے زندگی گزارنا چاہئے۔ اس لئے کہ بعض لوگ مزاجاً فتنہ پرور واقع ہوتے ہیں۔ ان سے الجھنے سے بہتر ہے کہ اپنے آپ کو سلجھا لیا جائے اور آپسی نااتفاقیوں میں بات کو بڑھانے کے بجائے اس کو بہتر طریقے پر رفع دفع کردیا جائے۔ آج ہمارے پاس میاں بیوی میں طلاق کے جو معاملات بڑھنے لگے ہیں، اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف وقتی غصہ ہے۔ اکثر معاملات میں دونوں بعد میں نادم ہوکر ساتھ رہنا چاہتے ہیں،لیکن سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔ اسی لئےہمیں خاص کر اپنوں کے ساتھ نہایت صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے رشتے استوار رکھنا چاہئے اوربات بات پر ناراضگی، اختلافات یا لڑائی جھگڑوں سے بچنا چاہئے کہ ان سب کا انجام بالآخر کسی کے نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ آج ہم جن اپنوں سے لڑرہے ہیں ،کل ان کے بچھڑ جانے کے بعد انسانی دل کا غم ساری حدود لانگھ جاتا ہے۔ قبرستانوں میں اپنوں کی قبروں سے لپٹ لپٹ کر رونے والوں سے عبرت حاصل کرتے ہوئے وقت رہتے اپنوں کی صحیح قدر و قیمت کو جان لینا ہی رشتوں کی سچی قدر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حالت ِاحرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے
جب ہم نبی کریم ؐ کی گھریلو زندگی پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کرپاتے ہیں کہ آپؐ ایک بہترینFamily Man تھے۔ روایات میں یہ بھی ملتا ہےکہ آپؐ گھر میں مسکراتے ہوئے داخل ہوتے۔ صحابہؓ نے گواہی دی کہ ہم نے آپؐ سے زیادہ مسکرانے والا شخص کوئی اور نہیں دیکھا۔ اس کے علاوہ بھی آپؐ کی سیرت سے ہم بیشمار مثالیں چن کر اپنی زندگی میں بسائیں تو زندگی پرسکون اور آرام دہ بن جائیگی۔