شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) احرام کی حالت میں خوشبو لگانا۔ (۲) طلاق کا ایک مسئلہ۔ (۳) بیوہ عدت کہاں گزارے؟
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 5:03 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) احرام کی حالت میں خوشبو لگانا۔ (۲) طلاق کا ایک مسئلہ۔ (۳) بیوہ عدت کہاں گزارے؟
احرام کی حالت میں خوشبو لگانا
کیا حالت احرام میں خوشبو والے تیل جیسے کھوپرا یا ایرنڈی کا تیل استعمال کر سکتے ہیں؟ اور ملتانی مٹی سے چہرہ اور ہاتھ دھو سکتے ہیں؟ عبد اللہ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: حالت ِاحرام میں خوشبو کا استعمال منع اور جنایات احرام میں سے ہے۔ اگر مکمل کسی عضو پر خوشبو یا خوشبودار چیز کا استعمال محرم نے کیا تو دم (ایک بکرا یادنبہ وغیرہ کا ذبح) واجب ہوگا، ایک عضو سے کم میں صدقہ واجب ہوگا دم نہیں۔ خوشبو کے اعتبار سے صابن کئی طرح کے ہوتے ہیں: (۱)جن میں عطر جیسی پھوٹتی خوشبو ہو (۲)جن میں خوشبو نہ ہو سادہ بغیر خوشبو کے ہوں (۳)معمولی اور ہلکی خوشبو ہو عطر جیسی نہ ہو۔ جنایت کا ارتکاب پہلی قسم کے صابن کے استعمال پر ہوگا، سادہ صابن جنایت میں شامل نہیں جبکہ معمولی خوشگوار بو والے صابن کا بھی یہی حکم ہے مگر پھر بھی احتیاط بہتر ہے۔
تیل کے متعلق بھی یہی تفصیل ہے۔ بعض علماء نے ڈیٹول کی خوشبو کو خوشگوار بو میں شامل مانا ہے ، عطر کے حکم میں نہیں۔ کھوپرا کی خوشبو دور سے پھیلتی محسوس ہوتی ہے (یہ میرا مشاہدہ ہے)اس لئے اس سے احتیاط کی جائے ۔ ملتانی مٹی کی بو خوشگوار تو ہوتی ہے مگر عطر جیسی نہیں، اس صورت میں گنجائش ہوگی تاہم اس پر غور کرلیا جائے کہ کہیں عطر جیسی خوشبو تو نہیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: قران، تمتع اور افراد: حج کی تین اقسام ہیں
طلاق کا ایک مسئلہ
جھگڑے کے درمیان بیوی نے کہا : ’’تمہارے بس میں کیا ہے تم مجھے چھوڑ سکتے ہو؟ تم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔‘‘ شوہر نے غصّہ سے کہا: ٹھیک ہے میں نے تم کو چھوڑ دیا، تم کو طلاق دیا، میرے گھر سے نکل جاؤ۔‘‘ اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہوئی؟ عبداللہ، گجرات
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق: صورت مسئولہ میں شوہر نے جو جملے استعمال کئے ان میں سے پہلا جملہ (تم کو چھوڑ دیا) طلاق کے لئے صریح نہیں بلکہ کنایہ ہے جس میں بیشتر نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا جملہ (تم کو طلاق دیا)طلاق کے لئے صریح ہے جس میں وقوع طلاق کے لئے نیت شرط نہیں اور تیسرا جملہ (نکل جاؤ)یہ بھی کنایہ ہے مگر بعض حالات میں صریح بھی بن سکتا ہے۔ یہ اور ان جیسے الفاظ کے متعلق بڑی طویل گفتگو ممکن ہے جس کی یہاں چنداں ضرورت نہیں۔ اہل علم اس سے واقف ہیں کہ الفاظ کنایہ سے بعض اوقات (مثلاً غضب اور مذاکرہ طلاق کی حالت میں)وقوع طلاق کے لئے نیت کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ بظاہر تو یہ کہاجاسکتا ہے کہ تینوں جملوں سے ایک ایک طلاق کا حکم ہے لیکن آخری جملے (میرےگھر سے نکل جاؤ) میں یہ امکان بھی ہے کہ اسے مستقل مفید طلاق جملہ نہ سمجھا جائے بلکہ گویا وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میں طلاق دے چکا اس لئے اب گھر سے نکل جاؤ۔ اس طرح یہ ایک خبر ہوگی نہ کہ مستقل مفید طلاق جملہ، میرے علم کے مطابق یہاں یہ جملہ اسی قبیل سے ہے جبکہ پہلے جملے میں بھی ایسی تاویل ممکن ہے اس لئے اس صورت میں ایک طلاق تو یقینی ہے جبکہ امکان دو کا بھی ہے لیکن طلاق مغلظہ بہر حال نہیں ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حجر اسود کا بوسہ، دونوں طرف سے نفع، قرض کے بدلے نفع، شراب نوش دکاندار
بیوہ عدت کہاں گزارے
ایک عورت چھتیس سال سے اپنی لڑکی کے پاس رہ رہی ہے اور اس کے شوہر نے طلاق بھی نہیں دی ہے۔ اب شوہر کا انتقال ہوگیا ہے تو وہ عورت عدت کہاں پر گزارے گی ؟عبد المتین بنگلور
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: شامی اور دیگر کتب فتاویٰ میں یہ صراحت موجود ہے کہ طلاق کی عدت ہو یا شوہر کی وفات کی عدت، عورت اس مکان میں عدت گزارےگی جہاں اس کی مستقل رہائش تھی۔ چنانچہ اگر شوہر کے دو جگہ مکانات ہیں مگر اس نے بیوی کو مثلا شہر میں رکھا ہواہے خود کبھی شہر میں رہتا ہے کبھی دیہات میں، اس صورت میں اگر شوہر کی وفات شہر میں ہوئی تو شہر میں عدت گزارنا ظاہر ہے لیکن دیہات کے مکان میں وفات ہونے کی صورت میں بھی بیوہ کو شہر ہی میں عدت گزارنی ہوگی جہاں اس کی مستقل رہائش تھی۔ صورت مسئولہ میں عورت چھتیس سال سے بیٹی کے پاس رہ رہی تھی، اصولاً تو اس کو شوہر کے مکان میں ہی عدت گزارنی چاہئے لیکن اتنا طویل عرصہ بیٹی کے یہاں رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی وجہ سے وہیں پر اس کی مستقل رہائش تھی، یہ صورتحال ہو تو وہیں رہ کر عدت گزار سکتی ہےتاہم اگر کسی سبب مثلاً لڑکی کی دیکھ بھال کی وجہ سے وہاں قیام پذیر تھی لیکن شوہرکے گھر سے انقطاع نہیں تھا اس صورت میں بہتر شوہر کا گھر ہوگا،مگر لڑکی کے یہاں عدت گزارنے کی بہر حال گنجائش ہے واللہ اعلم وعلمہ اتم