Inquilab Logo Happiest Places to Work

مساجد میں خواتین کے داخلے پر پابندی نہیں لیکن...: مسلم پرسنل لاء بورڈ

Updated: April 24, 2026, 7:35 PM IST | New Delhi

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اسلام میں خواتین کو مساجد میں نماز کے لیے آنے سے نہیں روکا جا سکتا، تاہم اس کے لیے مخصوص نظم و ضبط کی پابندی ضروری ہے۔ نو رکنی آئینی بنچ کے سامنے پیش دلائل میں کہا گیا کہ خواتین مرکزی دروازے سے داخلے یا مخصوص جگہ کے مطالبے کی پابند نہیں ہو سکتیں۔ عدالت نے اس معاملے کو اہم آئینی سوال قرار دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ میں جمعرات کو ایک اہم آئینی سماعت کے دوران آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے واضح کیا کہ اسلام میں خواتین کو مسجد میں داخل ہونے اور نماز ادا کرنے کی اجازت ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ مذہبی نظم و ضوابط بھی لازم ہیں۔ بورڈ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایم آر شمشاد نے نو ججوں پر مشتمل بنچ کے سامنے یہ مؤقف رکھا، جس کی سربراہی چیف جسٹس سوریہ کانت کر رہے ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بنیادی سوال اٹھایا کہ آیا خواتین کو مسجد میں داخلے کی اجازت ہے، جس پر بورڈ کے وکیل نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس حوالے سے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور خواتین کو نماز کے لیے مسجد آنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس اجازت کے ساتھ کچھ اصول جڑے ہوئے ہیں جن کی پابندی ضروری ہے، اور کوئی بھی فرد مسجد کے اندر کسی مخصوص مقام یا طریقہ کار پر اصرار نہیں کر سکتا۔
وکیل نے مزید کہا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ خواتین کو مسجد کے مرکزی دروازے سے داخل ہونے دیا جائے اور انہیں مخصوص رسائی حاصل ہو، جو کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مسجد کے اندر کوئی ایسا مخصوص مقام نہیں ہوتا جسے ’’حرم‘‘ کے طور پر مخصوص کیا جائے، اس لیے کوئی بھی شخص یہ مطالبہ نہیں کر سکتا کہ اسے کسی خاص جگہ پر کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کا حق دیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی بورڈ: میرٹھ میں ادیبہ ملک ٹاپر، بہن شفا نے بھی دوسرا مقام حاصل کیا

سماعت کے دوران جسٹس احسان الدین امان اللہ نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ خواتین کے لیے مسجد میں نماز ادا کرنا لازمی قرار نہ دینے کی ایک وجہ عملی زندگی سے جڑی ہو سکتی ہے، جیسے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں۔ انہوں نے کہا کہ یہ روایت نبی کریم ﷺ کے دور سے چلی آ رہی ہے، جہاں خواتین کو سہولت دی گئی کہ وہ اپنی حالت کے مطابق عبادت کا طریقہ اختیار کریں۔ بورڈ کے وکیل نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ عورتوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکا جائے۔ تاہم ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کے لیے گھر میں نماز ادا کرنا افضل سمجھا جاتا ہے، جبکہ مردوں کے لیے جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنا زیادہ اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی خاتون مسجد آنا چاہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: اتر پردیش :۱۲؍ ہزار سے زائد وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن منسوخ

واضح رہے کہ یہ معاملہ پونے کے ایک جوڑے کی درخواست سے جڑا ہوا ہے، جس میں مسلم خواتین کو مساجد میں داخلے اور نماز کی اجازت دینے کے لیے عدالتی ہدایات طلب کی گئی ہیں۔ یہ کیس سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلہ کے فیصلے ۲۰۱۸ء سے متعلق بڑے آئینی سوالات کا بھی حصہ ہے، جہاں مذہبی مقامات میں خواتین کے حقوق اور رسائی کے معاملات زیر بحث ہیں۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد سماعت کو آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس کیس کا فیصلہ نہ صرف مسلم خواتین کے مسجد میں داخلے کے حق بلکہ مجموعی طور پر مذہبی مقامات پر صنفی مساوات کے اصولوں پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK