اگر ہم واقعی یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ بنے اور ہمارے سماج میں اسلامی اقدارو روایات کا چرچا ہو، ہر طرف اسلامی روایات اور تعلیمات کا تذکرہ ہو تو اس کا کامیاب طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنی خواتین میں دین کا شعور پیدا کریں۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 5:15 PM IST | Mohammed Yusuf Islahi | Mumbai
اگر ہم واقعی یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ بنے اور ہمارے سماج میں اسلامی اقدارو روایات کا چرچا ہو، ہر طرف اسلامی روایات اور تعلیمات کا تذکرہ ہو تو اس کا کامیاب طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنی خواتین میں دین کا شعور پیدا کریں۔
دین کا صحیح شعور ہو یا نہ ہو، تاہم یہ حقیقت ہے کہ خواتین میں دینی احساس مردوں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ میلاد کی محفلیں، نعت خوانی کی مجلسیں، نذرونیاز، تیجا، چالیسواں، نوحہ خوانی… یہ سب دراصل خواتین ہی کے دم سے قائم ہیں اورمسلمان معاشروں میں ان کے چرچے خواتین ہی کی بدولت ہیں… یہی خواتین اگر دین کا صحیح شعورحاصل کرلیں، قرآن و سنت کی صحیح تعلیم سے واقف ہوجائیں، دین کے صحیح تصور اور صحیح فہم سے آشنا ہوجائیں اورانہیں واقعی یہ احساس ہوجائے کہ وہ بھی خیر اُمت کا حصہ ہیں تو ہمارے گھروں کی فضا، خاندانوں کے حالات اور معاشرے کے طورطریق سب بدل جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حالت ِاحرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے
خداکی کتاب کا یہ خطاب کہ ’’تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۱۰) یقیناً تمام مسلمانوں سے ہے۔ یہ خطاب صرف مردوں سے نہیں عورتوں سے بھی ہے۔ لازمی طور پر خواتین بھی اس حکم کی پابند ہیں، وہ بھی دین کی نمائندہ اور دین کی ترجمان ہیں اور دین کی دعوت و تبلیغ ان کا بھی دینی فریضہ ہے۔ بے شک ہر وہ خاتون جو خدا پر ایمان رکھتی ہے اس کا یہ فرض ہے کہ اپنے حلقۂ کار میں دینِ اسلام کی تبلیغ کرے۔ اپنے محرم مردوں کو دین سمجھنے اور دین پر عمل کرنے کی تلقین کرے اور خواتین میں عمومی حیثیت سے دین کی اشاعت کے لئے جدوجہد کرے۔ اگر خواتین میں اپنے منصب کا یہ احساس بیدارہوجائے تو گھروں میں اسلامی زندگی اور اسلامی روایات و تہذیب کا چرچا رہے اور اسلامی تعلیمات تازہ رہیں ۔
مغربی تہذیب کے زبردست غلبے نے اور پھر موجودہ تعلیم و تربیت نے دین سے دُوری اور بے گانگی کی عام فضا پیدا کردی ہے۔ اس بے دینی اور جاہلیت کا مقابلہ اگر کیا جاسکتا ہے تو صرف اس طرح کہ ہم اپنے گھروں کی طرف توجہ دیں، گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں کہ ہماری خواتین دین کو سمجھنے، دین کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالنے، دین کی روشنی میں اپنے گھر کے ماحول کو سدھارنے اوردین ہی کے مطابق بچوں کی تربیت اور پرورش کرنے کو اپنی زندگی کا سب سے عزیز مقصدسمجھنے لگیں۔ گھروں میں دینی فضا قائم رکھنے کا اہتمام اور بچوں کو دین کے مطابق اٹھانے کا اہم کام خواتین ہی انجام دے سکتی ہیں۔
دورِ سابق میں جب اسلامی تعلیمات کا چرچا تھا، عورتیں شروع ہی سے بچوں میں اسلام کی رغبت پیدا کردیتی تھیں۔ بچے دین کی معلومات اور دینی عبادات میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ قرآن پاک پڑھنے پڑھانے کا عام معمول تھا۔ بچوں کوعام طور پر دعائیں یاد ہوتی تھیں: سوتے وقت کی دعا،سو کر اُٹھتے وقت کی دعا، مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا، مسجد سے نکلتے وقت کی دعا، کھانا شروع کرتے وقت کی دعا، کھانے سے فارغ ہونے کے بعد کی دعا، پھل کھاتے وقت کی دعا، نیا لباس پہنتے وقت کی دعا، آئینہ دیکھتے وقت کی دعا، غرض بچوں کو یہ دعائیں اس طرح یاد ہوتی تھیں کہ وہ شوق اوردل بستگی کے ساتھ ان کو رٹتے رہتے تھے اور یہ معمولی بات نہیں تھی۔ دراصل ان سادہ لوح بچوں کے پاک ذہنوں میں اس وقت جو نقوش ثبت ہوجاتے تھے ان کی آئندہ زندگی انہی نقوش کی آئینہ دار ہوتی تھی اور یہ زندگیاں اسی لئے اسلام کا پیکر ہوتی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: مایوسی کی گنجائش نہیں، اللہ کی رحمت ہر حال میں موجود ہے
ماں کی محبت بھری گود میں بیٹھ کر جو کچھ وہ رٹ لیا کرتے تھے، پھر زندگی بھر اُسے کبھی نہ بھولتے تھے۔ انہی بنیادوں پر ان کی زندگیاں استوار ہوتی تھیں، پھر نہ انگلستان کی فضا اُنھیں بدل سکتی تھی‘ نہ زمستانی ہوائیں ان پر اثر کرتی تھیں اور نہ کوئی خوف اور لالچ ان پر اثرانداز ہوسکتا تھا۔ وہ جہاں رہتے تھے دین کے دردمند اور دین کے داعی اور حامی بن کر رہتے تھے… تاریخ اسلامی کی جن عظیم ہستیوں پر ہم فخر کرتے ہیں اور ان کے کارناموں کو یاد کرکے سردُھنتے ہیں وہ دراصل کارنامے ہیں ان گودوں کے جن میں یہ عظیم ہستیاں پل کرجوان ہوئی تھیں۔ اگر آپ اپنی تاریخ دُہرانا چاہتے ہیں اور اپنی عظمت رفتہ کو آواز دینا چاہتے ہیں تو ضرورت ہے کہ آپ ایسی گودیں مہیا کرنے کے لئے کوشش و کاوش کریں۔ اگر ہم واقعی یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ بنے اور ہمارے سماج میں اسلامی اقدارو روایات کا چرچا ہو، ہر طرف اسلامی روایات اور تعلیمات کا تذکرہ ہو تو اس کا کامیاب طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنی خواتین میں دین کا شعور پیدا کریں، گھر کے ماحول کو دین کے لئے سازگار بنائیں اور اپنی خواتین کو متوجہ کریں کہ وہ اپنے گھروں کو دین کا مدرسہ بنائیں۔ اگر ہمارے گھر دین کا مدرسہ بن جائیں تو پھر باہر کا ماحول ہمارے گھروں میں ہرگز کوئی انقلاب لانے کی جرأت نہ کرسکے گا بلکہ گھر کی یہ فضائیں باہر کے ماحول میں خوش گوار انقلاب لائیں گی اور اس انقلاب کا مقابلہ آسان نہ ہوگا۔
گھروں میں اسلامی تعلیم کی آسان کتابیں ضرور رکھئے۔ ان کے پڑھنے پڑھانے کا اہتمام کیجئے۔ قرآن پاک کی تفسیر و ترجمے، حدیث ِ رسولؐ کے ترجمے، دعاؤں کی کتابیں اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متعلق کتابیں ضرور گھروالوں کےلئے فراہم کیجئے۔ پھر اپنے اوقات میں سے کچھ وقت ضرور فارغ کیجئے کہ گھر کے سارے افراد بیٹھ کر اجتماعی طور پر کچھ مطالعہ کریں، غوروفکر کریں، تبادلۂ خیال کریں اور پھر یہ کوشش بھی کریں کہ دین کا جو علم و شعور حاصل ہوتا جائے اس کے مطابق دھیرے دھیرے زندگیوں میں تبدیلی لانے کی کوشش شروع ہو۔ تھوڑے ہی عرصے میں آپ دیکھیں گے کہ آپ کے گھر کی فضا بدلی ہوئی ہے… اور یقین کیجئے کہ اس سے بڑی نعمت اور کوئی نہیں ہے کہ آپ کے گھر اسلامی زندگی کا حسین نمونہ بن جائیں اور آپ کے گھر والے اسلام کے داعی اور نمائندہ بن کر زندگی گزارنے لگیں۔
یہ بھی پڑھئے: ظاہری و باطنی طہارت دونوں لازمی مگر طریقے الگ
خواتین کا تعاون گھر کا ماحول
گھر کے ماحول پرسب سے زیادہ جو چیز اثرانداز ہوتی ہے وہ ایک نیک دل، وفاشعار، دردمند، عالی حوصلہ اور دین دار خاتون کا اعلیٰ کردار اور پاکیزہ سیرت ہی ہوتی ہے۔ خواتین کی مدد اور تعاون کے بغیر نہ گھر کے ماحول میں سدھار آسکتا ہے اور نہ باہر کی فضا میں کوئی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ کوئی ایسا خوشگوار پاکیزہ انقلاب جس کی جڑیں بہت مضبوط ہوں اور جو واقعی انسانوں کے قلب و دماغ کو بدل سکے، اسی وقت لایا جاسکتا ہے جب خواتین اس کی داعی بن جائیں اور وہ اپنے شب وروز اس کے لئے وقف کردیں۔