اسلام نے مادی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اسے انسانی زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا ہے لیکن آج کے دور میں ایک طرف مادیت کا غلبہ ہے تو دوسری طرف کچھ لوگ روحانیت کے نام پر دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں ، دونوں رویے انتہا پسندی پر مبنی ہیں۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 5:25 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
اسلام نے مادی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اسے انسانی زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا ہے لیکن آج کے دور میں ایک طرف مادیت کا غلبہ ہے تو دوسری طرف کچھ لوگ روحانیت کے نام پر دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں ، دونوں رویے انتہا پسندی پر مبنی ہیں۔
انسانی زندگی دو بنیادی پہلوؤں پر قائم ہے: ایک روحانیت اور دوسرا مادیت۔ روحانیت کا تعلق انسان کے باطن، اس کے قلب و ضمیر اور اس کے اپنے خالق کے ساتھ تعلق سے ہے، جبکہ مادیت مثبت معنی میں اس کی دنیاوی ضروریات، جسمانی تقاضوں اور معاشرتی زندگی سے وابستہ ہے۔ اسلام ایک ایسا جامع اور کامل نظامِ حیات پیش کرتا ہے جو ان دونوں پہلوؤں کے درمیان نہایت حسین توازن قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے، تاکہ انسان کی زندگی یک رُخی نہ بنے بلکہ ہمہ جہت ترقی کا ذریعہ بنے۔ یہی توازن انسان کو دنیا میں بھی کامیابی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی فلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ امت مسلمہ کی اس خوبی کو ذیل کی آیت سے بھی سمجھنا بہت آسان ہے:
’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا۔‘‘(سورۃ البقرہ:۱۴۳)۔ روحانیت انسان کی اندرونی کیفیت، دل کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے تعلق کو مضبوط بنانے کا نام ہے۔ جب انسان روحانیت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے اندر عاجزی، صبر، شکر، توکل اور اخلاص جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ صفات نہ صرف اس کی انفرادی زندگی کو سنوارتی ہیں بلکہ معاشرے میں بھی خیر و بھلائی کو فروغ دیتی ہیں۔ روحانیت کی منزلوں کو طے کرنے والا انسان ہر لمحہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے اور یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کا ہر عمل اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔
یہ بھی پڑھئے: اس سے بڑی نعمت اور کوئی نہیں ہے کہ آپ کا گھر اسلامی زندگی کا حسین نمونہ بن جائے
مادی ضرورت کو بھی اسلام نے نظر انداز نہیں کیا بلکہ اسے انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ انسان کو اپنی ضروریاتِ زندگی جیسے خوراک، لباس، رہائش، تعلیم اور علاج کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اسلام اس جدوجہد کو عبادت کا درجہ دیتا ہے، بشرطیکہ یہ حلال ذرائع سے ہو اور اس میں انصاف و دیانت داری کو ملحوظ رکھا جائے۔ اس طرح مادیت روحانیت کی معاون بن جاتی ہے، نہ کہ مخالف۔
لیکن اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان ان دونوں میں سے کسی ایک پہلو میں حد سے بڑھ جاتا ہے۔ اگر وہ صرف مادیت کے پیچھے دوڑتا ہے تو اس کی زندگی محض دنیاوی کامیابیوں تک محدود ہو جاتی ہے، دل سخت ہو جاتا ہے اور روحانی سکون ناپید ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ دنیاوی ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر صرف روحانیت میں گم ہو جائے تو وہ اپنے فرائضِ زندگی ادا نہیں کر پاتا اور ایک غیر متوازن زندگی گزارنے لگتا ہے۔
عقلی اعتبار سے بھی اگر غور کیا جائے تو توازن کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک پرندہ صرف ایک پر کے سہارے نہیں اڑ سکتا، بلکہ اسے دونوں پروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کی زندگی بھی روحانیت اور مادیت کے دو پروں سے بلند ہوتی ہے۔ اگر ایک پہلو کمزور ہو جائے تو زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور انسان اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حالت ِاحرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اس توازن کی کامل ترین مثال ہے۔ آپؐ نے عبادت میں بھی اعلیٰ مقام حاصل کیا اور دنیاوی معاملات میں بھی بھرپور حصہ لیا، آپؐ نے تجارت کی، نکاح کئے، اہل و عیال کے حقوق ادا کئے اور معاشرے کی اصلاح کے لئے جدوجہد کی۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ ؐ راتوں کو قیام کرتے، اللہ سے مناجات کرتے اور روحانیت کی بلند ترین منازل طے کرتے رہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں بھی اسی اعتدال کا عملی نمونہ تھیں۔ وہ دن کے وقت محنت مزدوری، تجارت اور دیگر کاموں میں مصروف رہتے اور رات میں عبادت، ذکر اور تلاوتِ قرآن میں مشغول ہوتے۔ ان کی زندگی نہ صرف روحانی طور پر مضبوط تھی بلکہ معاشی اور سماجی لحاظ سے بھی متوازن تھی۔
آج کے دور میں ایک طرف مادیت کا غلبہ ہے تو دوسری طرف کچھ لوگ روحانیت کے نام پر دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور دنیاوی ضروریات اور ذمے داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ دونوں رویے انتہا پسندی پر مبنی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اعتدال کا راستہ اختیار کریں، اپنی دنیا کو بھی سنواریں اور اپنی آخرت کی بھی فکر کریں۔
خلاصہ یہ ہے کہ روحانیت اور مادیت کے درمیان توازن ہی ایک مثالی، پُرسکون اور بامقصد زندگی کی بنیاد ہے۔ جو شخص اس توازن کو سمجھ لیتا ہے اور اپنی زندگی میں نافذ کر لیتا ہے، وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرتا ہے۔ اسلام ایسی ہی زندگی کی وکالت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئیے، ہم اپنی اصلاح کیلئے خود ایسی کوشش کریں جس میں کامیاب ہوسکیں
روحانیت، مادیت اور اسلامی نقطۂ نظر
یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیاوی معاملات سے بالکل بے خبر ہو کر صرف روحانیت کی تلاش میں لگ جانا بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں رہبانیت (ترکِ دنیا) کو پسند نہیں کیا گیا، کیونکہ اسلام ایک عملی دین ہے جو انسان کو دنیا میں رہتے ہوئے دین پر عمل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روحانیت میں ترقی کے لئے مادی ضروریات کی تکمیل بھی ضروری ہے، کیونکہ ایک بھوکا، بے گھر یا پریشان حال انسان نہ یکسوئی سے عبادت کر سکتا ہے اور نہ ہی ذہنی سکون حاصل کر سکتا ہے۔قرآنِ کریم نے اس توازن کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو، اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھولو۔‘‘ (سورۃ القصص:۷۷) یہ آیت نہایت جامع اصول فراہم کرتی ہے کہ انسان کو آخرت کی فکر کے ساتھ دنیاوی ضروریات کی بھی فکر کرنی چاہئے کہ انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔