آپؐ نے خود بھی اس پر عمل فرمایا چنانچہ معمول مبارک تھا کہ اگر تازہ کھجوریں ہوتیں تو ان سے افطارکرتے، ورنہ خشک کھجور (خرما) سے اور یہ بھی نہ ہوتا تو چند گھونٹ پانی نوش فرمالیتے۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 5:19 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai
آپؐ نے خود بھی اس پر عمل فرمایا چنانچہ معمول مبارک تھا کہ اگر تازہ کھجوریں ہوتیں تو ان سے افطارکرتے، ورنہ خشک کھجور (خرما) سے اور یہ بھی نہ ہوتا تو چند گھونٹ پانی نوش فرمالیتے۔
جن پانچ اعمال کو اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے ، ان میں ایک روزہ بھی ہے۔ نماز اگر خدا کی خشیت کا مظہر ہے تو روزہ اس سے محبت کا اظہار ہے۔ روزہ کے ذریعہ ایک صاحب ایمان ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی محبت اور اس کی خوشنودی کی طلب نے اسے کھانے پینے جیسی بنیادی ضروریات سے بھی بیگانہ کررکھا ہے، روزہ کی ابتداء طلوع صبح سے ہوتی ہے، اس سے پہلے سحری کھانا مسنون ہے تاکہ روزہ رکھنا آسان ہو۔ روزہ کی انتہاء سورج کے ڈوبنے پر ہوتی ہے؛ اس لئے سورج کے ڈوبتے ہی افطار کرنا واجب ہے، افطار میں تاخیر کرنا مکروہ ہے اور افطار نہ کرکے دن کے ساتھ ساتھ رات کا بھی روزہ رکھنا نا جائز اور گناہ ہے۔ اگر دن بھر بھوکا پیاسا رہنا خدا کی بندگی ہے تو افطار میں عجلت کرنا بھی بندگی ہی کا اظہار ہے۔ دن بھر بھوکا رہنا اگر خدا کی خوشنودی کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کرنے سے عبارت ہے تو افطار میں جلدی کرنا اپنے عجز و درماندگی اور اپنے پروردگار کے سامنے فقر و احتیاج کا اظہار ہے۔ گویا انسان اپنے پروردگار سے کہتا ہے کہ ہم آپ کے رزق سے بے نیاز نہیں ہوسکتے، ہم تو کھانے کے ایک ایک دانہ اورپانی کے ایک ایک قطرہ کے محتاج ہیں، جب تک آپ نے روکا رک گئے، پھر جونہی اجازت ملی آپ کے خوانِ نعمت پر ٹوٹ پڑے ؛ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میرے بندوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہو۔ (سنن الترمذی ، باب ما جاء فی تعجیل الافطار)
یہ بھی پڑھئے: حضورﷺ نے مسلمانوں کو مساجد سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے
چوںکہ افطار ہی سے روزہ کی تکمیل ہوتی ہے؛ اس لئے افطار بھی ایک عبادت ہے، جیسے سلام سے نماز کے اور بال مونڈانے سے حج و عمرہ کے افعال مکمل ہوتے ہیں؛ اس لئے سلام اور بال کا مونڈانا یا کٹانا بھی عبادت ہے، اسی طرح افطار بھی روزہ جیسی عبادت کا حصہ ہے؛ اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے افطار کا وقت متعین فرمایا، افطار کے آداب بتائے؛ کہ افطار سے پہلے دُعا (اللھم لک صمت…)پڑھی جائے :
’’بار الٰہا! میں نے آپ ہی کے لئے روزہ رکھا اور آپ ہی کے عطاء کردہ رزق پر افطار کر رہاہوں۔‘‘(سنن أبو داؤد ، کتاب الصیام)
افطار کن چیزوں سے ہوناچاہئے؟ آپؐ نے اس کو بھی بیان فرمایا؛ چنانچہ ارشاد ہے کہ کھجورسے روزہ افطار کیا جائے۔ اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے؛ کیوںکہ وہ پاک ہے۔ (أبو داؤد ، باب ما یفطر علیہ)
آپؐ نے خود بھی اس پر عمل فرمایا چنانچہ معمول مبارک تھا کہ اگر تازہ کھجوریں ہوتیں تو ان سے افطارکرتے، ورنہ خشک کھجور (خرما) سے اور یہ بھی نہ ہوتا تو چند گھونٹ پانی نوش فرمالیتے۔
چوںکہ عبادت میں معاون و مدد گار بننا کارِ ثواب ہے اور مسلمانوں سے یہ مطلوب ہے؛ اس لئے آپؐ نے افطار کرانے کی بھی فضیلت بیان فرمائی۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ جو کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس روزہ دار کے اجر میں کمی کے بغیر افطار کرانے والے کو بھی روزہ رکھنے والے کے برابر اجر حاصل ہوگا۔ (سنن أبو داؤد ، کتاب الصیام ، باب ما جاء فی فضل من فطر صائماً)
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲): اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی
اس لئے بحمد اللہ مسلمانوں میں دعوت ِافطار کا ایک عمومی ذوق پایا جاتا ہے اور لوگ اپنی اپنی صلاحیت اور استطاعت کے مطابق اس کا اہتمام بھی کرتے ہیں، مگر اس سلسلہ میں چند باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں:
پہلی بات یہ ہے کہ دعوت افطار اصل میں مسلمانوں کیلئے ہے؛ کیوںکہ افطار روزہ کا اختتام ہے اور روزہ مسلمان رکھتے ہیں، نیز افطار ایک عبادت ہے۔ عبادت کی بنیاد اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اللہ کے رسولؐ اتباع پر ہے، اور ظاہر ہے کہ اللہ سے صحیح تعلق اور سنت کی اتباع کا اسلام کے بغیر تصور نہیں کیا جاسکتا؛ لہٰذا دعوتِ افطار کے مدعوئین بھی اصل میں مسلمان ہونے چاہئیں، ہاں، اگر غیر مسلم بھائیوں کو بھی افطاری کھانے پر مدعو کرلیا جائے تو اس میں حرج نہیں؛ کیوںکہ غیر مسلموں کو مدعو کرنا اور ان کی مہمان نوازی نہ صرف جائز بلکہ مستحب اور لائق اجر و ثواب ہے، خاص کر اگر انہیں دعوتی مقصد کے تحت مدعو کیا جائے۔ اس موقع پر ان کے سامنے اسلام کا تعارف کرایا جائے، اسلامی تعلیمات پیش کی جائیں، روزہ کی حقیقت ان پر واضح کی جائے اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں دُور کی جائیں تو ان شاء اللہ اس میں دوہرا ثواب ہے۔ انفاق کا بھی اوردعوت دین کا بھی۔ یاد رہنا چاہئے کہ آپؐ کو ابتدائی مرحلہ میں جب اپنے خاندان کے سامنے دعوت اسلام پیش کرنے کا حکم دیا گیا تو آپؐ نے دوبار بنی ہاشم کے لئے کھانے کا اہتمام فرمایا اور کھانا کھلانے کے بعد ان کے سامنے دین کی دعوت رکھی ، پس دعوتی مقصد کے لئے کھانے پر مدعو کرنا رسول پاک ؐ کی عین سنت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تم کمالِ نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہوں
افسوس کہ آج کل اکثر افطار پارٹیاں عبادت کی روح سے خالی ہوتی جارہی ہیں ، خاص کر مسلمان اور غیر مسلم وزراء اور قائدین کی طرف سے دعوتوں کا جو اہتمام ہوتا ہے ، ان کی نوعیت بھی سیاسی ہوتی جارہی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اس دعوت میں غریب مسلمان نظر انداز نہ ہوجائیں ، شریعت کا مزاج یہ ہے کہ ایسے مواقع پر غرباء و مساکین کو فراموش نہ کیا جائے ؛ اسی لئے اسلام میں عیدالفطر کے ساتھ صدقۃ الفطر رکھا گیا ؛ تاکہ خوشی کے اس موقع پر سماج کے غریب و نادار افراد کے گھروں میں بھی خوشی کے چراغ جل سکیں۔دوسری اور سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ دعوت افطار میں بہر حال عبادت کا رنگ باقی رہنا چاہئے ، افطار سے کچھ پہلے انفرادی طور پر لوگ ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں ، درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں ، قرآن مجید کی تلاوت کریں ، یا دینی مذاکرہ ہو ، خاص کر دُعاء کریں ؛ کیوںکہ یہ دُعاء کی مقبولیت کے اوقات میں سے ہے ، دُعاء کے ساتھ افطار کیا جائے، توجہ خالق کی طرف ہو نہ کہ مخلوق کی طرف ، توجہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیرنے والا ماحول نہ بننے دیا جائے۔