• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۲): اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی

Updated: February 20, 2026, 5:13 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

تراویح کے دوران اکثر مقامات پر نوجوان عبادات میں بھی خلل پیدا کرتے ہیں۔ کوئی صفوں کو پورا نہیں کرتا ، تو کوئی امام کے رکوع میں جانے پر نیت باندھتا ہے…

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رمضان آگیا اور ہم نے روزہ رکھنا شروع کردیا مگر کتنے لوگ ہوں گے جنہوں نے سوچا ہوگا کہ یہ کتنی بڑی اور عظیم سعادت ہے کہ ہم صحت و عافیت کے ساتھ اور امن و امان کے ماحول میں اس ماہِ محترم کا استقبال کر رہے ہیں۔

قرآن کی رفعتوں سے باخبر ہر اہلِ ایمان کی دیرینہ خواہش ہوتی ہے کہ زندگی میں بار بار رمضان کریم کی مقدس ساعتیں نصیب ہوںتاکہ وہ حسب ِ استطاعت اپنا دامن نیکیوں سے بھر سکے۔اس ایمانی کیفیت کے پسِ پردہ وہ احساس بھی کارفرما ہے جو ہمہ وقت یہ یاد دلاتا ہے کہ آیا اس رمضان اور اس کی برکتوں سے یہ ہماری آخری ملاقات تو نہیں۔ اسی احساس کے پیشِ نظر ہر مسلمان ماہِ صیام کی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہونے کی کوشش کرتا ہے چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رمضان کریم کی آمد کے ساتھ ہی قومِ مسلم کے معمولاتِ زندگی یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ برائی سے دامن کش ہونے اور نیکیوں کی انجام دہی کا شوق پروان چڑھتا ہے۔ رمضان کا چاند نظر آتے ہی تلاوتِ قرآن، ذکرو اذکار اور استغفار کی کثرت کے لئے بندگانِ خدا آمادہ و تیار ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱): رمضان کے پہلے والا آخری سنڈے

عروس البلاد ممبئی میں رمضان المبارک کے چاند کا اعلان ہوتے ہی شہر کی مساجد برقی قمقموں سے جگمگانے لگیں۔ مختلف مساجد کے علاوہ شہر کے اکثر اداروں میں تراویح کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ برسوں سے جاری روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مہاراشٹر کالج کے موجودہ اور سابق طلبہ نے تین حفاظ و قاری  صاحبان کی خدمات حاصل کرتے ہوئے تراویح کا نظم کیا ہے۔ نماز تراویح کے دوران اکثر مقامات پر نوجوان عبادت میں بھی خلل پیدا کرتے ہیں۔ کوئی صفوں کو پورا نہیں کرتا ، تو کوئی امام کے رکوع میں جانے پر نیت باندھتا ہے اور کچھ لوگ تو پیچھے کی صفوں میں بیٹھ کر موبائل دیکھتے ہیں اور بار بار تلقین کے باوجود باز نہیں آتے اور اپنی روش نہیں بدلتے۔

رمضان میں ایک طرف جہاں تلاوتِ قرآن، ذکرو اذکار اور استغفار و نماز کی پابندی کی جاتی ہے۔وہیں بیرونِ ممبئی سے آنے والے سفیروں کی بھی ایک بڑی تعداد شہر میں نظر آنے لگتی ہے۔ راقم کالج سے نکل کر جمعیۃ علما مہاراشٹر کے دفتر کے قریب سے گزرا توکئی سفیروں کو جمعیۃ کےقریب کاغذات کا پلندہ ہاتھوں میں لئے ہوئے دیکھا۔ ایک ذمہ دار سے استفسار کرنے پر پتہ چلا کہ جمعیۃ جب انہیں ایک سند دے دیتی ہے تو وہ اس سند کے توسط سے شہر کی مساجد اور تاجروں سے چندہ اکٹھا کرتے ہیں تاکہ ان کے مدارس میں پڑھنے والے بچو ںکو قرآن کی مفت تعلیم اور ان کے کھانے پینے کا نظم کیا جاسکے۔ گویا یہ جمعیت کی جانب سے اعلان ہے کہ ان سفراء کو زکوٰۃ و صدقات کی رقم دی جاسکتی ہے تاکہ بندگان خدا کو الگ سے تحقیق نہ کرنی پڑے۔ 

یہ بھی پڑھئے: قرآن کے آغاز ہی میں فرمایا گیا:جس راہ ِہدایت کے تم طلبگار ہو وہ یہی کتاب ہے

شہر کے بازاروں میں رمضان کی رونقیں ہر سال کی طرح ہیں۔ کپڑوں اور جوتوں کے علاوہ کھانے پینے کے اسٹال بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ ناگپاڑہ مدنپورہ ، ڈنکن روڈ ، جےجے، نل بازار ، بھنڈی بازار ، محمد علی روڈ ، مینارہ مسجد اور کرافورڈ مارکیٹ میں عام دنوں کے مقابلہ رمضان میں ایک نئی آب و تاب کے ساتھ سج چکے ہیں۔ کھانے والوں اور خریداروں کی بھیڑ اُمڈ آئی ہے۔ خصوصی طور پر محمد علی روڈ، مینارہ مسجد ، بھنڈی بازار اور اس کے اطراف سڑک پر ٹھیلہ گاڑیوں ، فٹ پاتھوں پر پتھارے لگانے والے چھوٹے تاجر بی ایم سی کی اور پولیس کی سختی سے پریشان بھی نظر آئے۔ اس بھیڑ میں ایک بزرگ چاچا نظیر احمد ملے جو چپلوں کو ایک چادر میں لپیٹ کر پولیس وین کے جانے کا انتظار کررہے تھے۔ پولیس کی سختی اور ماہ رمضان میں پیش آنے والی دقتوںپر راقم کے سوال پر چاچا نے کہا کہ ’’اللہ سب کا نگہبان ہے بھائی ! اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی،یہ زندگی کا حصہ ہے۔‘‘ بی ایم سی اور پولیس کو ہفتہ دینے کے باوجود کارروائی کئے جانے کی وجہ پوچھنے پر بزرگ نے کہا کہ’’جب حرام منہ کو لگ جاتاہے تو وہ اور زیادہ کی امید کرنے لگتا ہے اور جب تک ان کو مزید نہ دے دیا جائے وہ آپ کو پریشان کرتے رہیں گے۔ ٹھیک ہے یہ وقت بھی گزر جائے گا، ایک وقت کا کھانا کم کھالیں گے لیکن اپنے اور بچوں کے لئے یہ زحمت اور فضیحت تو برداشت کرنا ہی پڑے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ماہِ رمضان المبارک: گناہوں کو بخشوانے کا زرین موقع ہے

چاچا نظیر احمد دعا کے انداز میں ہاتھ اٹھا کریہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے:

دست تیرا قلم بھی تیرا ہے۔۔۔ معرفت کی دوات بھی تیری 

وہ جو لکھی گئی صحیفوں میں۔۔۔ وہ ازل سے حیات بھی تیری

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK