Inquilab Logo Happiest Places to Work

انسان کی زندگی میں قدرتی مناظر محض دلکشی کا سامان نہیں

Updated: June 12, 2026, 5:30 PM IST | Shahenaaz Begum | Mumbai

یہ روح کی تہوں تک اُتر جانے والی وہ لطیف تاثیر رکھتے ہیں جو کسی اور ذریعے سے میسر نہیں آتی۔

Proximity to nature creates an aesthetic sense within man and gives new dimensions to thinking. Photo: INN
فطرت کا قرب انسان کے اندر جمالیاتی حس پیدا کرتا ہے اور سوچ کو نئی جہتیں عطا کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان اور فطرت کا تعلق ازل سے ہے۔ انسان فطرت کا حصہ ہے۔ قدرتی مناظر انسان کے اندر سکون، توازن، ایمان، شکرگزاری، صحت مندی اور روحانی بیداری پیدا کرتے ہیں۔ جدید دور کی مصروفیات، مشینی زندگی، اسکرین ٹائم اور ذہنی دباؤ نے انسان کو فطرت سے دور کر دیا ہے۔ حالانکہ قدرتی ماحول کے ساتھ وقت گزارنا انسان کی جسمانی، ذہنی، روحانی، علمی اور اخلاقی نشوونما کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوری کے نتیجے میں جسمانی، ذہنی، روحانی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔
قدرتی مناظر انسان کی زندگی میں محض دلکشی کا سامان نہیں، بلکہ روح کی تہوں تک اُتر جانے والی وہ لطیف تاثیر رکھتے ہیں جو کسی اور ذریعے سے میسر نہیں آتی۔ پہاڑوں کی بلندیاں، دریاؤں کی روانی، جنگلوں کی خنک فضا اور صحرا کی خاموش وسعتیں انسان کو اس کے اصل سے جوڑتی ہیں۔ یہی مناظر زندگی کے بے ہنگم شور میں ایک ایسا ٹھہراؤ پیدا کرتے ہیں جو ذہنی صحت اور فکری مرکزیت کے لئے ناگزیر ہے۔ فطرت کا قرب انسان کے اندر جمالیاتی حس پیدا کرتا ہے اور سوچ کو نئی جہتیں عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مہذب معاشرہ قدرتی فضا کے تحفظ کو اپنی تہذیبی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
قدرتی مناظر کا دوسرا پہلو معاشی و ماحولیاتی حیثیت سے انتہائی اہم ہے۔ دنیا بھر میں بڑے بڑے ملک اپنے قدرتی سرمایہ—جنگلات، دریاؤں، چراگاہوں، ساحلی پٹیوں اور حیاتیاتی تنوع —کو ترقی کا بنیادی ستون قرار دیتے ہیں۔ یہی قدرتی وسائل موسموں کے توازن، صاف پانی کی فراہمی، زرخیز مٹی، آکسیجن، بارش اور نکاسی آب کے نظام کو برقرار رکھتے ہیں۔ اگر فطرت کی یہ نعمتیں ضائع ہوں تو شہروں کی چمک دمک بھی بے معنی اور ساری تکنیک بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔ اس لیے فطرت کی حفاظت دراصل انسان کی اپنی زندگی، صحت اور آنے والی نسلوں کی بقا کی ضمانت ہے۔
آج کے دور میں جب انسان بے تحاشا شہری توسیع، صنعتی آلودگی اور بے رحمانہ درخت بُرادری کے باعث فطرت سے دور ہوتا جا رہا ہے، تو قدرتی مناظر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ جو قومیں فطرت کو اپنے شہروں، تعلیمی اداروں، رہائشی منصوبوں اور عوامی مقامات کا لازمی حصہ بناتی ہیں، وہ زیادہ خوش، صحت مند اور پُرسکون زندگی گزارتی ہیں۔ مختلف سائنسی تحقیقات، مذہبی تعلیمات اور فکری مطالعے اس بات پر متفق ہیں کہ قدرتی مناظر کے ساتھ وقت گزارنا انسان کی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اسلام نے بھی باربار انسان کو فطرت، پہاڑوں، درختوں، آسمان، زمین، بادلوں، بارش، جانوروں اور قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کا حکم دیا ہے۔
قرآنی آیات میں فطرت کی اہمیت
قرآنِ مجید میں بارہا انسان کو زمین و آسمان، پہاڑوں، درختوں، دریاؤں اور دیگر قدرتی مظاہر میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ قرآن میں تقریباً ۷۵۰؍ آیات قدرت، فطرت، کائنات اور مظاہرِ فطرت کے ذکر پر مشتمل ہیں۔ جن میں سےچند درج ذیل ہیں:
’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقلِ سلیم والوں کے لیے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ ‘‘
 (آلِ عمران:۱۹۰)
’’وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جس سے تم پیتے ہو اور اسی سے درخت اگتے ہیں جن میں تم اپنے جانور چراتے ہو۔ ‘‘ (النحل:۱۰)
’’خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے لوگوں کے اعمال کے سبب سے، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔ ‘‘ (الروم:۴۱)
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ فطرت میں غور و فکر انسان کو خالق کی معرفت، شکرگزاری اور توازن کی طرف لے جاتا ہے۔
’’اور اسی نے پہاڑوں کو مضبوط گاڑ دیا۔‘‘ 
(النازعات:۳۲)
’’فرما دیجئے: تم زمین میں (کائناتی زندگی کے مطالعہ کے لئے) چلو پھرو، پھر دیکھو (یعنی غور و تحقیق کرو) کہ اس نے مخلوق کی (زندگی کی) ابتداء کیسے فرمائی پھر وہ دوسری زندگی کو کس طرح اٹھا کر نشو و نما دیتا ہے۔‘‘ (العنکبوت:۲۰) 
زمین کی سیر انسان میں فکر، علم، تجربہ اور شعور پیدا کرتی ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں فطرت کی اہمیت
رسولؐ اللہ  نے فرمایا:’’ زمین تمہارے لئے مسجد اور پاکیزہ بنائی گئی ہے۔ (صحیح بخاری) اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین اور فطرت انسان کیلئے عبادت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
’’اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، تو اگر وہ اسے لگا سکتا ہے تو ضرور لگا دے۔‘‘(مسند احمد)
یہ حدیث فطرت سے محبت، درخت لگانے اور ماحول کی حفاظت کی ترغیب دیتی ہے۔
آپؐ  نے فرمایا: ’’ایک ساعت کا تفکر ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)
قدرتی مناظر میں تفکر اس حدیث کا بہترین عملی راستہ ہے۔ نبی ﷺ نے غارِ حرا میں تنہائی اختیار کی۔ یہ خود فطرت میں عبادت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ صفائی، حفاظت اور درخت لگانا سنت ہے۔ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ’’جو مسلمان درخت لگاتا ہے، اس کا پھل صدقہ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK