Inquilab Logo Happiest Places to Work

احساسِ ذمہ داری نے عدلِ فاروقیؓ کو تاریخ کا لازوال باب بنا دیا

Updated: June 12, 2026, 5:16 PM IST | Mufti Mohammad Raza Qadri Rafai Markazi | Mumbai

دنیا کی تاریخ میں حکمرانوں کی کمی نہیں۔ تاج و تخت کے مالک بھی بے شمار گزرے، وسیع سلطنتوں کے فرمانروا بھی آئے اور چلے گئے، لیکن چند شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ صرف اقتدار نہیں بلکہ انصاف، رحم، دیانت اور انسانیت کا تصور بھی وابستہ ہو گیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دنیا کی تاریخ میں حکمرانوں کی کمی نہیں۔ تاج و تخت کے مالک بھی بے شمار گزرے، وسیع سلطنتوں کے فرمانروا بھی آئے اور چلے گئے، لیکن چند شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ صرف اقتدار نہیں بلکہ انصاف، رحم، دیانت اور انسانیت کا تصور بھی وابستہ ہو گیا۔ ان عظیم ہستیوں میں امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام نمایاں ترین ہے۔

آج جب دنیا انسانی حقوق کے دعوؤں سے گونج رہی ہے، اقوامِ متحدہ انصاف کے منشور جاری کر رہی ہے، اور عالمی طاقتیں عدل و مساوات کے نعرے بلند کر رہی ہیں، ایسے میں اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو چودہ سو سال پہلے مدینہ کی گلیوں میں ایک ایسا حکمران نظر آتا ہے جس نے انصاف کو محض قانون کی کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی روح بنا دیا تھا۔حضرت عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جب حکمران خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھتا ہو تو رعایا سکون، امن اور عزت کی زندگی گزارتی ہے۔ آپ کے نزدیک حکومت اقتدار کا نام نہیں تھی بلکہ ایک امانت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: ’’اگر دریائے فرات کے کنارے ایک جانور بھی بھوک یا پیاس سے مر جائے تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیا ہجری سال، محاسبۂ نفس کا موقع

سوچئے! آج کے حکمران اپنے ملک کے کروڑوں انسانوں کی محرومیوں پر بھی بے حس نظر آتے ہیں، جبکہ حضرت عمر ایک جانور کے حق کے بارے میں بھی خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ یہی وہ احساسِ ذمہ داری تھا جس نے عدلِ فاروقی کو تاریخ کا لازوال باب بنا دیا۔

حضرت عمرؓ کے دور میں قانون امیر و غریب کے لئے یکساں تھا۔ نہ کسی وزیر کو استثنا حاصل تھا اور نہ کسی گورنر کو رعایت۔ جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک عام شخص کو ناحق مارا تو حضرت عمر نے اسے مدینہ بلوایا اور مظلوم کو حق دیا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے۔ پھر وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: ’’تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟‘‘یہ صرف ایک فیصلہ نہیں تھا بلکہ انسانی آزادی کا وہ اعلان تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔

افسوس کہ آج ہمارے معاشروں میں عدل کا معیار بدل چکا ہے۔ قانون طاقتور کے لئے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔ سفارش انصاف پر غالب آ جاتی ہے، دولت حق کو خرید لیتی ہے اور عہدے سچائی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عدلِ عمر ایک آئینہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے اور ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا ہم واقعی انصاف پسند قوم ہیں؟

یہ بھی پڑھئے: طبقۂ نوجواں تعمیرِ ملت کی اہم ذمہ داری سے آگاہ ہے؟

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل صرف انسانوں تک محدود نہ تھا بلکہ غیر مسلم رعایا بھی اس سے مستفید ہوتی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے بوڑھے، معذور اور ضرورت مند غیر مسلموں کے لیے بھی بیت المال سے وظائف مقرر کیے۔ اس لیے کہ اسلام کا عدل مذہب، نسل اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔آج دنیا میں ظلم کے خلاف کانفرنسیں ہوتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، قراردادیں پاس کی جاتی ہیں، لیکن ظلم ختم نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عدل کو نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے عدل کو کردار بنایا، زندگی بنایا اور حکمرانی کا محور بنایا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے۔ انہیں یہ فکر ستاتی تھی کہ کہیں کوئی بھوکا نہ سو جائے، کہیں کسی مظلوم کی فریاد ان تک پہنچنے سے پہلے خاموش نہ ہو جائے، کہیں کوئی یتیم محروم نہ رہ جائے۔ آج اگر حکمران، علماء، تاجر، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اس احساس کو اپنا لیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔

عدلِ عمر دراصل صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں بتاتا ہے کہ قومیں محض ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتیں بلکہ انصاف سے بنتی ہیں۔ عمارتیں، سڑکیں اور پل کسی ملک کو عظیم نہیں بناتے، بلکہ عدل، دیانت اور جواب دہی اسے عظمت عطا کرتے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کو محض جلسوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے انفرادی اور اجتماعی کردار میں اسے نافذ کریں۔ جب گھروں میں انصاف ہوگا، بازاروں میں انصاف ہوگا، عدالتوں میں انصاف ہوگا اور حکمرانی میں انصاف ہوگا تو پھر وہی معاشرہ وجود میں آئے گا جو کبھی عدلِ عمرکے سائے میں پروان چڑھا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: آزمائش زوال نہیں، عروج کا راستہ ہے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ انصاف صرف قاضی یا جج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ باپ اپنی اولاد میں، استاد اپنے طلبہ میں، تاجر اپنے گاہکوں میں اور عالم اپنے ماننے والوں میں انصاف کرے، تبھی معاشرہ عدل کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

نوجوان اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ عظمت دولت، شہرت یا طاقت میں نہیں بلکہ کردار، انصاف اور حق گوئی میں ہے۔ حضرت عمر جوانی میں بھی بے خوف تھے اور خلافت کے منصب پر بھی حق کے سامنے سر جھکانے والے تھے۔

یاد رکھیں! قوموں کی عمریں ان کے محلات سے نہیں، ان کے انصاف سے ناپی جاتی ہیں۔ جب عدل زندہ رہتا ہے تو ریاستیں قائم رہتی ہیں، اور جب عدل مر جاتا ہے تو سلطنتیں مٹ جاتی ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی زندگی اسی ابدی حقیقت کا روشن ترین ثبوت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK