Inquilab Logo Happiest Places to Work

حضرت عمرؓ کو قدرت نے بے پناہ اوصاف سے نوازا تھا

Updated: June 12, 2026, 5:16 PM IST | Shibli Nomani | Mumbai

آپؓ ایمان، علم، فکر، گفتگو اور اخلاق کے پہاڑ تھے ، ذیل میں آپؓ کے ایسے ہی چند اوصاف کو بیان کیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

عرب میں روحانی تربیت کا آغاز  اگرچہ اسلام سے ہوا لیکن اسلام سے پہلے بھی اہل عرب میں بہت سے ایسے اوصاف پائے جاتےتھے جو تمغائے  شرافت تھے اور جن پر ہر قوم ، ہر زمانہ میں ناز کرسکتی ہے۔ یہ اوصاف اگرچہ کم و بیش تمام قوموں میں پائے جاتے ہیں لیکن بعض بعض اشخاص زیادہ ممتاز ہوتے تھے اور یہی لوگ، قوم سے ریاست و حکومت کا منصب حاصل کرتے تھے۔ ان اوصاف میں فصاحت و بلاغت، قوت ِ تقریر، شاعری، سپہ گیری، بہادری، آزادی وغیرہ مقدم چیزیں تھیں اور ریاست و افسری میں انہی اوصاف کا لحاظ کیا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ کو قدرت نے ان سب میں سے کافی حصہ دیا تھا۔

تقریر کا ملکہ خداداد تھا اور عکاظؔ کے معرکوں نے اس کو اور زیادہ جلا دے دی تھی۔ یہی قابلیت  تھی جس کی وجہ سے قریش نے اُن کو سفارت کا منصب دیا تھا جو اُن لوگوں کے لئے مخصوص تھا جو سب سے زیادہ زبان آور ہوتے تھے، اُن کے معمولی جملوں میں بے پناہ  اثر اور برمحل فقرے جو اُن کے منہ سے نکل جاتے تھے، ان میں بلاغت کی روح پائی جاتی تھی۔   وبا کے واقعہ میں ابوعبیدہؓ نے جب ان پر اعتراض کیا کہ آپ قضائے الٰہی سے بھاگتے ہیں، تو کس قدر بلیغ لفظوں میں جواب دیا کہ ’’ہاں، قضائے الٰہی سے قضائے الٰہی کی طرف بھاگتا ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آزمائش زوال نہیں، عروج کا راستہ ہے

مختلف مواقع میں جو خطبے آپؓ نے دیئے وہ آج بھی موجود ہیں۔ ان سے آپؓ کے زور تقریر ، برجستگی ٔ کلام کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ مسند ِ خلافت پر بیٹھنے کے ساتھ جو خطبہ دیا ، اس کے ابتدائی فقرے یہ تھے:’’اے خدا! میں سخت ہوں مجھ کو نرم کر، میں کمزور ہوں مجھ کو قوت دے  (قوم سے خطاب کرکے) ہان عرب والے سرکش اونٹ ہیں جن کی مہار میرے ہاتھ میں دی گئی ہے لیکن میں اُن کو راستہ پر چلا کر چھوڑوں گا۔‘‘

خلافت کے تیسرے دن جب آپؓ نے عراق پر لشکرکشی کرنے کے لئے لوگوں کو جمع کیا تو لوگ ایران کے نام سے بدکتے تھے ۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ کے زورِ تقریر کا اثر تھا کہ مثنی شیبانی ایک مشہور بہادر بے اختیار کھڑا ہوا اور پھر تمام مجمع میں آگ سی لگ گئی ۔ 

جن مجمعوں میں غیرقومیں بھی شریک ہوتی تھیں ان میں اُن کے خطبے کا ترجمہ بھی ساتھ ساتھ  ہوتا جاتا تھا چنانچہ دمشق میں بمقام جابیہ جو خطبہ دیا، مترجم ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ کرتا جاتا تھا۔ اگرچہ اکثر برمحل اور برجستہ خطبہ دیتے تھے لیکن معرکے کے جو خطبے ہوتے تھے اِن میں تیار ہوکر جاتےتھے۔ سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعہ میں  خود اُن کا بیان ہے کہ میں خوب تیار ہوکر گیا تھا۔

یہ بات لحاظ کے قابل ہے کہ حضرت عمرؓ سے پہلے جن مضامین پر لوگ خطبہ دیتے تھے وہ پند و موعظت، فخر و ادعا، قدرتی واقعات کا بیان، رنج و خوشی کا اظہار ہوتا تھا ، ملکی پرپیچ معاملات خطبے میں نہیں ادا ہوسکتے تھے۔ حضرت عمرؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے پولیٹیکل خطبے دیئے۔ اس کے ساتھ وہ خطبوں میں اس طریقے سے گفتگو کرسکتے تھے کہ ظاہر میں معمولی باتیں ہوتی تھیں لیکن اس سے  بہت سے پہلو نکلتے تھے۔

خطبہ کے لئے ملکۂ تقریر کے علاوہ اور عارضی باتیں جو درکار ہیں، حضرت عمرؓ میں سب موجود تھیں۔ آواز بلند اور پررعب تھی، قد اتنا بلند تھا کہ زمین پر کھڑے ہوتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ منبر پر کھڑے ہیں۔ آپؓ کے خطبوں کا خاتمہ ہمیشہ اس دعا پر ہوتا تھا:

(ترجمہ)’’اے اللہ! مجھے میری غفلت میں نہ چھوڑ، مجھے میری بے خبری میں نہ پکڑ، اور مجھے غافل لوگوں میں سے نہ بنا۔‘‘ 

قوت تقریر کے ساتھ تحریر میں بھی آپؓ کو کمال تھا۔ آپؓ کے فرامین ، خطوط ، دستورالعمل، توقیعات ہر قسم کی  تحریریں آج بھی موجود ہیں اور جو  تحریر جس مضمون پر ہے اس باب میں بے نظیر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طبقۂ نوجواں تعمیرِ ملت کی اہم ذمہ داری سے آگاہ ہے؟

شعر و شاعری کی نسبت اگرچہ آپؓ  کی شہرت عام طور پر پر کم ہے ، اس میں شبہ نہیں کہ شعر بہت کم کہتے تھے لیکن شعر و شاعری کا مذاق ایسا عمدہ رکھتے تھے کہ ان کی تاریخ زندگی میں یہ واقعہ متروک نہیں ہوسکتا۔ عرب کے اکثر مشہور شعراء کا کلام کثرت سے یاد تھا اور تمام شعراء کے کلام پر آپؓ کی خاص خاص رائیں تھیں۔ اہلِ ادب کو عموماً تسلیم ہے کہ آپؓ کے زمانے میں آپ سے بڑھ کر کوئی شخص شعر پڑھنے والا نہ تھا۔ علامہ ابن رشیق القیروانی کتاب العمدۃ میں لکھتے ہیں: ’’حضرت عمرؓ اپنے زمانے میں سب سے بڑھ کر شعر کے نقاد اور اداشناس تھے۔‘‘

جاحظ نے کتاب البیان والتبین میں لکھا ہے کہ ’’عمر بن الخطابؓ اپنے زمانہ میں سب سے بڑھ کر شعر کے شناسا تھے۔‘‘

حضرت عمرؓ کو اگرچہ  تمام شعراء کے کلام پر عبور تھا لیکن تین شاعروں کو انہوں نے سب میں انتخاب کیا: امراء القیس، زہیر اور نابغۃ۔ ان سب میں وہ زہیر کا کلام سب سے زیادہ پسند کرتے اور اس کو اشعرالشعراء کہا کرتے تھے۔

علم الانساب یعنی قبائل کا نام و نسب یاد رکھنا حضرت عمرؓ کا خانہ زاد علم تھا، یعنی کئی پشتوں سے چلا آتا تھا۔ ان کے والد خطاب مشہور نساب تھے۔ حضرت عمرؓ اس فن کی معلومات کے متعلق اکثر ان کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ خطاب کے باپ نفیل بھی اس فن میں شہرت رکھتے تھے۔

لکھنا پڑھنا بھی اسلام سے پہلے سیکھ لیا تھا۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ پہنچ کر انہوں نے عبرانی بھی سیکھ لی تھی ۔ روایات سے ثابت ہے کہ اس وقت تک توریت کا ترجمہ عربی زبان میں نہیں ہوا تھا۔ آپؐ کے زمانے میں جب توریت کا کچھ کام پڑتا تھا تو عبرانی نسخہ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ایام تشریق کی قضا نماز، گوشت کی تقسیم کا مسئلہ، قربانی میں شرکت

رائے نہایت صائب ہوتی تھی۔ عبداللہ بن عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ ’’جب عمرؓ کسی معاملہ میں یہ کہتے تھے کہ میرا اس کی نسبت یہ خیال ہے، تو ہمیشہ وہی پیش آتا تھا جو ان کا گمان ہوتا تھا۔ ‘‘ اس سے زیادہ اصابت رائے کی کیا دلیل ہوگی کہ آپؓ کی بہت سی رائیں مذہبی احکام بن گئیں اور آج تک قائم ہیں۔

آپؓ ہر کام میں غور اور فکر کو عمل میں لاتے  تھے اور ظاہری باتوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ آپؓ کا قول تھا کہ ’’کسی کی شہرت کا آوازہ سن کر دھوکے میں نہ آؤ۔‘‘ 

اکثر کہا کرتے تھے’’آدمی کی نماز روزہ پر نہ جاؤ بلکہ اس کی سچائی اور عقل کو دیکھو۔‘‘

حضرت عمرؓ ہر سال حج کرتے تھے اور خود میر قافلہ ہوتےتھے۔قیامت کے مواخذہ سے بہت ڈرتے تھے اور ہر وقت اس کا خیال رہتا تھا۔   اہل علم و فضل سے محبت کرتے تھے اور اس میں وہ نوعمر یا معمر کی تمیز نہیں کرتے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK