Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیا ہجری سال، محاسبۂ نفس کا موقع

Updated: June 12, 2026, 4:55 PM IST | Mohammed Munir Qamar | Mumbai

ہمیں اپنے نفس کا حساب کرنا چاہئے کہ اس نے کیا نیکیاں کمائیں اور برائیوں میں پڑ کر کیا گنوایا ، اپناروحانی بجٹ بھی تیار کرنا چاہئے۔

Symbolic image: INN
علامتی تصویر: آئی این این

نئے اسلامی سال کا آغاز ہو تو عرب وعجم میں جہاں کہیں بھی مسلمان آباد ہوں، انہیں حقیقی معنوں میں ہجری سال ِ نو کے آغاز پر خوشی ہوتی ہے کیونکہ تاریخ ِ اسلام کا تمام تر سرمایہ انہی قمری مہینوں اور ہجری تا ریخ سے وابستہ ہے۔افسوس کہ اب ہماری نئی نسل کو اسلامی مہینوں کے نام تک یاد نہیں۔ ارکان ِ اسلام،حج و روزے کا حساب اسی اسلامی کیلنڈر سے کیا جاتا ہے۔ عید وقربانی جیسے شعائرِاسلام کا تعلق بھی اسی اِسلامی تقویم کے ساتھ ہے مگر یہ ایک امرواقع ہے کہ آج کا مسلمان اپنے ماضی کی شاندار روایات کو نظر انداز کرتا بلکہ بھولتا جارہا ہے اور اپنے نمایاں اسلامی تشخص کو قائم رکھنے میں ناکام ہورہا ہے۔ چونکہ آج ہمارے سرکاری و غیر سرکاری دفاتر اور نجی و پبلک اداروں میں انگلش کیلنڈر کا استعمال عام ہے اس لئے لوگ اپنی اصلی تاریخ سے نا آشنا ہو رہے ہیں۔

 آپ کبھی سروے کرکے دیکھیں تو شاید ۱۰؍ فیصد مسلمان بھی ایسے نہ ملیں جنہیںروز ِ رواں کی ہجری تاریخ کا پتہ تو درکنار ،ہجری سال کے ۱۲؍ مہینوں کے نام ہی آتے ہوں یعنی یاد ہوں۔  یہ کتنا بڑا المیہ ہے اور اس سے بڑھ کر ہمارے اجتماعی کردار کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عیسوی کیلنڈر کے پہلے مہینے کا آغاز ہو تو ہم ’’ہیپی نیو ائیر‘‘ کہتے ہوئے ایک دوسرے کو ملتے ہیںمگر جب اسلامی سال شروع ہوتا ہے تو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ نیا ہجری سال شروع ہوا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس دن کی سرکاری چھٹی اور تاریخ کے ایک المناک سانحہ و حادثہ شہادت ِ حضرت حسین ؓ کی وجہ سے صرف اتنا معلوم ہو جا تا ہے کہ محرم شروع ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طبقۂ نوجواں تعمیرِ ملت کی اہم ذمہ داری سے آگاہ ہے؟

 اسلامی سال ِ نو کا آغاز بڑے ہی مہذب و مقدس انداز سے ہونا چاہئے کیونکہ اسلامی سال کا یہ پہلا مہینہ بڑی فضیلت و عظمت والا ہے چنانچہ نبی اکرم نے ماہ ِ محرم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہوئے اسے ’’شہراللہ ‘‘یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اسے حرمت والا مہینہ کہا ہے ،جیسا کہ سورہ التوبہ میں ارشاد ِ ربانی ہے :

 ’’جس دن سے اللہ تعالیٰ نے یہ زمین و آسمان بنائے ہیں ،تبھی سے اللہ کی کتاب میں مہینوں کی کُل تعداد ۱۲؍ہے ، اور ان میں سے۴؍ مہینے حرمت والے ہیں۔‘‘

نبی کریم کی تعیین کے مطابق اسلامی سال کا یہ پہلا مہینہ محرم انہی۴؍ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جبکہ دوسرے ۳؍ مہینے رجب ،ذی القعدہ اور ذ ی الحجہ ہیں۔

اسلامی سال ِ نو کے آغاز پر ذکر ِ الٰہی کی کثرت کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی ہمت و فکر کے مطابق اپنے سال ِ ماضی کا بھر پور جائزہ لے کہ اس نے ارکان ِ اسلام اور اللہ و رسول کے احکام میں کہاں کہاں کوتاہی کی ہے؟ اور کن کن نیک کاموں میں حصہ لیا ہے۔ اس طرح اپنے ماضی کے آئینہ میں جھانک کر مستقبل کیلئے بہترین پروگرام مرتب کرے اور تجدید ِعہد کرے کہ آج سے ہی سابقہ تمام کوتاہیوں کا یکے بعد دیگرے ازالہ کرتا جاؤں گا اور اعمالِ خیر میں بیش از پیش حصہ لوں گا۔

یہ بھی پڑھئے: آزمائش زوال نہیں، عروج کا راستہ ہے

ماہ ِ محرم کے ساتھ ہی ہم چونکہ اپنی عمر ِ عزیز کے نئے سال کاآغاز کرتے ہیں لہٰذا ہمیں اس کا پُر جوش اور بھر پور استقبال کرنا چاہئے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سال ِ نو کا افتتاح روزہ رکھ کر کیا جائے جو شکران ِ نعمت بھی ہوگا اور مسنون طریقہ بھی یہی ہے۔ اور خاص طور پر ماہ ِ محرم کے روزوں کے بارے میں صحیح مسلم اور سنن ِ اربعہ میں ہے کہ نبی سے پوچھا گیا : ’’رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل روزے کون سے ہیں ؟‘‘ تو آپؐ نے فرمایا:  ’’اللہ کے اس مہینے کے روز ے جسے تم محرم کہتے ہو۔‘‘

اگر زیادہ نہ ہوسکیں تو کم از کم ایام ِ محرم کے سرتاج دن ’’یومِ عاشوراء‘‘ کاروزہ تو ضرورہی رکھنا چاہئے کیونکہ اس کی فضیلت کے بارے میں صحیح مسلم،ترمذی ، ابن ِ ماجہ اور مسند احمد میں ارشاد ِ نبوی ہے : ’’میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ یوم ِ عاشوراء کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔‘‘

بخاری و مسلم،ابو داؤد و نسائی اور ابن ِ ماجہ میں ہے کہ نبی کریم نے یہودیوں کو یومِ عاشوراء کا روزہ رکھتے دیکھا تو پوچھا: ’’تم لوگ جس دن کا روزہ رکھتے ہو یہ کیا ہے؟‘‘

تو انہوں نے بتایا کہ یہی وہ مباک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو ان کے دشمن (فرعون اور اس کے لشکر) سے نجات دلائی تھی۔ اس پر بطورِ شکرانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا لہٰذا ہم بھی روزہ رکھتے ہیں تو نبی اکرمؐ نے فرمایا:’’(حضرت) موسیٰ ؑ پر (بحیثیت نبی) میرا حق تم سے زیادہ ہے۔ ‘‘  پھر آپؐ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ لیکن یہودیوں کے روزہ کی مشابہت دور کرنے کے لئے یومِ عاشوراء سے ایک دن پہلے ایک روزہ رکھنا مسنون ہے کیونکہ صحیح مسلم، ابو داؤد اور مسند احمد میں ارشادِ نبویؐ ہے: ’’اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو ۹؍محرم کا روزہ بھی ضرور رکھوں گا۔‘‘

 اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ارشاد ِ گرامی ہے:  ’’مگر اگلا سال آنے سے پہلے ہی آپؐ دنیا سے پردہ فرما گئے۔ ‘‘ ماہِ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ آپؐ کے عمل اور قول سے ثابت ہے، اور تشبہ سے بچنے کیلئے ۹؍ تاریخ کے روزے کا قصد بھی ثابت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK