Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ہم اپنے مرحومین کے وفادار ہیں؟

Updated: June 12, 2026, 5:25 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

یہ دنیا فانی ہے اور یہاں سے ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن رخصت ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کا یہ نظام اپنی حکمت کے تحت قائم فرمایا ہے اور کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں۔

Along with praying for the departed souls, we should also think about their families. Photo: INN
مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کیساتھ ان کے اہل و عیال کی بھی فکر کرنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

یہ دنیا فانی ہے اور یہاں سے ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن رخصت ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کا یہ نظام اپنی حکمت کے تحت قائم فرمایا ہے اور کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اس تناظر میں جب کوئی عمر دراز، باوقار اور صاحبِ اولاد شخصیت دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو اس کے پیچھے عموماً دو طرح کے لوگ رہ جاتے ہیں؛ ایک اس کے دوست و احباب، عزیز و اقارب اور تعلق دار، اور دوسرے اس کی اولاد۔ اسلام نے ان دونوں طبقات کے حوالے سے نہایت متوازن اور جامع ہدایات دی ہیں۔ ایک طرف اولاد کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے والدین کے دوستوں، رشتہ داروں اور خیر خواہوں کے ساتھ عزت و احترام، محبت اور حسنِ سلوک کا معاملہ جاری رکھے، کیونکہ یہ والدین کے ساتھ وفاداری کی ایک شکل ہے۔ دوسری طرف والدین کے دوستوں اور عزیزوں کو بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ مرحوم کی اولاد کے ساتھ شفقت، خیر خواہی، سرپرستی اور محبت کا برتاؤ کریں۔ یوں اسلام ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جس میں موت کے بعد بھی تعلقات کا رشتہ باقی رہے اور وفاداری و محبت کے چراغ بجھنے نہ پائیں۔

یہ بھی پڑھئے: احساسِ ذمہ داری نے عدلِ فاروقیؓ کو تاریخ کا لازوال باب بنا دیا

افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں اس کے برعکس ایک نامناسب رجحان فروغ پا رہا ہے۔ والدین کے انتقال کے بعد بہت سی اولادیں اپنی تعلیم، ملازمت، کاروبار اور ذاتی مصروفیات میں اس قدر گم ہو جاتی ہیں کہ انہیں اپنے والدین کے دوستوں، رشتہ داروں اور دیرینہ تعلق داروں کی کوئی خبر نہیں رہتی۔ ابتدا میں رابطے کم ہوتے ہیں، پھر ملاقاتیں ختم ہو جاتی ہیں اور بالآخر تعلقات کا وہ مضبوط رشتہ بھی ٹوٹ جاتا ہے جو کبھی والدین کی زندگی میں محبت اور اعتماد کی بنیاد پر قائم تھا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اخلاقی اعتبار سے نامناسب ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ ایک نیک اور صالح اولاد کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کے بعد ان کے تعلقات کی حفاظت کرے، ان کے دوستوں کی عزت کرے اور ان کے احسانات کو فراموش نہ کرے۔ جو لوگ والدین کے جیتے جی ان کے قریب تھے، ان سے بے رخی اختیار کرنا درحقیقت والدین کی یادوں سے بے وفائی کے مترادف ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور مرحومین کے ساتھ وفاداری کا صحیح مفہوم سمجھیں۔  اولاد کو چاہئے کہ وہ اپنے والدین کے دوستوں، عزیزوں اور خیر خواہوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھے، ان کی عزت کرے اور ان کی دعائیں حاصل کرے۔ اسی طرح مرحومین کے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی چاہئے کہ وہ ان کی اولاد کے لئے محبت، شفقت اور خیر خواہی کا جذبہ برقرار رکھیں۔ درحقیقت یہی وہ اسلامی مزاج ہے جو معاشرے میں محبت، وفاداری، اخوت اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ اگر ہم اس تعلیم کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو مرحومین کی یادیں بھی زندہ رہیں گی، تعلقات کی خوشبو بھی باقی رہے گی اور ہماری آنے والی نسلیں بھی وفاداری، احسان شناسی اور اسلامی اخلاق کے ان روشن اصولوں سے آشنا ہوں گی جو ایک صالح اور مثالی معاشرے کی بنیاد ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیا ہجری سال، محاسبۂ نفس کا موقع

والدہ کے انتقال کے بعد ان کے لئے نیکی کا راستہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص  نبی کریمؐ  کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’یا رسولؐ اللہ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، اب میں ان کے ساتھ نیکی کا کون سا راستہ اختیار کروں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی خالہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، کیونکہ خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے۔ ‘‘(الادب المفرد للبخاری) ایک اور حدیث میں آپ ؐ نے فرمایا کہ والدین کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کی عزت کرنا، ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور ان سے حسنِ سلوک کا معاملہ جاری رکھنا والدین کے ساتھ نیکی کا حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK