Inquilab Logo Happiest Places to Work

اطاعتِ رسولؐ بھی ضروری اور اہلِ بیت، ازواج مطہراتؓ اور صحابہؓ سے محبت بھی

Updated: June 26, 2026, 3:38 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس شخص نے بھی بحالت ایمان رسولؐ اللہ کا دیدار کیا اور ایمان ہی پر اس کی موت ہوئی، وہ صحابی ہے، اور ہر صحابی عادل اور عنداللہ مغفور ہے۔

His prophethood was not for any one group, region, race or family, but for the entire world of humanity. Photo: INN
آپ ؐ کی نبوت کسی ایک گروہ، علاقہ، نسل اور خاندان کے لئے نہیں پوری دنیائے انسانیت کے لئے تھی۔ تصویر: آئی این این

اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے کا حکم دیا ہے اور گناہ کے کاموں میں مددگاربننے سے منع فرمایا ہے۔ (مائدہ:۲) نیکی کے کام میں تعاون کی صورتوں میں ایک نہایت ہی اہم صورت یہ ہے کہ داعیان حق کا ساتھ دیاجائے؛ کیوں کہ اگر خیروبھلائی کی دعوت میں بہت سے لوگ شریک ہو جائیں تو اس کا نتیجہ خیز اور ثمر آور ہونا آسان ہو جاتا ہے اور دعوت کا کام ایک انفرادی عمل سے بڑھ کر تحریک بن جاتا ہے۔ دُنیا میں جتنے لوگوں نے خیر و صلاح کی دعوت دی ہے، ان میں سب سے برگزیدہ ہستیاں وہ تھیں، جن کے سروں پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج رکھا تھا، ان ہی ہستیوں کو ہم نبی کہتے ہیں۔ انبیاء کا کام بہت دشوار ہوا کرتا تھا؛ کیوں کہ وہ اس دور میں مبعوث کئے جاتے تھے، جب سماج میں بگاڑ اپنی انتہا پر پہنچ جاتا  اور عمل کے بگاڑ کے ساتھ انسان کی سوچ بھی بگڑ جاتی تھی، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھی بات، تاریکی کو روشنی اور رات کو دن سمجھنے لگتے تھے۔ ان کو اس غلط مؤقف سے ہٹانے اور صحیح راستہ پر لانے کیلئے بڑی محنتوں اور ریاضتوں سے گزرنا پڑتا تھا، علمی بصیرت، کردار کی پاکیزگی، تفہیم کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر خیر خواہی اور درد مندی کا غیر معمولی جذبہ، یہ سب مل کر حالات کو بدلتے تھے؛ اسی لئے انبیاء کے رفقائے عالی مقام کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ ہم اس بلندی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں، حضرت یوشع علیہ السلام کے فرماں بردار سپاہیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثابت قدم حواریوں کا اسی حیثیت سے ذکر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چونکہ سلسلۂ نبوت ختم کر دیا گیا، آپ ؐ کی نبوت کسی ایک گروہ، علاقہ، نسل اور خاندان کے لئے نہیں تھی؛ بلکہ پوری دنیائے انسانیت کے لئے تھی؛ اس لئے آپؐ کو نسبتاً زیادہ مخلص، جاں نثار، صاحب ِبصیرت، عالی حوصلہ، جذبۂ ایمانی سے سرشار، مصیبتوں اور آزمائشوں کی آگ سے گزرنے اور طوفان سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھنے والے معاونین وانصار عطا فرمائے گئے؛ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں ان کی تعریف وتوصیف فرمائی، اور پیغمبر اسلام ؐکی زبانِ حق ترجمان سے ان کے لئے مژدۂ حق سنایا گیا: رضی اللہ عنھم و رضوا نہ۔

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس شخص نے بھی بحالت ایمان رسولؐ اللہ کا دیدار کیا اور ایمان ہی پر اس کی موت ہوئی، وہ صحابی ہے، اور ہر صحابی عادل اور عنداللہ مغفور ہے۔ صحابہؓ کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ رسولؐ اللہ  نے دو بار فرمایا کہ میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، ان سے محبت میری محبت کی دلیل ہے اور ان سے بغض مجھ سے بغض رکھنا ہے۔ (ترمذی، حدیث نمبر: ۳۸۶۲) بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ آپؐ نے اپنے تمام صحابہؓ کو ستاروں کے مماثل قرار دیا ہے۔ (جمع الفوائد، حدیث نمبر: ۸۵۵۴) اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر صحابی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خوبیوں کے اعتبار سے امت کے لئے مشعل راہ بنایا ہے، اگرچہ یہ روایت سند کے اعتبار سے حد درجہ ضعیف ہے بلکہ بعض حضرات نے موضوع (من گھڑت) قرار دیا  ہے؛ لیکن بعض اہل فن جیسے: امام احمدؒ کے نزدیک دوسری روایات سے مطابقت کی وجہ سے مضمون کے اعتبار سے اس کو معتبر مانا گیا ہے۔ (المعتبر فی تخریج احادیث المنہاج  و المختصر: ۴۸)

پھر یوں تو تمام ہی صحابہؓ آپؐ کے برگزیدہ رفقاء اور امت کیلئے مرکز محبت اور لائق احترام ہیں؛ لیکن صحابہؓ میں بھی فرق مراتب ہے، خلفاء راشدین سب سے افضل ہیں۔ اسی طرح ایمان لانے کے اعتبار سے جن لوگوں نے شرفِ سبقت حاصل کیا، ان لوگوں کا خصوصی درجہ ہے، جن کو قرآن نے ’’سابقون اوّلون ‘‘(توبہ: ۱۰۰) کہا ہے، ان میں حضرت خدیجہ، حضرت ابو بکر، حضرت عثمان غنی، حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ پھر وہ صحابہؓ ہیں جو مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے مشرف بہ ایمان ہوئے۔ ان ہی میں مہاجرین حبشہ بھی ہیں، پھر بدری صحابہ ہیں، جنہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر حق وباطل کے اس پہلے معرکہ میں شرکت کی، اللہ کے رسولؐ  نے ان کی بابت ارشاد فرمایا: یہ بارگاہ ربانی کے وہ مقبول بندے ہیں کہ اللہ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : آج کے بعد تم سب مغفور ہو۔ 

(بخاری، حدیث نمبر: ۹۰۴۸) 

اس کے بعد ان صحابہ کا نمبر آتا ہے، جو ۶؍ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع سے بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے اگر جنگ ہوتی تو ان میں سے کوئی فرد شاید بچ نہیں پاتا؛ اسی لئے بعض صحابہ نے اس بیعت کو موت پر بیعت قرار  دیا ہے۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۴۱۶۹) اس واقعہ کے دو سال بعد فتح مکہ کا معرکہ پیش آیا، اور جوق درجوق لوگ ایمان لائے۔ بحیثیت مجموعی ان کو آخری درجہ  میں رکھا گیا ہے۔

بعض دوسری حیثیتوں سے بھی صحابہؓ کے درمیان  مراتب کا فرق پایاجاتا ہے، جیسے اُمور قضاء میں حضرت علیؓ ،  فقہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ، تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ  اور حدیث میں حضرت ابوہریرہؓ کو خصوصی مقام حاصل ہے، اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ تو علوم اسلامی کے تمام ہی میدانوں میں نمایاں حیثیت کی حامل ہیں۔ بعض صحابہ کو مخصوص اخلاقی اوصاف میں خصوصی مقام حاصل تھا، جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ امت کے ساتھ رحم اور فتنہ ٔ ارتداد کے مقابلہ میں، حضرت عمرؓ جوش حق اور معاملہ فہمی میں، حضرت عثمان غنیؓ حیا اور انفاق میں،   حضرت ابو ذر غفاریؓ زہد میں، حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ جذبۂ جہاد میں، حضرت سلمان فارسیؓ دعوتِ اسلام میں، اور شعرائے  بارگاہِ نبوی حضرت حسان بن ثابتؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ وغیرہ شعرو ادب کے ذریعہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے دفاع میں؛ اگرچہ ان اوصاف میں دیگر صحابہ بھی شریک تھے؛ مگر ان کو امتیازی حیثیت حاصل تھی۔

اسی طرح فضیلت کا ایک اہم سبب رسول ؐ اللہ سے قرابت ہے۔ یوں تو مکہ کے اکثر خاندانوں میں آپؐ کی رشتہ داریاں تھیں اور بنو امیہ اور بنو ہاشم دو بڑے قبائل تھے، جن میں باہم کافی رشتہ داریاں تھیں، خود آپؐ کے دو داماد حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت ابو العاصؓ بنو امیہ سے تھے؛ لیکن بنوہاشم اور بنو مطلب سے آپؐ کی قربت سب سے بڑھ کر تھی، انہوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی نصرت وحمایت میں سب سے زیادہ حصہ لیا، اور دین حق کیلئے سب سے زیادہ آزمائش اور ابتلاء کو برداشت کیا، یہاں تک کہ بنو ہاشم جب دامن اسلام میں نہیں آئے تھے، اس وقت بھی انہوں نے اللہ کے رسولؐ کی مکمل پشت پناہی کی۔ شعب ابی طالب میں بائیکاٹ کا جو تکلیف دہ واقعہ پیش آیا، اس میں بھی بنوہاشم آپؐ کے ساتھ رہے، اور آپؐ کا ساتھ دینے کی وجہ سے وہ بھی اس آزمائش سے دوچار کئے گئے۔ اس لئے بحیثیت قبیلہ و خاندان بنو ہاشم کو خاص فضیلت حاصل ہے؛ چنانچہ حضرت واصلہ بن اسقعؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو، کنانہ میں سے قریش کو، قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا ۔ (مسلم عن ابی عمار، حدیث نمبر: ۲۲۷۶) اللہ کے  رسولؐ تک بعض لوگوں کی کچھ بات پہنچی جو آپؐ کو ناگوار گزری۔ آپؐ  منبر پر تشریف لے گئے، دریافت فرمایا: میںکون ہوں؟ صحابہؓ نے عرض کیا: آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ  نے فرمایا: میں عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا محمد ہوں، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا، قبائل کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا، ان کو مختلف گھروں میں بانٹا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں رکھا، تو میں گھرانے کے اعتبار سے بھی اور اپنے نسب کے اعتبار سے بھی تم سب میں بہتر ہوں۔ (مسند احمد عن عباد، حدیث نمبر:  ۱۷۸۸)

پھر بنو ہاشم میں آپؐ کی اولاد اطہار اور ازواج مطہرات کا خاص درجہ ہے۔ ازواج مطہرات کی آپؐ سے قربت اور آپؐ کے مشن کو کامیاب کرنے کے لئے ان کی قربانیاں نیز آپؐ کے علوم کی نشرواشاعت میں ان کا حصہ محتاج بیان نہیں ۔ وہ پوری امت کی مائیں ہیں، خود ارشاد خداوندی ہے کہ نبی اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں، اور نبی کی تمام ازواج مطہرات پوری امت کی واجب الاحترام مائیں ہیں۔ (احزاب:  ۶) رسولؐ اللہ سے  جو درود شریف منقول ہیں، ان میں عام طور پر تو آل اطہار کو شریک فرمایا گیا ہے، جیسے درود ابراہیمی مگر بعض درودوں میں آپؐ کی اولاد اطہار کے ساتھ ساتھ ازواج مطہرات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔(بخاری عن ای حمید ساعدی، حدیث نمبر: ۳۳۶۹) 

آپؐ کے اہل بیت میں براہِ راست جو حضرات شامل تھے، حضرت عائشہؓ کی روایت میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم تھے۔ (مسلم حدیث نمبر: ۲۴۲۴) نیزحضرت عمر بن ابی سلمہؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ؐپر اہل بیت سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی:   ’’بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول ؐ کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔‘‘ (احزاب: ۳۳)   تو آپؐ نے حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلایا، ان کو ایک کپڑا  اڑھایا اور اپنے پیچھے حضرت علیؓ کو رکھا، اور ان کو بھی کپڑا اوڑھایا اور دعاء فرمائی: اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں،  انہیں پاک کر دیجئے۔

ان اہل بیت اطہار کیلئے فرداً  فرداً الگ سے بھی رسولؐ اللہ  نے فضیلت بیان فرمائی۔ آپ ؐ  نے حضرت علیؓ کی بابت فرمایا کہ ان کی محبت ایمان اور نفاق کا معیار ہے، جو مؤمن ہوگا وہ ان سے محبت کریگا، اور جو اُن سے بغض رکھے گا، وہ منافق ہوگا۔ (مسلم عن علی: ۷۸) ایک موقع پر آپ ؐنے صحابہؓ کے مجمع میں فرمایا: جو میرا دوست ہے، وہ علیؓ کا دوست ہے، اے اللہ! جو علیؓ سے محبت اور دوستی رکھے، آپ بھی اس سے محبت فرمائیے  اور جو علیؓ سے عداوت رکھے ، آپ بھی اس  کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرمائیے۔ (مسند احمد، حدیث نمبر: ۱۹۳۰۲) حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مقام ِبلند کا حال یہ ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت فاطمہؓ سے) فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ مومن خواتین، یا فرمایا: اِس امت کی تمام خواتین میں تم سردار بنائی گئی ہو۔ (بخاری: ۶۲۸۵) ایک موقع پر ام المؤمنین حضرت عائشہؓ ہی نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا: کیا میں تم کو خوش خبری نہیں دوں کہ میں نے حضورؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ چار عورتیں خواتین جنت کی سردار ہیں: حضرت مریمؑ، حضرت فاطمہؓ، ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہؓ ۔ (مستدرک عن عائشہ: ۴۸۵۳)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK