Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن کی ۳۵؍ آیتوں میں غفلت کا ذکر یوں ہی نہیں آیا!

Updated: January 31, 2025, 3:48 PM IST | Atiq Ahmad Shafiq Islahi | Mumbai

غفلت دل کی بیماریوں سے ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کی حس کو ختم کردیتی ہے، اچھائی و برائی، نیکی و بدی کی شناخت کی کیفیت کو بے اثر کردیتی ہے اور انسان شعور و ادراک سے بہت دُور ہوجاتا ہےیہاں تک کہ اُسے یہ احساس بھی نہیں رہتا کہ وہ کتنے بڑے خسارے میں مبتلا ہوچکا ہے۔

Negligence is one of the faults mentioned in the Holy Qur`an. Photo: INN
قرآن مجید نے انسانوں کی جن خرابیوں کا ذکر کیا ان میں ایک غفلت ہے۔ تصویر: آئی این این

 قرآنی لفظ ہے۔ یہ ’غافلا‘سے ہے۔ اس کے معنی چھپانااورغفلت ہے۔ انسان جب کسی چیز یا معاملے کو بھلا دیتا ہے،اس کو نذر انداز کر دیتا ہے یا اس سے بے پرواہ ہو جاتا ہے، اس کو غفلت کہتے ہیں۔ غفلت یہ بھی ہے کہ کسی چیز کو اتنی توجہ نہ دی جائے جتنی توجہ کی وہ حق دار ہو۔ 
غفلت کا مفہوم
قرآن مجید میں ۳۵؍آیتوں میں غفلت کا ذکر آیا ہے۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ دو مفہوم میں آیا ہے۔ ایک بے خبر ی، لاعلمی، ناواقفیت، اور دوسرا بھلا دینا اور نظرانداز کردینا۔ غافل کے معنی قرآن مجید میں بے خبر اور ناواقف ہونے کے بھی ہیں۔ سورۂ یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے اور نبی کریم ؐ کو مخاطب کرکے یہ بات فرمائی ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی سرگزشت سے آپؐ واقف نہیں تھے۔ ہم نے وحی کے ذریعے آپؐ کو واقف کرایا۔ (یوسف :۳)
اس آیت میں غفلت بے خبری کے معنی میں ہے۔ اسی سورہ میں حضرت یوسف ؑ کے والد نے ان کے بھائیوں سے، جب کہ وہ حضرت یوسف ؑ کو اپنے ساتھ بکریاں چرانے کے لیے جنگل میں لے جانا چاہتے تھے، فرمایا تھا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تم کھیل کود اورشکار میں ایسے مگن ہو جاؤ کہ یوسفؑ کی طرف سے غافل ہو جاؤ اور پھر بھیڑیا اس کو کھا جائے۔ (یوسف: ۱۳)
حضرت موسٰی کے بارے میں ہے کہ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو شہر کے لوگ غفلت میں تھے یعنی ایسا وقت تھا کہ اس وقت ان کے آنے کی خبر کسی کو نہ ہو سکی۔ یہ وقت رات، علی الصبح، یادوپہر کا ہو گا، جب کہ لوگ آرام کرتے ہوتے ہیں اور سڑکیں سنسان ہوتی ہیں۔ اس آیت میں بھی غفلت کے معنی بے خبر ہونے کے ہیں۔ 
سورۂ نور کی آیت میں ’غافلات‘ کا لفظ آیا ہے۔ جس سے وہ عورتیں مراد ہیں جو سیدھی سادی اور شریف ہوتی ہیں، ان کے دل و دماغ اس طرح کے خیالات سے بالکل پاک صاف ہوتے ہیں اور جو یہ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ کوئی ان پر بدچلنی کا گھناؤنا الزام لگا دے گا:
’’ جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لئےبڑا عذاب ہے۔ ‘‘ (النور:۲۳)

یہ بھی پڑھئے: آپؐ کاعالم ِ مکاں سے لامکاں تک کا سفر اور اس سے عطا ہونے والی نعمتیں

قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لئےرحمت بنا کر بھیجا ہے۔ جو اس کے مطابق عمل کریں گے ان پر اللہ کی رحمت ہوگی، اور جو اس سے غفلت برتیں گے وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ قرآن مجید کے نزول کا مقصد یہ بتا یا گیاکہ قیامت کے دن یہ حجت بن سکے اور اس دن کوئی یہ معذرت پیش نہ کر سکے کہ ہم کو صحیح راستہ معلوم نہیں تھا۔ یہود و نصاریٰ کے یہاں انبیاؑ آئے،ان پر کتابیں نازل کی گئیں۔ ان کی طرف اشارہ کرکے فر مایا گیا کہ قرآن مجید اس لئےنازل کیا گیا تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو نہیں معلوم کہ یہود و نصار یٰ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے؟:
’’ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دوگروہوں کو دی گئی تھی، اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ‘‘ (انعام: ۱۵۶)
جو شرک کرتے تھے اور جن کو خدائی میں شریک ٹھہراتے تھے، آخرت کے دن ان کو آمنے سامنے کر دیاجائے گا، تو وہ اپنے پرستاروں سے صاف صاف ان کی حرکت سے لا علمی، لاتعلقی اور بے خبری کا اظہار کریں گے۔ جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور سفارشی سمجھتے تھے، قیامت کے دن وہ ان سے برأ ت کا اعلان کریں گے کہ نہ تو ہم نے ان سے اپنی عبادت کیلئےکہا تھا اور نہ ہمیں اس کی کچھ خبر تھی:
’’ ہمارے اور تمھارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے (تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔ ‘‘ (یونس :۲۹)
دوسرا مفہوم بھلا دینا، بھول جانا،نظر انداز کرنا، بے توجہی برتنا، بے پرواہی، لااُبالی پن وغیرہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی مختلف کیفیات و صفات کا ذکرکیا ہے۔ ایمان لانے والے،تقویٰ والے، فرماں بردار، متوجہ رہنے والے بندوں کی خوبیوں و صفات کا بھی ذکر کیا ہے، اور کفار و مشرکین،فجاروفساق،بے پروا،غافل انسانوں کی خرابیوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ انسان اچھے لوگوں کی صفات کو اختیار کرے اور برے لوگوں کی خرابیوں سے اپنے آپ کو بچا لے۔ قرآن مجید نے انسانوں کی جن خرابیوں کا ذکر کیا ان میں ایک غفلت ہے۔ غفلت دل کی بیماریوں سے ایک اہم بیماری ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کی حس کو ختم کردیتی ہے۔ اچھائی و برائی، نیکی و بدی کی شناخت کی کیفیت کو ختم کردیتی ہے۔ شعور و ادراک سے وہ بہت دُور ہوجاتا ہے۔ انسان نقصان سے دو چار ہو تا ہے، لیکن وہ کتنے بڑے گھاٹے و نقصان میں مبتلا ہو رہا ہوتا ہے اس کو اس کا احساس نہیں ہو پاتا۔ وہ اپنا نقصان کررہا ہو تا ہے مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ وہ خسارہ کی زندگی گزاررہا ہوتا ہے مگر اس سے نکلنے کی فکر نہیں ہوتی۔ 

یہ بھی پڑھئے: نفسانی خواہشات کی دوڑ نے انسانی دُنیا کو جہنم بنا دیا ہے

آج مسلمانوں کی بڑی تعداد غفلت کی زندگی گزار رہی ہے۔ اللہ کے دین،قرآن مجید، اللہ کے احکامات، رسولؐ اللہ کی سنتوں، عبادات،نیکی کے کاموں،انفاق،جہاد فی سبیل، حقوق العباد، آخرت کی جواب دہی، اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے غفلت برتنا ہی غفلت کی زندگی ہے اور ایسی زندگی گھاٹے کی زندگی ہے۔ قرآن مجید میں اہل ایمان کو ایسی تمام غفلتوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 
انبیا ؑ کی بعثت کا مقصد
اللہ کی رحمت کا تقاضا تھا کہ وہ انسانوں کی ہدایت کا سامان کرے۔ اس کے لئےاللہ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئےرسول بھیجے، ان پر کتا بیں نازل کیں ۔ ان کے ذریعے حق کو واضح کیا اور شرک و کفر کے نتائج سے واقف کرایا۔ انسان کو اختیار کی آزادی دی کہ چاہے تو اس کو قبول کرکے اس کے مطابق عمل کرے اور آخرت میں کامیاب ہو جائے، چاہے تو اس سے غفلت اختیار کرے۔ اگر وہ اس سے منہ موڑتا ہے تو ناکام ہو گا اور سزا سے دوچار ہوگا۔ انبیا ؑ کے مبعوث کیے جانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کو غفلت سے چونکا کے انجام سے باخبر کر دیں تاکہ لوگ شعور و ادراک، علم وایمان کی روشنی میں زندگی گزاریں۔ 
ارشاد ربانی ہے:
’’اے نبی ؐ!اس حالت میں جب کہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لا رہے ہیں، انھیں اس دن سے ڈرا دو جب کہ فیصلہ کر دیا جائے گا اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہو گا۔ (مریم :۳۹)
’’قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت،اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ (انبیاء:۱)
یعنی اب وہ وقت دُور نہیں ہے کہ جب لوگ اپنے رب کے حضور حاضر کئے جائیں گے اور اپنی پوری زندگی کا حساب دینا پڑے گا۔ وہ غفلت میں ایسے پڑے ہیں کہ ان پر کسی طرح کی تنبیہ کا ر گر نہیں ہوتی ہے، نہ تو خود ان کو اپنے انجام کی کی فکر ہے اور نہ پیغمبرؐ کے کے ڈرانے کی کوئی پروا ہے۔ غفلت انسان کے لئےنقصان دہ ہے اور جب کوئی سمجھائے اور جھنجھوڑے اس کے باوجود غفلت سے بیدار نہ ہو،تو یہ جرم اور سنگین ہو جاتا ہے۔ قیامت کے قریب ہونے کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے وقت پر مبعوث کیا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دوانگلیوں کی طرح ہیں۔ 
غفلت کی اقسام
غفلت دو طرح کی ہے:
 ایک مذموم ہے اور دوسری محمود۔ 
محمود غفلت سے مراد یہ ہے کہ انسان گنا ہوں کو بھول جائے۔ بدی کی راہ سے نیکی کی راہ کی طرف ہجرت کرے اور ایسی ہجرت کرے کہ پھر برائیوں اور بڑے گناہ کرنے کے خیال تک کو بھلا دے۔ انسانوں کی جانب سے ناروا سلوک، بدسلوکی، بے ہودہ باتیں سننے کے باوجود نظر انداز کر جائے،انتقامی جذبے سے اپنے آپ کو بچا لے۔ ایسی غفلت محمود ہے:
’’ جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لئےبڑا عذاب ہے۔ ‘‘ (النور :۲۳)
مذموم غفلت سے مراد یہ کہ انسان دین اور نیکی کے کاموں سے بے پروا ہو جائے۔ 
مذموم غفلت کئی طرح کی ہوتی ہے:
وقتی وعارضی غفلت : وقتی غفلت سے مراد یہ ہے کہ انسان نیک طبیعت ہے، نیکی کے کام کرتا ہے۔ اعمال صالح کا خوگر ہے، مگر زندگی میں کسی لمحہ میں یا کسی مرحلے میں اس پر غفلت طاری ہو جاتی ہے اور اس سے گناہ کا صدور ہو جاتا ہے۔ پھر جیسے ہی توجہ ہوتی ہے تو اس روش کو ترک کردیتا ہے۔ یہ غفلت قلیل لمحہ کی ہوتی ہے۔ اس لئےاس کو عارضی غفلت کہا جاتا ہے:
 ’’ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاسِ عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا۔ ‘‘(اعراف۷:۱۰۲)
لمبی غفلت: اس سے ایسی غفلت مراد ہے جس میں انسان ایک لمبی مدت تک رہتا ہے اور مسلسل گناہ کرتا رہتا ہے۔ یہ فاجر و فاسق لو گوں کی غفلت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سرکارِ دو عالم ؐنے فرمایا: اللہ سے حیا کرو، جیسا کہ حیا کا حق ہے

کامل غفلت :یہ ایسی غفلت ہے جس میں انسان دائمی طور پر مبتلا رہتا ہے۔ اس کو اپنی غفلت کااحساس بھی نہیں ہو تا ہے۔ توجہ و یاددہانی اور تنبیہ کے باوجود وہ اس کیفیت سے باہر نہیں آتا بلکہ اس پر جما رہتا ہے۔ ایسی غفلت کفار و مشرکین پر طاری ہوتی ہے جن کو وقت کا نبی اللہ کا پیغام پہنچاتاہے، ان کے انجام سے ڈراتا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے ہیں :
 ’’ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دُنیا کی چندروزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔ ‘‘ (محمد : ۱۲) 

غفلت کی علامات درج ذیل ہیں :
lعبادات میں سستی: غفلت کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان کا دل نیکی کے کاموں اور عبادات میں نہ لگے۔ عبادات میں سستی و کاہلی، غفلت اور بے پرواہی کا مظاہر ہ ہو۔ ایک انسان جانتا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ عبادات کی درست ادائیگی پر دنیا میں خیر اور آخرت کی نجات منحصر ہے۔ اس کے چھوڑنے یا درست طریقہ اور ذوق شوق کے بغیر ادا کی گئی عبادت کا نتیجہ خسارہ ہے۔ اس کے باوجود عبادات میں کوتاہی برتے تویہ غفلت کی علامت ہے۔ نماز میں سستی و کوتاہی اسلام میں بالکل پسند نہیں ہے۔ نماز میں سستی کو نفاق کی علامت بتا یا گیا ہے۔ آج مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو نمازسے غافل ہے، جو (لوگ) نماز پڑھتے ہیں ان میں ایسے بہت قلیل ہیں جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ دین دار طبقہ میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو نماز پڑھنے آتے ہیں تو دیر سے آتے ہیں۔ کبھی سنتیں چھوٹتی ہیں تو کبھی رکعتیں اور کبھی جماعت سے محروم رہتے ہیں۔ خاص کر فجر کی نماز میں تو اور بھی لاپرواہی ہوتی ہے۔ یہ کمزوریاں دراصل نماز باجماعت کی اہمیت سے بے توجہی و غفلت کی وجہ سے ہیں :
’’جب یہ نماز کے لئےاٹھتے ہیں تو کسمَساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔ ‘‘ (النساء:۱۴۲)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب اس میں زردی آجاتی ہے اور مشرکین کی سورج کی پوجا کا وقت آجاتا ہے، تب یہ اٹھتا ہے اور جلدی جلدی چاررکعتیں مار لیتا ہے ( ایسے جیسے مرغی زمین پر چونچ مارتی ہے اور اٹھالیتی ہے)۔ یہ شخص اللہ کو اپنی نماز میں ذرا بھی یاد نہیں کرتا۔ ‘‘ ( مسلم)
lکبائر کا ارتکاب: غفلت کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان بڑے گناہوں کا ارتکاب کرے، حرام کاریوں میں مبتلا ہو اور انسانوں کے حقوق تلف کرے۔ اس کے باوجود وہ ان کے گناہ ہونے کے ادراک سے محروم رہے۔ وہ ان کو معمولی سمجھے اور ان کو کوئی اہمیت نہ دے۔ یہ غفلت کی علامت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:
مومن اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھاہو اور ڈررہا ہو کہ کہیں وہ اس کے اوپر نہ گر پڑے۔ اور فاجر و بدکار شخص اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے کوئی مکھی ہو جو اس کی ناک پر سے گزرتی ہے۔ راوی نے کہا کہ وہ ایسے کر دیتا ہے ( اُڑادیتا ہے)۔ ( بخاری)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لئےڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارِ گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کے لئےسخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔ ‘‘ (آل عمران:۱۷۸)
lبرائیوں کی رغبت: غفلت کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان مسلسل گناہ کرتے رہنے کی وجہ سے برائیوں سے مانوس ہو جاتا ہے۔ اس کو برائیاں کرنے سے رغبت ہو جاتی ہے۔ پھر وہ علی الاعلان گنا ہ کرتا ہے۔ گنا ہ کرتے ہوئے اس کو کسی طرح کی شرمندگی، ندامت، غیرت، پاس، حیا، شرم یا پچھتاوا نہیں ہوتا۔ حضرت انس ؓ اپنے زمانے کے لو گوں سے فرماتے ہیں : ’’تم لوگ ایسے بہت سے کام کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ ہلکے ہوتے ہیں ( حقیر ہوتے ہیں ) لیکن ہم انہیں رسولؐ اللہ کے زمانہ میں دین و ایمان کے لئےمہلک خیا ل کرتے تھے۔ ‘‘ ( بخاری)
 حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فر ماتے سنا : ’’میری تما م امت کے گناہ بخشے جائیں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے گنا ہوں کا پردہ خود فاش کردیتے ہیں۔ اور یہ بھی بے ہودگی اور بے حیائی ہے کہ آدمی رات کے وقت کوئی بُر اکام کرے اور صبح کے وقت اُٹھے تو اس کے گناہ پر اللہ تعالیٰ نے تو پردہ ڈال رکھا ہو لیکن وہ خود لوگوں سے کہتا پھرے، اے شخص، سن، میں نے کل رات یہ اور یہ برے کا م کئے۔ گویا اس کے رب نے تو اس کی پردہ پوشی فر مائی تھی لیکن وہ صبح اُٹھتا ہے اور اللہ کے ڈالے ہوئے پردے کو خود کھول دیتا ہے۔ ‘‘ (بخاری، کتاب الادب) ’جواپنے گناہوں کا پردہ فاش کرتے ہیں ‘ سے مراد یہ کہ وہ علی الاعلان سب کے سامنے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ نبیؐ عالی مقام نے فرمایا بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو پورے دل پر وہ چھا جاتا ہے۔ ( ترمذی)
’’ ہرگز نہیں، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ ‘‘ ( مطففین : ۱۴)
lغیر مفید کاموں میں مبتلا رہنا: غفلت کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان غیرمفید اورلغو کاموں میں اپنا وقت ضائع کرے۔ انسان کو بامقصد پید ا کیا گیا ہے۔ زندگی کی نعمت انسان کو ایک امتحان کے لئےدی گئی ہے۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ انسان زندگی کے مقصد سے غافل ہوجائے اور اس کی تیاری نہ کرے تو اسی کیفیت کا نام غفلت ہے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’اللہ کی ان دو نعمتوں ’ صحت‘ اور ’فرصت‘ کے متعلق اکثر لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ‘‘
( بخاری، کتاب الرقاق) 

یہ بھی پڑھئے: انکساری و عاجزی اس قدر تھی کہ سامنے ہونے کے باوجود اجنبی آپؐ کو پہچان نہ پاتا

’’ اُن کے پاس جو تازہ نصیحت بھی ان کے رب کی طرف سے آتی ہے اس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں، دل ان کے (دوسری ہی فکروں میں ) منہمک ہیں۔ ‘‘ (الانبیاء :۲-۳)
lغافل لوگوں کی صحبت: غفلت کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان ایسے افراد کے ساتھ رہے جو زندگی کے مقصد سے غافل ہوں۔ غافلوں کی صحبت بھی انسان کو غفلت میں مبتلا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی صحبت اور ان کی بات ماننے سے روکا ہے، جو غافل ہوں :
’’کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ ‘‘ (الکہف: ۲۸) 
سور ۂ فرقان میں جہنمیوں کے بارے میں ہے:
’’ وہ منکرین کے لئےبڑا سخت دن ہو گا۔ ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا: کاش! میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی، کاش! میں نے فلا ں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا، اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی۔ ‘‘ ۭ (الفرقان : ۲۷-۲۹)
غفلت کے اسباب 
lباپ دادا کی تقلید: دین سے غفلت و دُوری کا ایک سبب خاندانی عصبیت اور قومی تعصب ہوتا ہے۔ ان کے عقیدے وخیالات، تصورات اور رسم و رواج کی انسان پابندی کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:’’اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں ۔ ‘‘ (سورہ زخرف: ۲۳) 
ہم نے اپنے باپ داد ا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقشِ قدم کی پیروی کررہے ہیں : ’’ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو، توجواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ داد کو پایا ہے۔ اچھا، اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہِ راست نہ پائی ہو، توکیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟‘‘ ( البقرہ: ۱۷۰)
lخواہشِ نفس کی پیروی: دین سے غفلت کا ایک سبب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کرے۔ اس کے دل میں جو آئے وہ کرے۔ جو چیز اس کو پسند آئے اس کو کرے اور جونا پسند ہو، اس کو نہ اختیار کرے۔ ایسا شخص اپنے نفس کا بندہ بن کر رہ جا تا ہے :
’’کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟‘‘ ( الفرقان:۴۳) 
’’اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیروہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہر گز ہدایت نہیں بخشتا۔ ‘‘ (القصص:۵۰)۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف طرح کی صلاحیتیں ودیعت کی ہیں۔ سننے کے لئےکان، دیکھنے کے لئےآنکھ اور سوچنے سمجھنے کے لئےدل و دماغ عطا کیا۔ انسان جب ان صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتا ہے، ان سے ٹھیک انداز سے فائد اٹھاتا ہے تو اس کو ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ وہ انسانی مجدو شرف کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے اور اس کیلئے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کا غلط استعمال کرتا ہے اور اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتا رہتا ہے، تووہ انسانیت کے مقام سے گر جاتا ہے اور نفس کی پیروی کے نتیجے میں ایسے مقام پر جا پہنچتا ہے کہ اس کی آنکھیں صحیح بات دیکھنے، کان اچھی بات سننے اور دل و دماغ حق بات کو تسلیم کرنے کی صلاحیت کھوبیٹھتے ہیں اور حق قبول کرنے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ (مفہوم سورہ اعراف ۷ : ۱۷۹، سورہ فرقان ۲۵:۴۴)
lانسانوں کی اطاعت: دین سے غفلت کا ایک سبب یہ ہے کہ انسان اپنے جیسے انسانوں کو یہ درجہ دے دے کہ ان کی ہر بات بغیر سوچے سمجھے ماننے لگے۔ صاحبان ِاقتدار، مذہبی پیشوا اور دولت مند لوگوں کے بارے میں یہ تصور بٹھالے کہ یہ بھی کچھ نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ اور ان کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے ان کی ہر بات تسلیم کر لینا، یہ چیز اس کو دین سے غافل کر دیتی ہے:
 اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تواُس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کہیں گے: ’’دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئےبھی کچھ کر سکتے ہو؟‘‘ وہ جواب دیں گے: ’’اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھادیتے۔ اب تو یکساں ہے، خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ‘‘ (سورہ ابراہیم:۲۱)
دین سے غفلت کا ایک سبب دنیامیں حد سے زیادہ انہماک ہے۔ جب انسان مادی چیزوں پر زیادہ بھروسا کرلیتا ہے، دولت، کھیتی باڑی، دنیا کا آرام، عزّت و شہرت کی طلب حد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو اللہ کے حقوق سے بے پروا ہو جاتا ہے۔ کارو بار، کیرئیر، خاندان، بچوں کی ترقی اور کامیابی کی فکر اس پر طاری رہتی ہے۔ ہر وقت دنیوی مفاد کے حصول اور دُنیوی کا میابیوں کے حصول کابھوت اس پر ایسا مسلط ہو جاتا ہے کہ وہ قبر تک پہنچ جاتا ہے اور وہ زندگی کے اہم مقاصد و امور سے غافل رہتا ہے۔ جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئےسرگرم رہنا مطلوب ہے۔ لیکن جب یہ انہماک حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو انسان کو اتنی بھی فرصت نہیں ملتی کہ وہ زندگی کے حقیقی مقصد و تقاضوں کے بارے میں سوچ سکے۔ اسی کیفیت کا نام غفلت ہے:
’’حقیقت یہ ہے کہ جولوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں ، ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ کرتے رہے۔ ‘‘ (یونس :۷-۸) 
اللہ کے رسول ؐ نے فر مایا: ’’جو شخص دنیا سے پیار کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو ضرور نقصان پہنچاتا ہے۔ ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)’’اگر ابن آدم کو سونے سے بھری ہوئی ایک وادی دے دی جائے تو وہ دوسری کی خواہش کرے گا اور اگر دوسری بھی مل جائے تو وہ تیسری کی تمنا کرے گا۔ اور ابن آدم کے پیٹ کو تو مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ ‘‘ ( بخاری)
غفلت کا انجام
غفلت میں خواہ فرد مبتلا ہویا قوم، دونوں کا انجام یکساں ہے۔ دنیا میں غفلت کے نتیجے میں دونوں ہی بُرے نتائج سے دوچار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی انجام برا و رسواکن ہو گا۔ 
تباہی و ہلاکت : جو افراداللہ اوراس کی کتاب، اس کے رسولؐ کی تعلیمات سے اعراض کرتے ہیں۔ ان کے اس اعراض و استکبار کی سزا دنیا میں مقدر کردی جاتی ہے اور آخرت میں جہنم رسید ہوں گے۔ جوقومیں اس روش کو اپناتی ہیں اور کھلم کھلا رسول کی بات کو جھٹلاتی ہیں، ان کو دنیا میں ہی تباہ و بر باد کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کا ذکر کیا ہے کہ جب انھوں نے رسول کو جھٹلایا، اس کا مذاق اڑایا، اس پر نازل کردہ کتاب کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا:
’’ مگر جب ہم اُن پر سے اپنا عذاب ایک وقتِ مقرر تک کے لئے، جس کو وہ بہر حال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے۔ پھر ہم نے ان سے (بالآخر تمام نافرمانیوں اور بدعہدیوں کا) بدلہ لے لیا اور ہم نے انہیں دریا میں غرق کردیا، اس لئے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی (پے در پے) تکذیب کی تھی اور وہ ان سے غافل تھے۔ ‘‘ (اعراف :۱۳۵-۱۳۶)
ان آیات میں قومِ فرعون کی ہلاکت کا سبب تکذیب اور غفلت بتائی گئی ہے۔ قومِ فرعون پر تنبیہ کے لئےپہلے قحط، طوفان، ٹڈی دل، سرسریاں، مینڈک، خون کا عذاب نازل کیا گیا لیکن جب قوم غفلت میں پڑی رہی اور رسول کی تکذیب کرتی رہی تو اس کو ہلا ک کر دیا گیا:
’’ اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ بعد کی نسلوں کے لئےنشانِ عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں۔ ‘‘ (یونس : ۹۲)
توفیق کا سلب ہونا: جو افراد، گروہ اور اقوام اللہ اور اس کے رسول ؐکے دیئے گئے احکامات سے غفلت برتتی ہیں ۔ اس پر دھیا ن و توجہ کے بجائے لاپرواہی اختیا ر کرتی ہیں ۔ اللہ ان سے نیک اعمال کی توفیق چھین لیتا ہے اور ہدایت کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں :
’’اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جِنّ اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لئےپیدا کیا ہے۔ اُن کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ اُن کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ اُن سے دیکھتے نہیں ۔ اُن کے پاس کا ن ہیں مگر وہ اُن سے سنتے نہیں ۔ وہ جانور وں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں ۔ ‘‘ ( اعراف: ۱۷۹)
 غافل انسان سے اللہ ناراض ہو جاتا ہے اور عقل و شعور، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلیتا ہے۔ وہ کان رکھتا ہے، بات سنتا ہے مگر بھلی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ آنکھوں سے دیکھتا ہے مگر آنکھیں عبرت و نصیحت حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ 
اللہ کی نشانیوں سے سبق لینے سے محرومی : غافل انسان اللہ کی نشانیوں کو جھٹلاتا ہے۔ جب کسی کی عقل پر غفلت کے پردے پڑجاتے ہیں تو وہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھتا ہے مگر غور نہیں کرتا، سنبھلتا نہیں ہے جیسا کہ فرعون کی قوم پر اللہ نے کئی عذاب بھیجے کہ قوم نصیحت حاصل کرے اور اپنے رویہ میں تبدیلی لائے۔ جب کئی عذاب آگئے اور ان کے اندر رجوع الی اللہ کی فکر نہیں ہوئی تو اللہ نے ان کو تباہ کر دیا۔ دریائے نیل میں غرق کر دیا:
’’آخر کار تمہارے دل سخت ہو گئے، پتھر وں کی طرح سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیوں کہ پتھر وں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں ، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے، اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے۔ اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔ 
( البقرہ: ۷۴)
غفلت جہنم میں لے جانے والا عمل : غفلت ایک ایسا موذ ی مرض ہے کہ اس میں گرفتار انسان لوگو ں کو مرتے دیکھتا ہے، مگر اثر حاصل نہیں کرتا۔ غفلت کی وجہ سے دنیا میں بھی انسان آزمائشوں سے گزرتاہے اور آخرت میں بھی اس کے حصہ میں دوزخ کی آگ آئیگی: ’’انہی لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے ان اعمال کے بدلہ میں جو وہ کماتے رہے۔ ‘‘(یونس :۸)
قیامت کے دن عار دلائی جائے گی: قیامت کے دن جب اللہ کے حضور حاضری ہو گی اس دن جو لوگ دنیا میں غافل رہے ان کو عار دلائی جائے گی:
’’ َ ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ حقیقت میں تُو اِس (دن) سے غفلت میں پڑا رہا سو ہم نے تیرا پردۂ (غفلت) ہٹا دیا پس آج تیری نگاہ تیز ہے۔ ‘‘(قٓ :۲۱، ۲۲) 
انبیاء علیہ السلام کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ انسانوں کو غفلت سے بیدار کیا جائے۔ ان کو رب کریم سے واقف کرایا جائے اور وہ غفلت ولاپرواہی چھوڑکر رب کی بندگی اختیار کر لیں :
’’تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو، جس کے باپ دادا خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ‘‘ ( یٰسین:۶)
شیطان غالب ہو جاتا ہے: جو شخص غافل ہوتا ہے، دینی تعلیمات و احکامات سے مسلسل لاپروائی برتتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شیطان اس شخص پر غالب ہو جاتا ہے۔ اور پھر وہ اس کو اللہ سے مسلسل غافل رکھنے کی کوشش کر تا رہتا ہے: ’’اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجائو، جواللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انھیں خود اپنا نفس بھلادیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔ ‘‘ (الحشر :۱۹) 
لہٰذا دُنیامیں مادی فوائد کے حصول کی کوشش سے غفلت دُنیا کا نقصان ہے، مگر دین سے غفلت دنیا و آخرت دونوں جگہ نقصان دہ ہے۔ دنیا میں بداعمالیوں وگمراہیوں کی وجہ سے دنیا ظلم سے بھر جائے گی اور آخرت میں آخرت خراب ہو گی۔ عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان غفلت سے بچے۔ ( ترجمان القرآن)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK