عبدالحمید ابو میاں دھر وملے توکہنے لگے رمضان میں انقلاب کا کالم ’’روح قرآن‘‘ پابندی سے پڑھتا ہوں۔ اس میں کلام پاک کی تفسیر اتنی جامع ہے کہ بعض اوقات میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 4:02 PM IST | Wasim Patel | Mumbai
عبدالحمید ابو میاں دھر وملے توکہنے لگے رمضان میں انقلاب کا کالم ’’روح قرآن‘‘ پابندی سے پڑھتا ہوں۔ اس میں کلام پاک کی تفسیر اتنی جامع ہے کہ بعض اوقات میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
پہلا روزہ تھا۔ ظہر کی نماز ایک مسجد میں ادا کرنے کے بعد میں باہر نکل رہا تھا۔ تبھی پانچ چھ سال کا ایک بچہ بھی میرے ساتھ مسجد سے باہر نکلا۔ چہرے سے لگ رہا تھا اس کا روزہ ہے اس کے باوجود مَیں نے پوچھ لیا: ’’روزے سے ہو؟‘‘ اس نے ہاں جواب دیا۔ میں نے کہا اتنی کم عمر میں روزہ رکھتے ہو؟ اس نے معصومانہ جواب دیا: ابا کہتے ہیں اگر روزہ نہیں رکھوں گا تو اللہ ناراض ہو جائے گا اور میں اللہ میاں کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، ان شاءاللہ پورا رمضان روزہ رکھوں گا۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۴): کاش سب ایسا سوچیں کہ ’’وہ لوگ پرارتھنا ہی تو کررہے ہیں‘‘
اس کی بات سن کر میں سوچنے لگا قابل تحسین ہے وہ ماں باپ جو بچوں کی اتنی اچھی پرورش کرتے ہیں اور انہیں دینی تربیت سے آراستہ کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو تو ناراض کر سکتے ہیں اپنے رب کو نہیں۔ اسی ضمن میں ایک دوست نے اپنے بچپن کا ایک دلچسپ قصہ سنایا۔ ان کی عمر بمشکل چھ سال ہو گی۔ ان کے والد ہر اتوار کو ان سے روزہ رکھواتے تھے لیکن یہ سحری کے وقت محلے میں بھاگ جاتے تھے کیونکہ انہیں روزہ نہیں رکھنا ہوتا تھا۔ وہ بتاتے ہیں: ’’ میں آگے آگے اور پیچھے پیچھے والد صاحب دوڑتے تھے۔ زبردستی گھر لا کر روزہ رکھواتے تھے اور پورا دن میری نگرانی کرتے تھے کہ کئی میں کچھ کھا پی تو نہیں رہا ہوں۔‘‘
رمضان کا مہینہ ہو اور یہاں کے سماجی کارکن زبیر پٹو سے ملاقات نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ انہوں نے ایک بات بتائی کہ پہلے رمضان کے مہینے میں مسجدوں میں خاص طور سے جمعہ کی نماز کے وقت کافی کم سفیر حضرات ہوتے تھے لیکن پچھلے دو سے تین سال میں ہر جمعہ کو تمام مسجدوں میں کم سے کم دو سے تین سو سفیر حضرات کو دیکھتا ہوں جو ملک کے گوشے گوشے سے آتے ہیں۔ مگر یہ اچھا ہی ہے کیونکہ پورے ملک میں مساجد اور مدارس بڑی تعداد میں بنے ہیں۔ مساجد کو لوگ سجدوں سے آباد کرتے ہیں اور مدارس سے بچے حافظ، عالم اور مفتی بن کر نکلتے ہیں، ان اداروں کی مدد کرنی چاہئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اہل جنت میں شامل ہونے کیلئے آج ہی اپنا احتساب کرلیجئے
پہلے روزہ کے دن شیو جنتی کا جلوس بھی نکلا تھا۔ مسلم محلے میں سماجی کارکن ابرار ماسٹر اور احباب جلوس کے شرکاء کی پیاس بجھانے کا کام کر رہے تھے اور تھوڑے فاصلے پر حلیمہ بائی جھولے والا ٹرسٹ کے صدر حنیف کچھی، اقبال قاضی کے تعاون سے شربت، پانی کیک اور آئس کریم تقسیم کر رہے تھے۔ یہ وہی اقبال قاضی ہیں جو رمضان ہی میں نہیں بلکہ عام دنوں میں بھی ضرورت مندوں کی مدد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ جلوس میں شامل ایک شخص کہنے لگا: آج آپ لوگوں کا پہلا روزہ ہے، اس وقت ۳۰۔۹؍ بجے ہیں، یہ آپ لوگوں کے آرام کا وقت ہوتا ہے لیکن تعریف کرنی ہو گی آپ نے ہماری خدمت کیلئے اپنی نیند قربان کر دی۔ اس میں سے ایک شخص نے پانی کی بوتل تو لے لی مگر یہ کہہ کر پینے سے انکار کیا کہ آپ کا روزہ ہے، بعد میں پی لوں گا۔ آپ کے سامنے پانی نہیں پی سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: تیسرا عشرہ، اعتکاف اور لیلۃ القدر کی تلاش
یہ بات سن کر میں یہ سوچنے لگا کہ قومی یکجہتی یہی تو ہے۔ اسی کے سبب ہندو مسلم اتحاد نہ صرف قائم ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے اور دونوں مذاہب کے لوگ شر پسندوں کی ہر کوشش کو ناکام بنا رہے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کے ریٹائرڈ ملازم عبدالحمید ابو میاں دھر وملے تو باتوں باتوں میں بتایا کہ رمضان میں انقلاب کا کالم ’’ روح قرآن‘‘ پابندی سے پڑھتا ہوں۔ اس میں کلام پاک کی تفسیر اتنی جامع ہے کہ بعض اوقات میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ اللہ انقلاب والوں کو جزائے خیر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیز ون میں مَیں ۱۴؍ سال سے رہائش پذیر ہوں، پہلے یہاں کی آبادی کافی کم تھی۔ افطاری کا سامان لانے کیلئے تلو جہ جانا پڑتا تھا مگر اب ہر چیز میسر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری طرح فیز ٹو میں سماجی کارکن اقبال ناؤ ریکر بھی یہاں آئے تو یہیں کے ہو کر رہ گئے۔روزانہ اپنے گھر پر احباب کو افطاری کیلئے بلاتے ہیں مگر غریبوں کو بلانا نہیں بھولتے۔ فیز ون میں افطاری کی ہمہ اقسام اشیاء واجبی داموں میں مل جائیں گی۔ یہاں کے اکثر لوگ ممبئی اور کوکن سے آئے ہیں۔ گھر کی خواتین افطاری کا سامان تیار کرکے فروخت کرتی ہیں اور گھریلو اخراجات میں شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ میری اہلیہ کے مطابق رمضان خاص طور سے چاند رات کو ایسا لگتا ہے کہ ہم بھنڈی بازار یا محمد علی روڈپر ہیں۔ یہاں کی ایک اہم بات مجھے اچھی لگی کہ مساجد بارہ مہینے آباد رہتی ہیں۔ اب ایک آخری بات سن لیجئے۔ افطار کا وقت قریب ہے۔ ایک شخص خاموشی سے میرے ہاتھ میں پھل اور دوسری چیزوں سے بھری تھیلی تھما کر چلا گیا۔ تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ یہاں پر چند لوگ راہگیروں کو روزانہ یہ تھیلی نذر کرتے ہیں۔