Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیسرا عشرہ، اعتکاف اور لیلۃ القدر کی تلاش

Updated: March 06, 2026, 3:29 PM IST | Shamsul Huque Nadvi | Mumbai

اعتکاف کامقصد اوراس کی اصل روح دل کو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات سے وابستہ کرلینا ہے۔ اعتکاف کرنے والااپنی ساری مشغولیتوں اور دنیا کے کاموں حتیٰ کہ مریض کی عیادت اور میت کے جنازہ تک میں نہیں جاتا بس اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ پر پڑا رہتا ہے، ذکر و تلاوت اور دُعا میں وقت گزارتا ہے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، روتا اور گڑگڑاتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم کوماہِ مبارک کی وہ پرانوار گھڑیاںحاصل ہیں جن میں رحمت ونوازش کی جھڑی لگتی رہتی ہے، عنقریب  اس کا آخری عشرہ  شروع ہونے والا ہے جوجہنم سے آزادی کا ہے، اس میں کچھ خوش نصیب بندے اعتکاف کریں گے کہ اعتکاف کا ثواب اور اس پر اللہ تعالیٰ کی عنایات بہت زیادہ ہیں، اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کابرابر اہتمام فرماتے تھے۔اعتکاف کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی کے دَر پر پڑجائے کہ جب تک کہ میری درخواست قبول نہ ہوگی یہاں سے نہیں ہٹوںگا، جو خوش نصیب بندہ سب کچھ چھوڑکراللہ تعالیٰ کے دروازہ  پر پڑجائے تو اس کے نواز ے جانے میں کیا شک ہوسکتا ہے ؟

یہ بھی پڑھئے: ماہِ رمضان میں بہت سی اعلیٰ صفات سے آپ اپنی شخصیت کو آراستہ کر سکتے ہیں

اعتکاف کامقصد اوراس کی اصل روح دل کو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات سے وابستہ کرلینا ہے۔ اعتکاف کرنے والااپنی ساری مشغولیتوں اور دنیا کے کاموں حتیٰ کہ مریض کی عیادت اور میت کے جنازہ تک میں نہیں جاتا بس اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ پر پڑا رہتا ہے، ذکر و تلاوت اور دُعا میں وقت گزارتا ہے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، روتا اور گڑگڑاتا ہے۔ بندہ کا رونا اور گڑگڑانا اللہ کو بہت پسند ہے، وہ خوش ہوتاہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرا مالک ہے جوگناہوں پر پکڑ کرتاہے اورگنا ہوں کو معاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی طرف پھیلے ہوئے بندہ کے ہاتھوں کو خالی واپس کرتے ہوئے شرماتا ہے لہٰذا بندہ کو قبولیت سے ناامید نہ ہونا چاہئے ۔

اعتکاف کے انہی مبارک دنوں میں وہ رات بھی آتی ہے جو ہزار راتوں سے بہتر ہے، اس رات کے شروع ہوتے ہی حضرت جبریل علیہ السلام آتے ہیں اور بے شمار فرشتے آسمان سے اترتے رہتے ہیں اور سلام و سکینہ کی یہ روح پرورفضا طلوع صبح تک قائم رہتی ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک طویل روایت ہے کہ: ’’شب قدرمیںاللہ تعالیٰ حضرت جبریلؑ کوحکم فرماتے ہیںا وروہ فرشتوں کے  ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پراترتے ہیں۔ حضرت جبریلؑ کے سوبازوہیں جن میں سے دوبازؤوں کو صرف اسی رات کھولتے ہیں جن کو مشرق ومغرب تک پھیلادیتے ہیں، اس کے بعد فرشتوں سے فرماتے ہیں جومسلمان آج کھڑا ہو یا بیٹھا ہو،نماز پڑھ رہاہو یا ذکررہاہو،اس کوسلام کریں ،مصافحہ کریں اور ان کی دعاؤں پرآمین کہیں۔ صبح تک یہی حالت رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اعتکاف کی نیت ہے؟احکام اور آداب ِ اعتکاف جان لیجئے

کوئی حدہے اس رحمت بے نہایت کی کہ مالک فرشتوں کواپنے مومن بندوں سے سلام ومصافحہ کاحکم دے رہاہے، پھر بھی ہم اس سے غفلت برتیں تویہ بڑی محرومی کی بات ہوگی، اس مبارک رات کو ذکروتلاوت، نوافل وتہجد میں گزارنا اور دعا و مناجات میں مشغول رہنااوراپنے گناہوں کی معافی کے لئے رونا گڑگڑانا بڑی سعادت کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کونوازنے ہی کے لئے یہ سارے بندوبست کئے ہیں، ان مبارک گھڑیوں سے فائدہ نہ اٹھاناصرف کھانے پینے اورتفریح بازی میں رات گزار دینا  (جیسا کہ ہمارے بہت سے نوجوان کرتے ہیں )بڑی محرومی کی بات ہوگی۔

یہی وہ رات ہے جس میں قرآن کریم آسمان دنیاپراتاراگیا جس کواللہ تعالیٰ اس طرح فرمارہاہے:’’بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب ِ قدر میں اتارا ہے، اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شب ِ قدر کیا ہے، شب ِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘ (سورہ القدر)

اوریہ رات رمضان المبارک ہی میں ہوتی ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نزول قرآن کے بارے میں فرماتاہے:’’رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں قرآن مجید اتاراگیا۔‘‘

پھر آسمان دنیا سے اللہ تعالیٰ حضرت جبریلؑ کے ذریعہ(قرآن مجید کو)  اپنی حکمت بالغہ کے مطالق دھیرے دھیر ے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارتا رہاکہ دلوں پراثرکرتا اور ان میں بستا چلاجائے، جس کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے: ’’وَنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیْلاً‘‘۔

یہ بھی پڑھئے: اہل جنت میں شامل ہونے کیلئے آج ہی اپنا احتساب کرلیجئے

خلاصہ یہ کہ لیلۃا لقدر جس کی یہ اہمیت ہے ،اس کی برکات سے فائدہ اٹھانے میں کوتاہی کرنااوراس سے غفلت برتنابڑی محرومی کی با ت ہے، کہاں یہ کہ فرشتوں کوحکم ہورہا ہے کہ بندئہ مومن نماز ، ذکروتلاوت، کھڑا بیٹھا جس حالت میں ہواس کو سلام کرو، مصافحہ کرو، اس کی دعاؤں پرآمین کہو، اور ادھر ہم ہیں کہ ایسی مبارک رات کو بلاعذرغفلت میں گزاردیں، ادھر ادھر کی بات میں لگے رہیں اور اپنا نقصان کرتے رہیں۔ اس سے بچنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اس کی قدرکرنے کی ہم کو توفیق دے،آمین۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK