اعتکافِ مسنون کا طریقہ یہ ہے کہ ۲۰ ؍ رمضان کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں داخل ہو جائے؛ کیونکہ غروب آفتاب ہی سے اکیسویں تاریخ شروع ہو جاتی ہے ۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 3:11 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai
اعتکافِ مسنون کا طریقہ یہ ہے کہ ۲۰ ؍ رمضان کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں داخل ہو جائے؛ کیونکہ غروب آفتاب ہی سے اکیسویں تاریخ شروع ہو جاتی ہے ۔
انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام۔ غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو، مملوک کیلئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کئے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد ِوجود قرار دیا گیا ۔
یہ بھی پڑھئے: اہل جنت میں شامل ہونے کیلئے آج ہی اپنا احتساب کرلیجئے
اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے۔ نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے، کبھی کمر تک جھکتا ہے، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے۔ زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے۔ روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے، روزہ دار کو دیکھئے! بھوکا ہے، پیاسا ہے، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے؛ لیکن خدا کی رضا اور خوشنودی کیلئے سب کچھ گوارا ہے، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ توڑنے سے عبارت ہے؛ لیکن بھو کا پیاسا رہنے کے باوجود روزہ کی حالت میں گھر سے، کار وبار سے اور لوگوں سے تعلق باقی رہتا ہے، محبت کا اوجِ کمال یہ ہے کہ آدمی ان تعلقات کو بھی خدا کے تعلق کے سامنے قربان کردے، اس کیلئے ماہِ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میںایک اورعبادت رکھی گئی ہے ، جسے ’’ اعتکاف ‘‘ کہتے ہیں ۔
اعتکاف کے معنی ٹھہر نے، پوری قوت سے کسی چیز کا ساتھ پکڑ لینے اور پکڑ رہنے کے ہیں۔ (الفقہ الاسلامی وأدلتہ: ۲؍۶۹۲ )۔ شریعت کے نقطۂ نظر سے یعنی شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف ایسی مسجد میں روزہ کے ساتھ قیام پذیر ہونے کا نام ہے جس میں جماعت ہوتی ہو۔ (در مختار مع الرد : ۳ ؍ ۴۲۹ ) گویا اعتکاف اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ پر سر رکھ دینے اور خدا کے دامن رحمت سے چمٹ جانے کا نام ہے کہ اب (بندہ) اپنی مراد حاصل کئے اور منزلِ مقصود کو پائے بغیر اس دَر کو نہیں چھوڑے گا۔ یہ مکمل حوالگی، خود سپردگی اور خدا کے تعلق کے مقابل تمام تعلقات سے برأت کا اظہار ہے؛ اسی لئے اعتکاف کی بڑی اہمیت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۴): کاش سب ایسا سوچیں کہ ’’وہ لوگ پرارتھنا ہی تو کررہے ہیں‘‘
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معتکف کے بارے میں فرمایا کہ وہ گناہوں سے بچا رہتا ہے، وہ اعتکاف سے باہر جو نیکیاں انجام دیتا تھا وہ نیکیاں بھی اس کیلئے لکھی جائیں گی۔ (ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۷۸۱) اللہ کے رسولؐ کو اعتکاف کا اس قدر اہتمام تھا کہ آپؐ ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور جس سال آپؐ نے دنیا سے پردہ فرمایا، اس سال دوسرے اور تیسرے دونوں عشروں کا اعتکاف فرمایا۔ (ابوداؤد، حدیث نمبر: ۲۴۶۶ ) ایک سال آپؐ اعتکاف نہیں فرما سکے تو اس کے بدلہ شوال میں دس دنوں کا اعتکاف فرمایا ۔
اعتکاف کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں: نفل، سنت اور واجب۔ اعتکافِ نفل کیلئے نہ روزہ ضروری ہے اور نہ وقت کی قید، صرف اعتکاف کی نیت ہونی چاہئے۔ تھوڑی دیر کیلئے بھی اعتکاف کی نیت سے مسجد میں قیام کرلے، نفل اعتکاف ہو جائیگا، ان شاء اللہ۔ (درّ مختار مع الرد : ۳ ؍ ۴۳۱) دوسری صورت واجب اعتکاف کی ہے۔ اعتکاف کے واجب ہونے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اعتکاف کی نذر مانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک دن یا اس سے زیادہ نفل اعتکاف کی نیت سے نفل اعتکاف شروع کیا ہو؛ لیکن مدت پوری ہونے سے پہلے اسے توڑ دیا تو اب جتنی مدت کی اس نے نیت کی تھی، شروع کرنے کےبعد توڑ دینے کی وجہ سے اتنے دنوں کا اعتکاف واجب ہو گیا۔ (بدائع الصنائع : ۲ ؍ ۲۷۳ ) اعتکافِ واجب کیلئے روزہ ضروری ہے؛ اس لئے کہ اعتکاف روزہ کے ساتھ ہی ہے ۔ (ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۲۴۷۳ )
یہ بھی پڑھئے: آج سورہ ٔانبیاء میں انبیاء کرام ؑ کے قصے اور سورۂ حج میں احکامِ حج سنئے
تیسری صورت جو اعتکاف کی اصل صورت ہے، وہ اعتکافِ سنت ہے۔ یہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف ہے، یہ سنت علی الکفایہ ہے، یعنی اگر شہر کے کچھ لوگوں نے اعتکاف کرلیا تو ثواب تو اعتکاف کر نے والے کو ہوگا؛ لیکن ترکِ اعتکاف کے گناہ سے سبھی لوگ بچ جائینگے، اور اگر بستی کے کسی بھی شخص نے اعتکاف نہیں کیا تو بستی کے تمام لوگ گنہگار ہونگے۔ (در مختار مع الرد : ۳ ؍ ۴۳۰ ) اگر ایک شہر میں کئی مسجدیں ہوں تو بہتر تو یہی ہے کہ کوئی بھی مسجد اعتکاف کرنے والوں سے خالی نہ ہو؛ لیکن اگر ایک مسجد میں بھی اعتکاف کر لیا جائے تو تمام اہل شہر ترکِ سنت کے گناہ سے بچ جائینگے؛ کیوں کہ اللہ کے رسولؐ کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں متعدد مسجدیں تھیں لیکن صرف مسجد نبوی ؐ ہی میں اعتکاف کا ذکر ملتا ہے، واللہ اعلم ۔
اعتکافِ مسنون کا طریقہ یہ ہے کہ ۲۰ ؍ رمضان کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں داخل ہو جائے؛ کیونکہ غروب آفتاب ہی سے اکیسویں تاریخ شروع ہو جاتی ہے اور اعتکاف کا ایک مقصد شب ِقدر کو پانا ہے اور اکیسویں شب کو شب ِقدر کا احتمال موجود ہے۔ اعتکافِ سنت میں حنفیہ کے نزدیک روزہ ضروری نہیں، اگر کوئی شخص روزہ رکھنے سے معذور ہو، پھر بھی وہ اعتکاف کر سکتا ہے ۔ (بدائع الصنائع : ۲ ؍ ۲۷۴ )
اعتکاف کے درست ہو نے سے متعلق کچھ شرطیں اعتکاف کر نے والے سے متعلق ہیں اور کچھ اس جگہ سے متعلق جہاں اعتکاف کیا جائے۔ اعتکاف کرنے والے سے متعلق شرط ہے کہ وہ مسلمان ہو، بالغ ہو، فاتر العقل نہ ہو، جنابت ، حیض اور نفاس سے پاک ہو، نیز اعتکاف کی نیت کی جائے۔ (بدائع الصنائع : ۲ ؍ ۲۷۴ ) اگر کسی نیت کے بغیر مسجد میں ٹھہر جائے، تو اعتکاف درست نہیں ہو گا ۔ (ہندیہ : ۱ ؍ ۲۱۱ )
یہ بھی پڑھئے: استغفار روح کی سسکی ہے جو عرش الٰہی کے کنگوروں تک پہنچتی ہے!
مقامِ اعتکاف مردوں کیلئے مسجد ہے ، حنفیہ کا قول تو یہ ہے کہ کسی بھی مسجد میں اعتکاف کیا جاسکتا ہے، قول مشہور یہ ہے کہ اعتکاف پنج گانہ جماعت والی مسجد میں ہونا چاہئے۔ (ہندیہ : ۱ ؍ ۲۱۱ ) عورتوں کیلئے چوں کہ گھر ہی مسجد کے حکم میں ہے اور ان کو گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے؛ اس لئے وہ گھر میں ہی اعتکاف کریں گی، اگر گھر میں کسی جگہ کو نماز کیلئے مخصوص رکھا ہو تو وہی جگہ اعتکاف کیلئے ہوگی۔ (بدائع الصنائع : ۲ ؍ ۲۸۱ ) اور اگر کوئی جگہ نماز کیلئے متعین نہ ہو تو گھر میں کسی جگہ کو نماز اور اعتکاف کیلئے مخصوص کر کے عورتیں وہاں اعتکاف کریں گی، پھر اعتکاف کرنے والی خاتون کے لئے ناگزیر انسانی ضرورت کے بغیر اس جگہ سے نکل کر گھر کے دیگر حصوں میں جانا درست نہیں ہو گا۔ (بدائع الصنائع: ۲ ؍ ۲۸۴ )۔ عورت کیلئے یہ ضروری ہے کہ شوہر کی اجازت سے اعتکاف کرے۔ (ہندیہ : ۱ ؍ ۲۱۱ ) نابالغ با شعور لڑکا یا لڑکی بھی اعتکاف کر سکتے ہیں۔ (ہندیہ : ۱ ؍ ۲۱۱ )
اعتکاف کے آداب میں یہ بھی ہے کہ سوائے اچھی بات کے دوسری باتیں نہ کرے۔ اعتکاف کے درمیان تلاوتِ قرآن مجید، حدیث کا درس و مطالعہ ، علمی مذاکرہ، سرکار دو عالمؐ، انبیاء کرامؑ اور اولیاء اللہ کی سیرت کا مطالعہ کرے۔ دینی مضامین بھی قلمند کئے جاسکتے ہیں۔(ہندیہ : ۱۱ ؍ ۲۱۲ )
معتکف کا اعتکاف کی جگہ سے بلا ضرورت باہر نکلنا درست نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک تھوڑی دیر کیلئے بھی بلا ضرورت و عذر نکلے تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا؛ البتہ امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک اگر آدھے دن سے زیادہ مسجد سے باہر رہے تب اعتکاف فاسد ہو تا ہے، اس سے کم میں نہیں۔ (بدائع الصنائع : ۲ ؍ ۲۸۴ ) چونکہ رمضان المبارک کا اعتکاف اعتکافِ مسنون ہے اوراس میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ یہ اعتکاف نفل کے درجہ میں یا شروع کر نے کے بعد اعتکافِ واجب کے حکم میں؟ (درّ مختار و ردّ المحتار : ۳ ؍ ۴۳۶) اور اعتکافِ نفل میں جائے اعتکاف سے باہر نکلنے کی گنجائش ہوتی ہے؛ اس لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف میں امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کی رائے پر بھی بوقت ِضرورت عمل کیا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم ۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۳): مسجدوں میں جگہ، کرسی اور قرآن کریم کے نسخے…
معتکف کپڑے بدل سکتا ہے، خوشبو لگا سکتا ہے، سر میں تیل رکھ سکتا ہے، ضروری گفتگو کر سکتا ہے؛ البتہ اسے سب وشتم اور لڑائی جھگڑوں سے بچنا چاہئے ؛ لیکن ایسا ہوجائے تو اس کی وجہ سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا ۔ (حوالۂ سابق )
عذر کی وجہ سے مسجد سے باہر جایا جاسکتا ہے۔ عذر سے مراد ہے پیشاب، پائخانہ ، اگر جامع مسجد نہ ہو تو جمعہ کیلئے جانا، اگر کوئی کھانا پہنچانے والا نہ ہو تو کھانے کیلئے نکلنا وغیرہ، ان مقاصد کیلئے مسجد سے باہر کام کیلئے مطلوبہ وقت کے بقدر نکلا جاسکتا ہے۔ (ردّ المحتار : ۳ ؍ ۴۳۸، ہندیہ : ۱ ؍ ۲۱۲ ۶) مریض کی عیادت، نمازِ جنازہ اور مسجد سے باہر بیان و اجتماع میں جانا درست نہیں، ہاں اگر اعتکافِ واجب ہو اور نذر ماننے کے وقت ان امور کو مستثنیٰ کرلیا ہو، تب ان مقاصد کیلئے نکلنے کی گنجائش ہے ۔ (ردّ المحتار : ۳؍ ۴۳۹ )