Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاموش نیکیوں کا لطف!

Updated: July 17, 2026, 4:01 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

کیا ہم نے سوچا کہ ہماری کچھ نیکیاں ایسی ضرور ہوں جنہیں کوئی کیمرہ محفوظ نہیں کرے گا، کوئی خبر شائع نہیں کرے گی، کوئی تعریف بیان نہیں کرے گی، بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوں!

Good deeds retain their true beauty as long as their purpose is solely the pleasure of Allah Almighty. Photo: INN
اچھے کام اس وقت تک اپنی حقیقی خوبصورتی برقرار رکھتے ہیں جب تک ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ تصویر: آئی این این

خاموش نیکیوں کا جو لطف، سکون اور روحانی سرور ہے، اگر انسان کو اس کا حقیقی ادراک ہو جائے تو وہ کبھی اپنی نیکیوں کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بندہ جب صرف اپنے رب کی رضا کیلئے کسی ضرورتمند کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتا ہے، کسی مجبور کا سہارا بنتا ہے یا کسی کے آنسو خاموشی سے پونچھتا ہے، تو اس کے دل میں جو اطمینان، قلبی سرور اور اللہ تعالیٰ سے قرب کا احساس پیدا ہوتا ہے، وہ دنیا کی تمام تعریفوں، داد و تحسین اور شہرت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اچھے کاموں کو منظرِ عام پر لانا اب اکثر لوگوں کی عادت سی بن گئی ہے۔ اب ہر نیکی والے عمل کے ساتھ کیمرہ آن ہو جاتا ہے اور چند لمحوں بعد اس عمل کا عکس  ہزاروں لوگوں تک  پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ بعض مواقع پر دوسروں کو نیکی کی ترغیب دینے کی نیت بھی شامل ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات اس طرزِ عمل میں کسی نہ کسی درجے میں اخلاص کی روح متاثر ہو جاتی ہے۔ وہ کام جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کے لئے ہونا چاہئے تھا، وہ تعریف، پسندیدگی ، تبصروں اور شہرت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: قرآن مجید کی وہ آیت جسے سن کر حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ رو پڑے تھے

یہ سچ ہے کہ اچھے کام اس وقت تک اپنی حقیقی خوبصورتی برقرار رکھتے ہیں جب تک ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ لیکن جب انسان نیکیوں کو تجارت، شہرت، مقبولیت یا اپنی پہچان کا ذریعہ بنا تا ہے تو وہ عمل اپنی اصل اہمیت و افادیت کھو دیتا ہے۔ بظاہر وہی صدقہ، وہی خدمت، وہی تعاون اور وہی عبادت باقی رہتی ہے، مگر اس کے باطن سے اخلاص کی خوشبو رخصت ہو جاتی ہے۔ اسی لئے دانا لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اخلاص ایسا خزانہ ہے جو چھپانے سے بڑھتا ہے اور دکھانے سے گھٹ جاتا ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دنیا کی نگاہوں میں بڑا بننے کی خواہش انسان کو اللہ کی بارگاہ میں چھوٹا کر سکتی ہے، جبکہ اللہ کے لئے چھپ کر کیا گیا معمولی سا عمل بھی قیامت کے دن پہاڑوں سے زیادہ وزنی ثابت ہو سکتا ہے۔

انسان کی اسی کمزوری اور شہرت پسندی کے پیشِ نظر شریعتِ اسلامیہ نے خاموش نیکیوں کی غیر معمولی ترغیب دی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا... ان میں ایک وہ شخص بھی ہوگا جس نے اس قدر پوشیدہ طریقے سے صدقہ کیا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے جو دیا، اس کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ ہوئی۔‘‘ ( مسلم) یہ محض ایک اندازِ بیان نہیں بلکہ اخلاص کی بلند ترین تصویر ہے کہ انسان اپنے عمل کو اس قدر چھپا کر انجام دے کہ گویا خود بھی اس کا چرچا نہ کرے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ نیکی سب سے زیادہ محبوب ہے جو دکھاوے سے پاک، اخلاص سے معمور اور صرف اس کی رضا کے لئے ہو۔ ایسی نیکیاں اگرچہ زمین پر خاموش رہتی ہیں، مگر آسمانوں میں ان کا چرچا ہوتا ہے اور قیامت کے دن یہی خاموش اعمال انسان کیلئے سایۂ رحمت بن جائینگے۔

یہ بھی پڑھئے: بعثت ِ رسولؐ کی حکمت سورۂ جمعہ کی روشنی میں سمجھئے!

 اس لیئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نیکیوں کا گواہ لوگوں کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بنائیں، کیونکہ دنیا کی واہ واہ چند لمحوں کی ہوتی ہے، جبکہ اللہ کی رضا ہمیشہ باقی رہنے والی نعمت ہے۔

خاموش نیکیوں کی مثالیں ہماری روزمرہ زندگی میں بے شمار ہیں۔ کسی غریب کے دروازے پر رات کی تاریکی میں راشن رکھ کر خاموشی سے واپس آ جانا، کسی یتیم بچے کا خرچ اٹھانا مگر اپنا نام ظاہر نہ کرنا، کسی مقروض کا قرض چپکے سے ادا کر دینا، کسی بیمار کی دوا کا انتظام اس طرح کرنا کہ اسے دینے والے کا علم نہ ہو، کسی طالب علم کی فیس ادا کر دینا، مسجد کے اخراجات میں خفیہ تعاون کرنا، کسی بیوہ کی کفالت کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا، کسی پریشان حال شخص کیلئے رات کے آخری پہر آنسوؤں کے ساتھ دعا کرنا، یا کسی کی عزت بچانے کے لئے اس کی خاموش مدد کرنایہ سب ایسی نیکیاں ہیں جن کی گواہی صرف اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ 

خاموش نیکیوں کی عادت یک دم پیدا نہیں ہوتی بلکہ مسلسل تربیت، محاسبۂ نفس اور اخلاص کی مشق سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کی ابتدا اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی عظمت سے بھرنے سے ہوتی ہے۔ جب بندہ یہ یقین پیدا کر لیتا ہے کہ اصل اجر دینے والا صرف اللہ ہے تو پھر لوگوں کی تعریف کی خواہش خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔ اس عادت کو اپنانے کیلئے ضروری ہے کہ انسان روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی نیکی ضرور کرے جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہ ہو۔ قرآنِ کریم کی خاموش تلاوت، تہجد کی نماز، پوشیدہ صدقہ، کسی کے لئے بے نام دعا، یا کسی کی مشکل آسان کرنا یہ سب اخلاص کی تربیت کرتے ہیں۔ اس راہ میں انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرامؓ، تابعین، سلفِ صالحین اور اللہ والوں کی سیرت بہترین نمونہ ہے۔ ان کے حالات کا مطالعہ کیجیے، ان کی زندگیاں دیکھئے، آپ کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے اپنی نیکیوں کا چرچا نہیں کیا، بلکہ انہیں اپنے اور اپنے رب کے درمیان ایک راز بنائے رکھا۔ 

 آئیے عہد کریں کہ ہماری نیکیاں ایسی ہوں گی جنہیں کوئی کیمرہ محفوظ نہیں کریگا، کوئی خبر شائع نہیں کرے گی، کوئی تعریف بیان نہیں کرے گی، بلکہ وہ صرف اللہ کے علم میں ہوں گی۔ ایسی ہی نیکیاں اللہ کی خوشنودی کا سبب بنتی ہیں!

یہ بھی پڑھئے: کہانی، بچے کی شخصیت میں اعلیٰ اقدار کے پودے اگاتی ہے،ماضی و حال سے اس کے رشتوں کو مضبوط کرتی ہے

خاموش نیکیوں کے فوائد

*ان میں اخلاص محفوظ رہتا ہے اور اخلاص ہی ہر عمل کی جان ہے۔ *ایسی نیکیاں ریاکاری سے بچاتی ہیں، دل میں عاجزی پیدا کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرتی ہیں اور بندے کو باطنی سکون عطا کرتی ہیں۔ *خاموش نیکی کرنے والا تعریف کا محتاج نہیں رہتا بلکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا رب اس کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔ یہی یقین انسان کو مسلسل خیر کی طرف بڑھاتا ہے۔ *خاموش نیکیاں معاشرے میں محبت، اعتماد اور خیر خواہی کو فروغ دیتی ہیں، کیونکہ ان کا مقصد احسان جتلانا نہیں بلکہ دکھ درد بانٹنا ہوتا ہے۔ یہ اعمال دل کو نرم کرتے ہیں، دعاؤں کو قبولیت کے قریب لاتے ہیں، مصیبتوں کو ٹالتے ہیں اور انسان کو تکبر اور خودنمائی جیسی مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن بھی یہی اعمال بندے کیلئے نور، رحمت اور نجات کا ذریعہ بنیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK