زندگی کی رفتار جتنی تیز ہوتی جارہی ہے، انسان کی شکایتیں بھی اتنی ہی بڑھتی جارہی ہیں۔ کبھی زبان پر یہ جملہ ہوتا ہے کہ کام بہت زیادہ ہے، کبھی یہ کہ طبیعت ساتھ نہیں دے رہی ہے، کبھی تھکن کا بہانہ سامنے آتا ہے اور کبھی کسی نئے مسئلے کو رکاوٹ بنا لیا جاتا ہے۔
خواب ان لوگوں کا مقدر بنتے ہیں جو ہر روز اپنے مقصد کیلئے ایک قدم بڑھاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
زندگی کی رفتار جتنی تیز ہوتی جارہی ہے، انسان کی شکایتیں بھی اتنی ہی بڑھتی جارہی ہیں۔ کبھی زبان پر یہ جملہ ہوتا ہے کہ کام بہت زیادہ ہے، کبھی یہ کہ طبیعت ساتھ نہیں دے رہی ہے، کبھی تھکن کا بہانہ سامنے آتا ہے اور کبھی کسی نئے مسئلے کو رکاوٹ بنا لیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر اوقات وقت کی کمی اصل مسئلہ نہیں ہوتی، بلکہ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دل آمادہ نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ بڑے خواب رکھتے ہیں، نئی مہارتیں سیکھنا چاہتے ہیں، اپنی زندگی میں نمایاں تبدیلی لانا چاہتے ہیں، مگر خواہش اور عمل کے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی ہوجاتی ہے جسے وہ چاہ کر بھی عبور نہیں کر پاتے۔ سوال یہ نہیں کہ انسان کیا کرنا چاہتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ وہی کام کیوں نہیں کر پاتا جسے وہ اپنی کامیابی کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔
انسان کی زندگی پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رکاوٹیں بنیادی طور پر دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو باہر کی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں، جیسے معاشی تنگی، گھریلو ذمہ داریاں، بیماری یا دیگر ناگزیر حالات۔ دوسری وہ رکاوٹیں ہیں جو انسان کے اپنے اندر جنم لیتی ہیں؛ جیسے سستی، بے دلی، منتشر خیالات، وقتی جذبات یا موڈ کا بدل جانا۔ پہلی قسم کی رکاوٹیں کبھی واقعی انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں، لیکن دوسری قسم کی رکاوٹیں وہ ہیں جن پر انسان اگر چاہے تو آہستہ آہستہ قابو پا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دُنیا کی متاعِ حقیر کیلئے آخرت کا سودا کرلینا فائدہ نہیں ، نقصان عظیم ہے
یہ حقیقت ہے کہ حالات ہمیشہ انسان کے موافق نہیں ہوتے۔ کبھی وقت ساتھ نہیں دیتا، کبھی وسائل کم پڑ جاتے ہیں اور کبھی زندگی ایسے امتحانات میں ڈال دیتی ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا گیا ہوتا۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ آسان حالات میں انجام نہیں دیے گئے۔ اگر صرف سازگار حالات ہی کامیابی کی شرط ہوتے تو دنیا میں کوئی عظیم شخصیت مشکلات کے درمیان پروان نہ چڑھتی۔ اصل فرق حالات میں نہیں بلکہ اس رویے میں ہوتا ہے جس کے ساتھ انسان ان حالات کا سامنا کرتا ہے۔
بعض اوقات انسان اپنے حالات کو اپنی ناکامی کی واحد وجہ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ اگر وہ دیانت داری سے اپنے دن کا جائزہ لے تو معلوم ہوگا کہ اس کا بڑا حصہ ان کاموں میں گزر گیا جن کا اس کے مقصد سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہت سی رکاوٹیں باہر سے زیادہ اندر موجود ہوتی ہیں۔ انسان کا نفس ہمیشہ آسانی چاہتا ہے، جبکہ ترقی کا راستہ مسلسل محنت، نظم اور قربانی سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو شخص ہر روز اپنے جذبات کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ کبھی مستقل مزاج نہیں بن سکتا، اور جو اپنے فیصلوں کو اصولوں کے تابع کر دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی کمزوریوں پر غالب آ جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ایک کسان صرف اس دن کھیت میں جائے جب اس کا دل چاہے، یا ایک طالب علم صرف اس وقت کتاب کھولے جب طبیعت خوش ہو، یا ایک معمار صرف اچھے موڈ میں عمارت بنائے، تو کیا کوئی فصل تیار ہوگی، کوئی علم حاصل ہوگا یا کوئی مضبوط عمارت کھڑی ہوسکے گی؟ زندگی کا ہر بڑا نتیجہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ مستقل مزاجی، وقتی خواہش سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ یہی اصول انسان کی ذاتی ترقی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔اسی لئے کامیاب لوگ اپنے موڈ کے مطابق زندگی نہیں گزارتے بلکہ اپنے معمول کے مطابق گزارتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ طبیعت ہر روز یکساں نہیں رہتی۔ کبھی دل چاہتا ہے، کبھی نہیں چاہتا؛ کبھی جسم میں طاقت ہوتی ہے، کبھی تھکن غالب آجاتی ہے۔ اگر ہر فیصلہ ان بدلتے ہوئے احساسات کے حوالے کردیا جائے تو انسان اپنی منزل سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر ایک معین وقت، واضح منصوبہ اور روزانہ کا معمول طے کر لیا جائے تو رفتہ رفتہ وہی معمول انسان کی دوسری طبیعت بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن مجید کی وہ آیت جسے سن کر حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ رو پڑے تھے
معمول کی طاقت کو معمولی سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔ دریا اپنے زور سے نہیں بلکہ مسلسل بہاؤ سے راستہ بناتا ہے۔ قطرہ قطرہ پانی سخت پتھر پر بھی نشان چھوڑ دیتا ہے۔ درخت ایک دن میں سایہ دار نہیں بنتا بلکہ برسوں کی خاموش نشوونما کے بعد مضبوط ہوتا ہے۔ یہی اصول انسانی شخصیت پر بھی صادق آتا ہے۔ روزانہ کی تھوڑی سی محنت، وقتی جوش کی طویل منصوبہ بندی سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔یقیناً بعض دن ایسے بھی آتے ہیں جب حالات معمول کو توڑ دیتے ہیں۔ کوئی مجبوری، بیماری یا ناگزیر ذمہ داری انسان کو اپنے منصوبے سے دور کر دیتی ہے۔ مگر اصل کامیابی یہ نہیں کہ کبھی رکاوٹ نہ آئے، بلکہ یہ ہے کہ رکاوٹ کے بعد انسان دوبارہ اپنے راستے پر لوٹ آئے۔
حقیقت یہ ہے کہ خواب صرف خواہشوں سے پورے نہیں ہوتے۔ خواب ان لوگوں کا مقدر بنتے ہیں جو ہر روز اپنے مقصد کے لئے ایک قدم بڑھاتے ہیں، چاہے وہ قدم کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ عزم اس وقت معتبر بنتا ہے جب وہ عمل کی صورت اختیار کرے، اور عمل اسی وقت باقی رہتا ہے جب اسے نظم و ضبط کا سہارا مل جائے۔ اس لئے جب بھی دل یہ کہے کہ آج طبیعت نہیں ہے، آج تھکن بہت ہے، یا آج کا کام کل پر چھوڑ دیتے ہیں، تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ منزل تک پہنچنے والے لوگ اپنے موڈ کا انتظار نہیں کرتے، بلکہ اپنے مقصد کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھتے ہیں۔