Inquilab Logo Happiest Places to Work

وقت کا صحیح استعمال زندگی کے ہر شعبے میں مطلوب ہے

Updated: February 02, 2024, 1:34 PM IST | Allama Ibtisam Elahi Zaheer | Mumbai

انسان کو اپنے اوقات میں سے ایک حصہ انسانیت کی خدمت کے لئے بھی وقف کرنا چاہئے۔ قرآنِ مجید میں جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی عبادت اور اعزہ و اقارب کے حقوق کا ذکر کیا وہیں مختلف مقامات پر مساکین، غربا، مفلوک الحال طبقات اور یتیموں کی مدد کا بھی ذکر کیا ہے۔

Understanding the value of time and making arrangements for its proper use is very important nowadays. Photo: INN
وقت کی قدر و قیمت کو سمجھنا اور اس کے درست استعمال کے لئے خد و خال مرتب کرنا فی زمانہ انتہائی ضروری ہے۔ تصویر : آئی این این

وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ وقت کو درست طریقے سے استعمال کرنے والے لوگ دنیا و آخرت کی بھلائیوں کو سمیٹ لیتے ہیں جبکہ وقت کو ضائع کرنے والے لوگ دنیا و آخرت میں ناکام و نامراد ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے وقت کو درست طریقے سے استعمال کیا وہ تاریخ کا حصہ بن گئے اور جن لوگوں نے اپنے وقت کو برباد کر دیا، ان کا نام و نشان ہمیشہ کے لئے تاریخ کی دبیز تہوں میں دب کر رہ گیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ہر انسان کے لئے وقت کی ایک مخصوص مقدار مقرر کی گئی ہے جس کے بعد انسان کو پلٹ کر اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے۔ جو لوگ وقت کی اہمیت کو سمجھ جاتے ہیں وہ اس کا درست استعمال کرکے دنیا میں اپنے معاملات کو سلجھانے کے ساتھ ساتھ پروردگارِ عالم کی قربت کو حاصل کرنے کے لئے بھی تیاری کرتے رہتے ہیں۔ اس کے مدمقابل بہت سے لوگ وقت کو فقط اپنے مفادات اور اپنی ذات کی سربلندی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ نہ تو انسانوں کے حقوق کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں اور نہ ہی اللہ تبارک وتعالیٰ کے حقوق کو ادا کرتے ہیں۔ 
 جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ایسی بہت سی عظیم ہستیاں ملتی ہیں جنہوں نے تقویٰ، للہیت، دعوت و تبلیغ اور اصلاح کے فریضے کو انجام دے کر اپنے آپ کو سربلند کیا اور لوگ ہمیشہ ادب و احترام سے ان کا نام لیتے رہے۔ اس کے مدمقابل ایسے لوگ بھی دنیا میں گزرے جنہوں نے ظلم، بربریت، استحصال اور استیصال کے راستے کو اختیار کیا اور تاریخ کے اوراق میں نشانِ عبرت بن گئے۔ انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے سب سے منتخب، برگزیدہ اور چنیدہ ہستیاں تھیں جنہوں نے وقت کے ہر ہر لمحے کو درست طریقے سے استعمال کیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی جدوجہد کو اس انداز سے قبول کیا کہ آنے والی نسلیں بھی ان کی تعظیم اور ادب کی پابند ہو گئیں۔ انبیاء کرام علیہم السلا م کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اپنے وقت کا درست استعمال کیا اور زمین پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کے پرچم کو سربلند کرنے کیلئے اپنی جان، مال اور اسباب کی قربانیاں دیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد بھی بہت سے ایسے لوگ گزرے جنہوں نے وقت کی قدر کو پہچانا اور علم و عمل کیلئے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا۔ تاریخ میں بہت سے ایسے ائمہ بھی گزر ے ہیں جنہوں نے سیکڑوں کتابیں تحریر کرکے علمِ دین کی خدمت کی اور آنے والی نسلوں کو یہ بات سمجھائی کہ وقت کو کس انداز سے استعمال کرنا چاہئے۔ 
آج کا نوجوان وقت کو ضائع کرتا نظر آتا ہے اور اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں کو غلط طور استعمال کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ مجموعی طور پر معاشرہ اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ وقت کی قدر و قیمت کو سمجھنا اور اس کے درست استعمال کے لئے خد و خال مرتب کرنا فی زمانہ انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ ہمیں اپنے وقت کو درست انداز میں کس طرح استعمال کرنا چاہئے اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں :
اللہ تعالیٰ کی عبادت: انسان کو درحقیقت اس دنیا میں اللہ کی عبادت اور اس کی معرفت کے حصول کیلئے بھیجا گیا ہے:’’اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔ ‘‘ (الذاریات: ۵۶) 
انسان کی توجہات اورصلاحیتوں کا اصل ہدف اللہ کی بندگی ہونا چاہئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کو بجا لانے کیلئے نبی کریمﷺ نے بہترین انداز میں انسانوں کی راہ نمائی فرمائی اور عبادات کے اُن طریقوں سے آگاہ کیا جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے انسانوں کیلئے مقرر کئے گئے ہیں۔ ’’نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ‘‘ یہ تمام کے تمام فرائض انسانوں پر وقت کی مقدار کے اعتبار سے عائد کئے گئے۔ انسان کو ہر روز نمازِ پنجگانہ ادا کرنا چاہئے، سال میں ایک ماہ کے روزے رکھنے چاہئیں اور (صاحب ِ نصاب کو) سال میں ایک مرتبہ اپنے مال کے حساب سے زکوٰۃ کو ادا کرنا چاہئےاور اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ کی توفیق سے زندگی میں ایک مرتبہ حج بھی ادا کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سی نفل عبادات کی طرف بھی انسانوں کی راہ نمائی کی گئی۔ تلاوتِ قرآن مجید، ذِکر الٰہی، دعا، مناجات، توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی قربت کے مدارج کو طے کر سکتا ہے۔ 
اتباعِ رسولﷺ: انسان کو جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی اور عبادات کو احسن طریقے سے بجا لانا چاہیے وہیں نبی کریمﷺ کی اتباع سے اپنے معاملات اور اخلاقیات کو سنوارنا چاہئے۔ نبیؐ کریم نے انسانوں کو زندگی گزارنے کے خوبصورت طریقے بتلائے ہیں۔ 
اگر انسان اُن طریقوں پر عمل کرے تو وہ ایک اعلیٰ اور معیاری زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو احسن طریقے سے ادا کرنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ جو لوگ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن کو برقرار رکھتے اور دین و دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یقیناً وہ خوش نصیب ہیں۔ اللہ کے حبیب ﷺ نے انسانوں کوسچائی، امانت، دیانت، حیاداری اور وعدوں کو نبھانے کی تلقین کی اور اُن کو اعلیٰ اخلاقی اقدار سے روشناس کرایا۔ آپﷺ کی آمد سے قبل لوگ انانیت، خودپسندی، گھمنڈ، حسد اور دیگر اخلاقی برائیوں کا شکار تھے۔ نبی کریمﷺ نے اُن کو ایثار، قربانی اور خیر خواہی کا درس دے کر بنی نوع انسان کے لئے مفید بنانے کے تمام راستے واضح فرما دیئے۔ اتباع رسولﷺ کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کے گناہوں کو معاف کرتے اور اُن کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں۔ چنانچہ سورۂ آلِ عمران کی آیت ۳۱؍میں ارشاد ہوا ’’کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا‘ نہایت مہربان ہے۔ ‘‘
حصولِ علم پر توجہ: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اس بات کو واضح کیا کہ علم، اللہ کی بہت بڑی عطا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کو حکومت بخشنے کا ذکر کیا وہیں خصوصیت سے سورۃ النمل کی آیت ۱۵؍ میں اس بات کا علاحدہ سے ذکر کیا کہ ’’اور بلاشبہ ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا فرما یا تھا۔ ‘‘ اسی طر ح سورۃ الزمر کی آیت ۹؍ میں فرمایا گیا’’کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں ؟ ‘‘ ان آیاتِ مبارکہ سے اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ صاحبِ علم لوگوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بے علم لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ 
مفید معاشی سرگرمیاں : انسانوں کو اپنی معیشت بہتر بنانے اور حلال رزق کمانے کے لئے اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں کو بھرپور انداز سے صرف کرنا چاہئے۔ کسب ِ حلال کے لئے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے انسان بیچارگی، بے کسی اور مفلسی سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے بھی قابل ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مال کی فراوانی اور وسعت کی وجہ سے انسان غریب اور مفلوک الحال طبقے کے کام آنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ انسان کو اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لانا چاہئے۔ 
انسانیت کی خدمت: انسان کو اپنے اوقات میں سے ایک حصہ انسانیت کی خدمت کے لئے بھی وقف کرنا چاہئے۔ قرآنِ مجید میں جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی عبادت اور اعزہ و اقارب کے حقوق کا ذکر کیا وہیں مختلف مقامات پر مساکین، غربا، مفلوک الحال طبقات اور یتیموں کی مدد کا بھی ذکر کیا ہے۔ صاحبِ حیثیت، بااثر طبقات اور متوسط زندگی گزارنے والے طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گرد و نواح پہ نظر ڈالیں اورجو لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان کی معاونت کریں۔ 
 اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اوقات کو درست طریقے سے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK