Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے وہاٹس ایپ پر اردو نظم شیئر کرنے پر ٹیچر کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کر دی

Updated: May 09, 2026, 2:13 PM IST | Bhopal

بنچ نے نوٹ کیا کہ یہ نظم اردو ادب کے ہندوستانی پلیٹ فارمز پر عوامی سطح پر دستیاب ہے اور اسے بین الاقوامی اردو ادبی میلے میں بھی پڑھا جا چکا ہے۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ ایف آئی آر ایسا کوئی مواد پیش کرنے میں ناکام رہی جس سے یہ ظاہر ہو کہ اس پوسٹ نے برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دیا یا امنِ عامہ کو خراب کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے واٹس ایپ پر اردو نظم شیئر کرنے پر سرکاری اسکول کے ٹیچر کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کردیا ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ نفرت یا تشدد پر اکسانے کے کسی ارادے کے بغیر محض ایک نظم پوسٹ کرنا، سماجی دشمنی کو فروغ دینے یا عوامی شرپسندی کے زمرے میں نہیں آتا۔ 

جسٹس بی پی شرما نے فیصلہ سنایا کہ ٹیچر فیضان انصاری کی جانب سے پاکستانی شاعر شعیب کینی کی لکھی ہوئی اردو نظم ”بے حیا“ شیئر کرنے کے عمل کو نفرت انگیز تقریر کے طور پر تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ’لائیو لاء‘ کے مطابق عدالت نے مزید کہا کہ ”درخواست گزار کا اضافی تبصرے یا اکسانے کے ارادے کے بغیر شعری کلام شیئر کرنے کا عمل، دشمنی کو فروغ دینے یا عوامی شرپسندی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔“

یہ بھی پڑھئے: پرواز میں جے شری رام کے نعرے لگائے گئے، مہوا موئترا نے ہراسانی کا الزام عائد کیا

اس کیس کی بنیاد فیضان انصاری کی جانب سے ۲۲ جولائی ۲۰۲۵ء کو پوسٹ کئے گئے واٹس ایپ اسٹیٹس سے پڑی، جس میں انہوں نے اردو نظم ”بے حیا“ کا ویڈیو شیئر کیا تھا۔ پولیس نے بعد میں انہیں طلب کیا اور ان کا موبائل فون ضبط کرلیا۔ بعد ازیں، ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ یہ نظم قابلِ اعتراض، زن بیزاری پر مبنی اور ایک استاد کی حیثیت سے نامناسب ہے۔ انصاری نے ایف آئی آر منسوخ کرانے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کی کارروائی کے بعد انہیں دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

سماعت کے دوران، عدالت نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا تبصرے یا اشتعال انگیزی کے بغیر شعری کلام پوسٹ کرنا ’بھارتیہ نیاۓ سنہیتا‘ (بی این ایس) کی دفعہ ۳۵۳(۲) کے تحت مجرمانہ ذمہ داری کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ دفعہ عوامی شرپسندی پر مبنی بیانات سے متعلق ہے۔ 

بنچ نے نوٹ کیا کہ یہ نظم اردو ادب کے ہندوستانی پلیٹ فارمز پر عوامی سطح پر دستیاب ہے اور اسے بین الاقوامی اردو ادبی میلے میں بھی پڑھا جا چکا ہے۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ ایف آئی آر ایسا کوئی مواد پیش کرنے میں ناکام رہی جس سے یہ ظاہر ہو کہ اس پوسٹ نے برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دیا یا امنِ عامہ کو خراب کیا۔

یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: خاتون آئی پی ایس افسر کا خفیہ آپریشن، سادہ لباس میں سڑک پر نکلیں

عدالت نے کہا کہ ”نظم کا مجموعی مطالعہ اسے اس طرح سے توہین آمیز سمجھنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا جیسا کہ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے۔“ عدالت نے مزید کہا کہ نظم میں کسی مذہب، فرقے یا برادری کا براہِ راست یا بالواسطہ کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے زور دیا کہ تقریر سے متعلق مجرمانہ جرائم کی بنیاد شخصی تصورات یا فرضی خدشات پر نہیں رکھی جا سکتی اور اس کیلئے تشدد یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے ارادے کے واضح ثبوت درکار ہوتے ہیں۔

عدالت نے آخر کار انصاری کے خلاف ایف آئی آر اور تمام متعلقہ کارروائیوں کو منسوخ کر دیا۔ عدالت نے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ضرورت پڑنے پر ٹیچر کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی اور حکام کو ان کا ضبط شدہ موبائل فون واپس کرنے کا حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK