• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیکیوں کے اس موسم کو اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیں

Updated: February 20, 2026, 6:11 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ وحدتِ اُمت کا جیتا جاگتا منظر ہے، جہاں پوری مسلم دنیا ایک ہی روحانی فضا میں سانس لیتی اور ایک ہی تسبیح کے دانوں کی طرح ایک مرکز کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمان ایک ہی کیفیت، ایک ہی جذبے اور ایک ہی احساس کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ سب ایک ہی وقت سحری کی برکتوں سے مستفید ہوتے اور ایک ہی شوق سے افطار کی ساعتوں کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جو رنگ و نسل، زبان و وطن اور مسلک و معاشرت کی تمام سرحدوں کو مٹا کر دلوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ گویا رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ وحدتِ اُمت کا جیتا جاگتا منظر ہے، جہاں پوری مسلم دنیا ایک ہی روحانی فضا میں سانس لیتی اور ایک ہی تسبیح کے دانوں کی طرح ایک مرکز کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔
قرآنی آیت سے بھی رمضان المبارک میں اُمت کی وحدت کا پیغام ملتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ (سورۂ بقرہ:۱۸۳) اس آیتِ مبارکہ میں خطاب پوری اُمت ِ مسلمہ سے ہے۔ ’’اے ایمان والو!‘‘ کے جامع الفاظ کسی ایک قوم یا خطے تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے تمام اہلِ ایمان کو ایک ہی حکم کے تحت جمع کر دیتے ہیں۔ جب پوری اُمت ایک ہی مقصد’تقویٰ ‘کے حصول کے لئے ایک ہی مہینے میں روزہ رکھتی ہے تو دلوں میں یگانگت، فکر میں ہم آہنگی اور عمل میں یکسانیت پیدا ہوتی ہے۔ یوں رمضان نہ صرف عبادت کا مہینہ ہے بلکہ اُمت کی اجتماعی شناخت اور وحدت کا روشن استعارہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیکیوں کے اس موسم کو اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیں

یہی احساسِ وحدت ہمیں ایک عملی پیغام بھی دیتا ہے کہ جس طرح ہم نماز، روزہ اور تراویح میں ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں، اسی طرح ہمیں رمضان المبارک کی ظاہری ضروریات میں بھی  مساوات اور ہمدردی کو فروغ دینا چاہئے۔ عبادت کی یکسانیت کے ساتھ معاشرتی یکسانیت بھی ضروری ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ جو لوگ مالی اعتبار سے کمزور ہیں، ان کی سحری اور افطار کا انتظام  ہماری توجہ اور تعاون سے بہتر ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ہم تو دستر خوان پر فراوانی سے لطف اندوز ہوں اور ہمارے آس پاس کوئی بغیر سحری کے روزہ رہے اور کوئی بھوکا افطار کا انتظار کرتا رہے۔ اس جانب توجہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ رمضان ہمیں صرف بھوک برداشت کرنا نہیں سکھاتا بلکہ دوسروں کی بھوک محسوس کرنا بھی سکھاتا ہے۔ اگر ہم اپنے محلے، گاؤں اور شہر میں ایسے افراد تک پہنچ جائیں جو وسائل کی کمی کے باعث پریشان ہیں اور فراہمیٔ وسائل میں مددگار بن جائیں تو یہ ایسی عملی وحدت ہوگی جو دلوں کو قریب کرے گی اور اُمت کو مضبوط بنائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ماہِ رمضان سوچ کی تربیت کا سب سےاثر انگیز اور عملی مدرسہ ہے

رمضان کے وحدت کے تقاضوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم اپنے اُن مسلمان بھائیوں کی فکر کریں جو کسی غفلت یا کمزوری کی وجہ سے روزے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کے بجائے حکمت، محبت اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھائیں، روزے کی فضیلت اور اس کے روحانی و اخلاقی فوائد سے آگاہ کریں، اور انہیں عبادات کی طرف مائل کریں۔ اگر ہم اس جذبے کے ساتھ رمضان کی برکتوں کو عام کرنے کی کوشش کریں گے تو یقیناً ہماری بستیوں اور معاشرے میں رمضان کی وحدت ایک مثالی صورت اختیار کر لے گی اور ہم حقیقی معنوں میں اس مبارک مہینے کے پیغام کو زندہ کرنے والے بن جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: سحری سے افطار اور تراویح تک ماہِ رمضان کی خوشی کو محسوس کیجئے

چونکہ اس ماہ میں ہم وحدت، اخوت اور ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہو تے ہیں، اس لئے عالمِ اسلام کیلئے دعا کا اہتمام کرنا چاہئے۔ وہ مسلمان جو دنیا کے مختلف خطوں میں پریشانی، ظلم، جنگ اور محرومی کا شکار ہیں، خصوصی دعا کے مستحق ہیں۔ سحر و افطار میں، نمازوں اور خصوصاً تہجد کی ساعتوں میں پوری امت کیلئے گڑگڑا کر دعا کریں کہ اللہ رب العزت مظلوموں کی مدد فرمائے، پریشان حالوں کی پریشانی دور کرے، بھٹکے ہوؤں کو ہدایت دے اور سب کو امن و عافیت عطا فرمائے، تاکہ وہ بھی رمضان کی رحمتوں، برکتوں اور نورانی ساعتوں کو جی سکیں۔ یہی احساسِ وحدت رمضان کا حقیقی پیغام ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK