• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیکیوں کے اس موسم کو اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیں

Updated: February 20, 2026, 5:50 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

اس بات کا انتظار نہ کرے کہ پہلا عشرہ گزرجائے ، اتنے دنیاوی کام نمٹ لیتا ہوں، پھر اس کے بعد خوب عبادت کروں گا۔ ایسا سوچتے سوچتے ایک دن رمضان چلاجاتا ہے اور رمضان ہی نہیں، یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت سوں کی زندگی چلی جاتی ہے لیکن دنیا کے کام کبھی ختم نہیں ہوتے۔

Know that every moment of Ramadan is precious and spend it in prayer, worship, and remembrance. Photo: INN
رمضان کے ہر لمحہ کو قیمتی جانتے ہوئے اسےدعا، عبادت اور ذکر میں گزاریں۔ تصویر: آئی این این

رمضان کے دوسرے اور خاص کر تیسرے عشرہ میں ہمارے پاس ایک بات جو بہت سننے ملتی ہے وہ یہی ہوتی ہے کہ ’ابھی آئے رمضان ابھی چلے گئے‘ یا پھر ’پتہ ہی نہیں چلا، کتنی تیزی سے رمضان گزرگیا۔‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک حدیث شریف کے مطابق قیامت کے قریب کے دَور میں وقت بہت تیزی سے گزرے گا لیکن رمضان کے متعلق ان جملوں میں کچھ ہماری ناقدری کو بھی دخل ہے۔ رمضان کے گزر جانے کے بعد اس افسوس کا اظہار اور پھر آئندہ رمضان میں نیک اعمال کے ذریعہ اس کمی کی تکمیل وہ دائرہ ہے جس میں ہم تاحیات گھومتے رہتے ہیں۔ جبکہ اسلام بر وقت، بر موقع نیک اعمال کرلینے کی اور اپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا خوب ذخیرہ جمع کرلینے کی تعلیم دیتا ہے۔ عرف عام میں جو کہا جاتا ہے کہ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘ بس یہی بات ہر نیک عمل کے لئے ہمیں اپنی گرہ باندھ لینی چاہئے۔ نیک عمل کرنے اور نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرنے کے لئے رمضان سے بڑھ کر او رکون سا موقع ہوسکتا ہے جو اللہ عزوجل نے اپنی خاص رحمت سے ایک مکمل مہینہ نیکیاں بٹورنے کیلئے ہمیں عطا فرمایا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ماہِ رمضان سوچ کی تربیت کا سب سےاثر انگیز اور عملی مدرسہ ہے

سورۃ البقرۃ میں اللہ عزوجل نے رمضان کے روزوں کی فرضیت کا مقصد بیان فرمایا ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تمہار ے اندر تقویٰ پیدا ہو۔‘‘ یہ آیت رمضان کا مقصد، اور ہماری زندگی میں رمضان میں حاصل کرنے کا ہدف کیا ہو واضح کردینے کے لئے کافی ہے کہ وقت رہتے، سانس چلتے، اپنی زندگی میں ایک مسلمان اپنے دل میں تقویٰ پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ ایک مسلمان کو تو یہ سوچ کر خوشی سے پھولے نہیں سمانا چاہئےکہ اللہ عزوجل نے اہل ایمان کے لئے رمضان میں کس قدر مواقع فراہم کئے ہیں کہ بندے اس ماہ ِ مبارک کی گھڑیوں کو صحیح طور پر استعمال کرسکیں۔ بخاری اور مسلم شریف میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے: حضرت ابوہریرہ ؓکہتے ہیں کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اور سرکش جن جکڑ دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اور شر کے طلب گار! رک جا اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں اور ایسا (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔‘‘

یہ سارے اہتمام دیکھ کر ہر مسلمان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع ہے، اور وہ اپنے بندوں کی مغفرت فرمانا چاہتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہی تڑپ بندوں میں بھی ہو۔ تڑپ دکھانے کا سب سے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر مسلمان رمضان المبار ک کی ہر گھڑی کا قدردان بن جائے اور ابتداء سے ہی رمضان میں عبادات میں مشغول ہوجائے۔ اس بات کا انتظار نہ کرے کہ پہلا عشرہ گزرجائے، اتنے دنیاوی کام نمٹ لیتا ہوں، پھر اس کے بعد خوب عبادت کروں گا۔ ایسا سوچتے سوچتے ایک دن رمضان چلاجاتا ہے اور رمضان ہی نہیں، یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت سوں کی زندگی چلی جاتی ہے لیکن دنیا کے کام کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ کسب حلال اور کافی رزق کی کوشش کے بعد اپنا بچا ہوا سارا وقت خاص کر رمضان کی مبارک ساعتیں اللہ عزوجل کی یاداور عبادات میں ہی گزارے۔

یہ بھی پڑھئے: سحری سے افطار اور تراویح تک ماہِ رمضان کی خوشی کو محسوس کیجئے

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس دنیا میں ہر سال تقریباً چھ کروڑ تیس لاکھ لوگ مرتے ہیں۔ مسلمان دنیا کی آبادی کا ۲۵؍ فیصد ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر سال وفات پانے والوں میں تقریبا ایک کروڑستاون لاکھ مسلمان ہوتے ہیں۔ بس یہی عد د یادرکھنا ہے کہ پچھلے سال بھی رمضان آیا تھا اور تب یہ ایک کروڑ ستاون لاکھ حیات تھے، ان کے بھی پیچھے دنیاوی کام کاج تھے، ہم نہیں جانتے ان میں سے کتنے ہوں گے جنہوں نے واقعی رمضان میں نیکیاں کمائی ہوں گی اور کتنے ہوں گے جنہوں نے آج کو کل پر پہلے عشرے کو دوسرے پر، دوسرے کو تیسرے پر اور پھر آئندہ رمضان پر ٹالا ہوگا، وہ رمضان جو ان کے لئے کبھی آیا ہی نہیں۔ پس ان حقیقتوں میں، ان اعداد وشمار میں ہم سب کے لئے نصیحتیں ہیں کہ اللہ کے فضل وکرم سے آج یہ بیش بہا نعمت اگر ہم کو ملی ہے تو ہم اس کی ناقدری نہ کریں اور نیکیوں کے اس موسم کو اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ 

قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے واضح الفاظ میں اس بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ انسان جب نعمتوں کی قدرکرے، ان پر رب کریم کا شکر ادا کرے تو ہمیں مزید نعمتیں عطا ہوتی ہیں۔ اگر نعمتوں کی ناقدری کی جائے، ان کو پامال کیا جائے اور ان پر ناشکری کی جائے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ ’میرا عذاب بڑا سخت ہے۔‘ اسی زوایے پر ہمیں رمضان کی گھڑیاں ملنے پر اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے ہر عمل سے کریں اور اس کی انجام دہی کے لئے رمضان کی ابتداء ہی سے ماحول بنائیں اور اخیر تک اس کو باقی رکھیں۔

یہ بھی پڑھئے: مبارک ماہ کے خصوصی اعمال کی روح باقی رہے!

یہ بہت آسان ہے کہ انسان رمضان کی قدردانی کی نیت کرلے اور اس کے لئے کمر بستہ ہوجائے، اپنی دنیاوی مصروفیات کو پہلے ہی کہہ دے کہ رمضان آگئے ہیں، اب میں مشغول ہوں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ محنت، مشقت اور مجاہدے کے لئے خود کوذہنی اور جسمانی طور پر تیار کرلے۔ اس لئے کہ دنیاوی مشغولیات سے پاک ہو کر بھی اگر رمضان کھانے اور نیند کی نذر ہوگیا تو پھر اسے کیا حاصل ہوا۔ رمضان ہے ہی اپنے آپ کو عبادات میں مشغول کرنے کا نام اور ہر عبادت ہم سے محنت اور ہارڈ ورک مانگتی ہے جبکہ سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہم اکثر عبادات کے اس موسم کا صحیح لطف اور فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ بلاشبہ ایک حدیث شریف کے مطابق’’دین آسانی کا نام ہے‘‘ لیکن یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ اس آسانی کا مطلب ہر گز تن آسانی نہیں۔ یہ تو وہ سنگلاخ راہ ہے جہاں پاؤں کے چھالوں کی فکر نہ کرتے ہوئے فرط شوق اور فرط مسرت سے، بلا کسی شکوہ شکایت کے، چلتے چلے جانا ہے۔ پس اس اصول سے معلوم ہوا کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں ہم لمحہ بہ لمحہ عبادات میں محوہوتے جائیں اور نہ اپنی کوئی خبر ہو نہ دنیا کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عبادت کا مطلب صرف ظاہری اعمال کی کثرت نہیں، باطن کی اصلاح بھی ہے

یہاں ایک بات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ امام بخاریؒ نے اپنی کتاب صحیح البخاری کا آغاز اس حدیث سے کیا ہے کہ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ شریعت اسلامیہ میں ہر کام انسان کی نیت پر ہی منحصر ہوتا ہے۔ آج رمضان کے آغاز میں اگر ہم بھی مخلصانہ عبادات کی سنجیدہ نیت کرلیں، اور اس کیلئے کمر کس لیں تو ضرور ہمارا رمضان بھی ویسا ہی گزرے گا جیسا اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے۔ ایسا رمضان جس کو قیامت میں ہم جب اپنے نامۂ اعمال میں دیکھیں گے تو جھوم جھوم اٹھیں گے اور اس دن تمنا کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش ہم نے زندگی میں اس ماہ مقدس کی ایک گھڑی بھی ضائع نہ کی ہوتی۔ وقت رہتے ہی رمضان کی قدر کرنا اصل کامیابی ہے، وقت گزرنے کے بعد کف افسوس ملنا اور رمضان کی جدائی پر غم کا اظہار کرنا بے فائدہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK